بینکنگ کورٹ آف گلگت بلتستان نے عطاآباد جھیل کے تین متاثرین کو زرعی ترقیاتی بینک کے قرضے ادا نہ کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا

بینکنگ کورٹ آف گلگت بلتستان نے عطاآباد جھیل کے تین متاثرین کو زرعی ترقیاتی بینک کے قرضے ادا نہ کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

jail-celljpg-128661fac199b895گوجال( فرمان کریم) بینکنگ کورٹ گلگت بلتستان نے زرعی ترقیاتی بنک نے عطا آباد جھیل کے تین متاثرین کو گرفتار کروا کے جیل بھیج دیا۔ ہفتے کے روزہ مفرور ناہندہ علی نظر ساکن مورخون گوجال، دیدار علی ساکن چپورسن اور امین الدین ساکن چپورسن کو بینکنگ کورٹ میں پیش کیا گیا جس پر بینکنگ کورٹ کے جج نے ناہندہ گان کو جیل بھیج دیا گیا۔ ان افراد پر بینک سے قرضہ لے کر جمع نہ کرنے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ سانحہ عطاآباد کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے اپنے دورہ گوجال کے موقع پر ہنزہ کے بالا ئی تحصیل گوجال کو آفت زدہ قرار دیا تھا۔ اوربینک کے ہر قسم کے قرضہ جات اور بجلی کی بلات کو معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود اس اعلان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اور کافی عرصہ سے زرعی ترقیاتی بینک اور محکمہ برقیات نے متاثرین کو تنگ کرنا شروع کیا۔ آفت زدہ قرار دینے کے باوجود بینک کی طرف سے متاثرین کے خلاف کاروائی سے متاثرین تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

پانچ سال سے گوجال کے 30ہزار افرادمسائل کا شکار رہے ہیں۔ متاثرین نے زرعی ترقیاتی بینک اور بیکنگ کورٹ کے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہمارے خلاف کاروائی کا آغاز کیا تو شاہراہ قراقرم کو مکمل طور پر بند کرینگے۔ جس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ اور اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داریاں زرعی ترقیاتی بینک اور محکمہ برقیات پر عائد ہوگی ۔متاثرین نے گورنر گلگت بلتستان برجیس طاہر، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن، چیف سکرٹیری گلگت بلتستان سید طاہر حسین ، فورس کمانڈر گلگت بلتستان نے اپیل کی ہے کہ سابق دور حکومت میں کئے گئے اعلان پر عمل درآمد کیا جائے اور بینک  کے تما م قرضہ جات و بلات معاف کیے جائیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔