سیاحت دشمن رویوں کا تدارک کیا جائے

سیاحت دشمن رویوں کا تدارک کیا جائے

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

israrگلگت بلتستان پاکستان کے شعبہ سیاحت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف ٹورز کے جنرل سیکریٹری نیک نام کریم کا 22 جون 2015 کو رونما ہونے والے سا نحہ ننگا پر بت کے بعد میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں بیان کئے گئے اعدادو شمار) جن کا ذکر راقم نے اپنے ایک کالم میں بھی کیا تھا( کے مطابق” 9/11 سے پہلے گلگت بلتستان میں ہر سال 20 ہزار سے زائد غیر ملکی سیاح آتے تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق ایک سیاح گلگت بلتستان میں اپنے قیام کے دوران تین ہزار اڈالر خرچ کرتا تھا۔ 9/11 سے پہلے فی ڈالر کی قیمت 50 روپے لگا دی جائے تو اس وقت ایک سیاح علاقے میں ایک لاکھ پچاس ہزار خرچ کرتا تھا۔ یہ صرف عام سیاحوں کا ذکر ہے ۔ کوہ پیمائی کی مہم پر آنے والا فی سیاح 8 ہزار ڈالر تک خرچ کرتا تھا اس حساب سے یہ رقم دوگنا ہو جاتی تھی ۔ 9/11 کے بعد پاکستان کے حالات دیگر گوں ہو گئے جس کے نتیجے میں سیاحوں کی آمدکا سلسلہ بند ہوا اس کے باوجود گلگت بلتستان میں سا لانہ 5 ہزار غیر ملکی سیاح آتے تھے جو کہ گلگت بلتستان پر اسی حساب سے سالانہ 75 کروڑسے ایک ارب روپے خرچ کر کے جاتے تھے ۔2007ء کے بعد چین ، روس ، مشرقی یورپ سمیت کچھ ممالک کے سیاح بھی گاہے بگاہے آتے تھے۔ بعد ازاں ڈالر کی قیمت بڑھ جانے کے بعد ایک عام سیاح اگر تین ہزار ڈالر یعنی 3لاکھ روپے یہاں خرچ کرتا تھا تو مہم پر آنے والا سیاح 8 لاکھ روپے تک کی رقم خرچ کرتا تھا۔ اس حساب سے 9/11 بعد سالانہ جو 5ہزار غیر ملکی عام سیاح گلگت بلتستان آتے تھے وہ مجموعی طور پر ایک ارب 50 کروڈیہاں خرچ کر کے جاتے تھے ۔ سا نحہ نانگا پربت سے قبل 50 کوہ پیماؤں کی ٹیموں کا گلگت بلتستان آنے کا امکان تھا اگر ایک ٹیم 10 کوہ پیما ؤ ں پر مشتمل ہوتی تو 5 سو کوہ پیماء گلگت بلتستان آجاتے۔ فی کوہ پیماء 8 ہزار ڈالر کا حساب لگائیں تو یہ کو ہ پیماء 50 کروڈ کے لگ بھگ یہاں خرچ کرتے جبکہ عام سیاح 5 ہزار کی تعداد میں آجاتے تو ان کی یہاں خرچ کردہ رقم ایک ارب پچاس کروڑ ہو جاتی یعنی مجموعی طور پر گلگت بلتستان کو دو ارب روپے سیاحت کی مد میں آمدنی حاصل ہو جاتی ۔سانحہ نانگا پر بت ایسے وقت میں رونما ہوا جب گلگت بلتستان میں سیاحت کا موسم شروع ہوا تھا ۔ نانگا پربت کے سانحے کے بعد اسی پہاڑ پر مہم جوئی کرنے والے سربیا ، اٹلی ، ڈنمارک اور امریکہ کے 40 سے زائد سیاحوں کو وہاں سے نکال کر ان کے ممالک کی طرف روانہ کر دیا گیا جبکہ تمام سفارخانے اس واقعے کے بعد متحرک ہوگئے اور اپنے اپنے ممالک کے جی بی میں موجود سیاحوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی سرگرمیاں ترک کر کے اپنے ممالک کی راہ لے لیں، جو10مہم جو ٹیمیں گلگت بلتستان آنے والی تھیں وہ اس واقعہ کے بعد نہیں آسکیں اس واقع کے بعد عام غیر ملکی سیاحوں کا گلگت بلتستاں آنا بند ہوا۔ اس طرح 9/11 کے بعد سکڑی ہوئی سیاحت کی صنعت ،سانحہ ننگا پربت کے بعد گلگت بلتستان میں آخری نہج تک پہنچ گئی جو کہ علاقے کے لاکھوں افراد کا پیٹ پالنے کے علاوہ علاقے میں ایک خطیر رقم کی ترسیل کا باعث بھی تھی ۔بظاہر سانحہ ننگا پر بت کے مقا صد میں چین کے ساتھ دوستی خراب کرنا ،پاکستان کا بین الاقوامی امیج کو داغ دار کرنا اور قراقرام ہائی و ے کو خوف کی علامت بناناشامل تھا مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سانحہ کا پہلا ٹارگٹ گلگت بلتستان کی سیاحت تھی۔ 

کیونکہ غیر ملکی سیاحوں کی گلگت آمد رک جانے کے بعد اس علاقے میں روزگار کی سب سے بڑی صنعت یعنی سیاحت سے وابستہ افراد شدید ذہنی کوفت میں مبتلا تھے۔خاص طور سے وہ افراد جنہوں نے قر ضے لیکر ہوٹل بنائے تھے یا سیاحوں کی آمد و رفت کے لئے گاڈیا ں خریدی تھیں۔کئی لوگ دیوالیہ ہو گئے تھے اور بیشتر لوگوں نے اس شعبے کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ ایسے میں قدرت ان لوگوں پر مہر بان ہو گئی اور 2014 کے بعد اچانک اندرون ملک سے لاکھوں سیا حوں نے ان علاقوں کا رخ کر لیا۔ جس کے نتیجے میں 2014 اور 2015 کے موسم گرما میں گلگت بلتستان کے تمام ہوٹل بھر گئے اور لوگوں نے اپنے رہائشی مکانات خالی کر کے ان کو ہوٹل بنا لئے۔ بازاروں اور ماکیٹوں سمت تمام سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا بے پناہ رش دیکھنے میں آیا۔وہ لوگ جو دو سال قبل سیاحت ختم ہونے کا رونا روتے تھے اب ان کی چاندی ہو گئی اور لوگ گھر کی دہلیز پر فروٹ ، کشیدہ کاری کا سامان اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء بیچ کے مناسب پیسے کمانے لگے۔2014 میں غیر ملکی سیاحوں کی جگہ اندرون ملک سے آنے والے سیاحوں نے لے لی اور9/11 اور سانحہ ننگا پر بت کے بعدآخر ی سانسیں لینے والے شعبہ سیاحت میں دوبارہ جان آگئی اور کئی لوگوں نے روزگار کے لئے دوبارہ اس شعبے کا رخ کر لیا جس کی وجہ سے مقامی سطح پر اس شعبے سے وابستہ افراد نے سکھ کا سانس لیا۔2014 کا سال خیر سے گزرا مگر 2015 میں سیاحوں کے بے پناہ رش نے یہاں کے لوگوں کی نیتوں میں فطور پیدا کیا۔ کئی ہوٹل ما لکان نے سیاحوں کی خاطر مدارات دونوں ہاتھوں سے ان کو لوٹ کرکیا ۔ ایک ہوٹل مالک کے حوالے سے یہ شکایت آئی کہ انہوں نے 2 ہزار کا کمرہ ایک رات کے لئے 20 ہزار میں دے دیا۔ ہوٹلنگ کے تمام اصول و ضوابط کو روندتے ہوئے پہلے سے ریزرو کرائے گئے کمروں کی ریزرویشن منسوخ کر کے نئے آنے والے گاہک کو مہنگے ریٹس پر کمرے دئے گئے۔ کھانوں کی ریٹس آسمانوں کو چھونے لگیں۔ دکانداروں نے سیاحوں کو دیکھتے ہی چھریاں تیز کر دی اور من پسند قیمتوں پر اشیا فروخت کر نے لگے۔غرض ریڑھی بانوں سے لیکر دکاندار وں اور ہوٹل مالکان تک سب نے اپنے اپنے حصے کی بد عنوانی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڈی۔ یہاں تک کہ سیاحوں نے پولیس کے رویوں کی بھی شکایت کی۔ تلاشی کے نام پر کئی مواقعوں پر سیاحوں کو تنگ کیا گیا۔ ایسا ہی ایک واقعہ راما فیسٹیول کے دوران پیش آیا جس کے گواہ گلگت کے ایک سنےئر صحافی منظر شگری اور دیگر لوگ ہیں جنہوں نے بعد ازاں ایس پی کے پاس متعلقہ پولیس اہلکار کی شکایت بھی کی اور ان کو سزا دلائی جس پر سیاحوں نے صحافی کا شکریہ ادا کیا۔
سیاحوں نے کے کے ایچ پر تلاشی کے لئے جگہ جگہ روکنے اور سیکورٹی کے نام پر مسافر گاڈیوں کی کنوائے بنوا کے راوالپنڈی سے گلگت کا 16 گھنٹے کا سفر 24 گھنٹے پر مشتمل بنانے کی بھی شکایت کی۔ اسی طرح موسم کی خرابی کے باعث فلائٹس نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی دنوں تک فلائٹس کا انتظار بھی سیاحوں کو اذیت دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ سیاحوں کی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لئے کوئی سیل نہ ہونے کی وجہ سے سیاح رلتے رہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ ٹرانسپوٹر ز اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھی سیاحوں کی جیبیں خوب صاف کر لیں۔ اسی طرح جو سیاح اپنا محدود بجٹ بنا کر گھومنے کی غرض سے آئے تھے ان کو اپنے منصوبے کے مطابق جو مخصوص جگہیں دیکھنی تھیں وہ دیکھے بغیر واپس لوٹنا پڑا۔کئی سیاحوں کے ساتھ گاڈیوں کے ورکشاپس میں بھی ہاتھ ہوگیا۔ بعض علاقوں میں لوگوں کے رویے
سیاحوں کے ساتھ اچھے بھی رہے مگر وہ ان کا ذاتی رویہ تھا حکومتی سطح پر ان تمام لوگوں کو کسی قانون یا اصول کے ماتحت نہیں رکھا گیا تھا۔
پاکستان کے دیگر سیاحتی مقامات سے بھی کم و بیش ایسی ہی شکایات آتی رہیں جہاں سیاحوں کو تفریح کی بجائے ذہنی کوفت کا سامنا رہا۔ مذکورہ صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اگلے سیاحتی موسم کی آمد سے قبل وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاحوں کی آسانی کے لئے باضابطہ پالیسی بنائی جائے۔ گلگت بلتستان میں اس کی ضرورت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہاں کے لوگوں کی اکثریت کا روزگار اس شعبے سے وابسطہ ہے اور پاکستان میں سیاحت کا 75 فیصد حصہ گلگت بلتستان کا ہے۔ ایک ایسی مو ثر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت ہوٹل مالکان، دکانداروں، ٹرانسپوٹرز سے لیکر عام لوگوں تک سیاح دوست رویوں پر عمل کرنے کا پابند کیا جائے۔ جگہ جگہ سیاحوں کی مدد کے لئے ہیلپ لائن قائم کی جائے تا کہ سیاح اپنی شکایات درج کرا سکیں اور انتظامیہ اس کا حل نکال سکے۔انتظامیہ من پسند قیمتیں وصول کرنے والوں کو سزا دے سکے۔ بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لئے ویزا کی آسان سہولت اور بہتر سفری ماحول فراہم کیا جائے۔ یہ بات زہن میں رہے کہ سیاحت صرف آمدنی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں، زبانوں، عقیدوں اور تہذیبوں کا آپس میں میل جول بھی ہے۔ سیاحت خوشحالی اور امن کا ضامن بھی ہے لہذا ا س شعبے کی طرف توجہ دینا لازمی ہے۔سیاحت دوست رویوں کے فروغ کے لئے عوام میں آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ لوگ سیاحت کی افادیت سے واقف ہو سکیں اور سیاحوں کی آسانی کے لئے اپنا کر دار ادا کر سکیں اور سیاحت کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments