گلگت بلتستان حکومت اساتذہ کےمسائل حل کرنے اور نظام تعلیم کی بہتری کے لئے کوشاں ہے، وزیر اعلی

گلگت بلتستان حکومت اساتذہ کےمسائل حل کرنے اور نظام تعلیم کی بہتری کے لئے کوشاں ہے، وزیر اعلی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

3

گلگت( فرمان کریم) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سلام ٹیچر ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ماضی میں اساتذہ کو مسائل کا سامنا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار میں آتے ہی اساتذہ کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی ہے۔اس تقریب میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مہمان خصوصی تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے حکومت نے اساتذہ کے جائز مطالبات پورے کئے۔ 518 اساتذہ کو گریڈ 14سے ترقی دے کر گریڈ 16میں، گریڈ 16کے 920اساتذہ کو ترقی دے کر گریڈ 18میں ،76اساتذہ کو گریڈ 18سے گریڈ 19میں ترقی جبکہ گریڈ18سے گریڈ 20میں ترقی دی گئی ہے۔ تاکہ آگے تعلیم کے نظام میں بہتر ی لایا جاسکے۔ یہ بھی ہمارے 100دنوں کے پلان کا حصہ تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے پر ائمری ایجوکیشن کو خواتین کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے پرائمری ایجوکیشن میں بچے مرودں کی نسبت خواتین سے زیادہ سکھنے کا موقعہ ملے گا ۔اور پرائمری ایجوکیشن میں بہتری کے ساتھ خواتین کو ملازمت ملے سکے۔اُنہوں نے کہا کہ ہماری حکومت جمہوری حکومت ہے۔ ہم عیاشوں کے لئے حکومت میں نہیں آئیں ہیں۔ سابق دور حکومت میں سرکاری وسائل اپنے ذات پر خرچ کئے تھے۔ ہم نے اپنے مراعات میں کمی کئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ اور گورنر نے پروٹوکول میں ڈاکٹرز اور الیمبولنس کو ہسپتال کے سپرد کئے ہیں۔ ہم نے احتساب اپنے ذات سے شروع کئے ہیں۔ہماری حکومت آپ کی ووٹوں سے بنی ہے۔ آپ ک فرض بنتا ہے کہ حکمرانوں سے پوچھے اور گربیاں میں ہاتھ ڈالے۔ہم اُن لوگوں میں سے نہیں ہیں کہ تنقید برداشت نہ کرسکے۔

اُنہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن اساتذہ وعدہ کریں کہ وہ معاشرے تعلیم کی بہتری کے اپنے اپنا فرض ادا کریں۔ اساتذہ اپنے مسائل لے کر ہمارے پاس آتے ہیں ۔ لیکن دور دراز کے علاقوں میں ڈیوٹی دینے سے قاصر ہیں۔ گاؤں میں اساتذہ ڈیوٹی نہ دینے سے گاؤں کے سکولوں بند ہیں جبکہ شہر کے سکولوں میں حد سے زیادہ اساتذہ ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ہم نے ایک پالیسی مرتب کی ہے اساتذہ کو اس پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اگر کوئی اساتذہ اس پالیس پر عمل نہیں کرسکتا ہے تو اُ س کے خلاف کاروائی ہوگی۔ ایک ماہ کے اندر اس پالیسی پر عمل ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گلگت بلتستان میں 10کروڑ کی لاگت سے انڈرومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ گلگت بلتستان کے مستحق طلبا وطالبات کی تعلیمی اخراجات میں امداد کی جاسکے۔ وفاق نے گلگت بلتستان کو 200ارب کے فنڈ دیے ہیں۔ اگلے پانچ سالوں میں ان 200ارب کی لاگت سے ہونی والی ترقیاتی عملسے گلگت بلتستان کی تقدیر بدل جائے گی۔1

 

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہد اساتذہ کا پیشہ پیمغبرانہ ہے۔اساتذہ اپنے شاگروں کے لئے رول ماڈل ہونا چاہیے۔ اگلے سال سے سرکاری سکولوں میں 90فی صد بچوں کا داخلہ ہونا چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے 90فی صد بچے پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کو سرکاری سکولوں میں لانا اساتذہ کا ذمہ داری ہے۔ صوبائی حکومت محکمہ تعلیم کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ محرم الحرام کے بعد محکمہ تعیلم کو گاڑیاں دیے جائیں گے اور نامکمل سکولوں کی عمارتیں مکمل کئے جائیں گے۔ اساتذہ کے 25/ الاونس پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اساتذہ تعلیم کے ساتھ بچوں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔

2

سیپ اساتذہ کے بارے میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے تقریب میں کہا کہ سیپ اساتذہ کا مقد مہ لڑ رہے ہیں۔ انشااللہ سیپ اساتذہ جلد خوش خبریُ سنیں گے۔ سیپ اساتذہ کا معاملہ وزیراعظم تک پہنچایا ہے۔ جو ہی وفاق سے فنڈ ملیں گے تو سیپ اساتذہ کی تنخواہ 10سے 15 ہزار بڑھادیں گے۔ اور سیپ سکولوں کو گورنمنٹ کے ستاھ شامل کرینگے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے کہا کہ آیندہ اساتذہ کی ترقی کارکردگی کی بنیادی پر ہوگی۔ ماضی کی طرح کسی اساتذہ کو کسی سیاسی ، مذہبی اور علاقائی پارٹی کا ترجمانی کرنے نہیں دیں گے۔ محکمہ تعلیم میں سزا وجزا کا نظام لائیں گے۔ اچھے کارکردگی نہ دکھانے والے اساتذہ کو ٹرانسفر کرینگے، تقریب میں سکرٹیری تعلیم خادم حسین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر بچوں نے مختلف خاکے اور ٹیبلو بھی پیش کئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔