ایون میں واقع سنجریت نامی جنگل میں آگ لگنے سے دیودار کے سینکڑوں درخت جل کر خاکستر ہو گئے 

ایون میں واقع سنجریت نامی جنگل میں آگ لگنے سے دیودار کے سینکڑوں درخت جل کر خاکستر ہو گئے 

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( بشیر حسین آزاد ) چترال کے خوبصورت گاؤں ایون کے جنگل سنجریت میں آگ لگنے سے سینکڑوں دیودار کے درخت جل کر خاکستر ہو گئے ہیں ۔ اور جنگل میں لگی آگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ چترال شہر سے پچیس کلومیٹر دور ایون کے جنگل میں گذشتہ روز آگ لگی ۔ جس نے بتدریج ایک بڑے علاقےکو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اور کئی درخت جل کر نیچے گرنے سے آگ کے انگارے دور دور تک بکھر کر جنگل کی آگ میں اضافے کا سبب بنے ۔ اور یوں جنگل کا ایک بڑا حصہ اس آگ کی لپیٹ میں آگیا ہے ۔ ایس ڈی ایف او چترال محمد آصف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ۔ کہ جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں دیودار کے درختوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ تاہم متاثرہ درختوں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں۔ بلکہ بارہ درخت آگ لگنے سے جل گئے ہیں ۔ محکمہ فارسٹ کے سات اسٹاف اور مقامی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد جنگل میں آگ بجھانے میں مصروف ہیں ۔ اُن کے مطابق آگ قابو میں ہے ۔ تاہم ایک بڑے درخت کے جل کر گرنے کا انتظار ہے ۔ اور آگ بجھانے والوں نے اُن کے انگاروں اور شعلوں کو کنٹرول کرنے کیلئے دائرے کی شکل میں خندق کھود لی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آگ کمپارٹمنٹ نمبر 5جنگل سنجریت میں لگی ہے ۔ جبکہ اس سے دو دن پہلے اسی جنگل کے کمپارٹمنٹ نمبر 2میں بھی آگ لگی تھی ۔ جسے ایس ڈی ایف او کے مطابق بجھا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے آگ لگنے کی ذمہ داری مقامی کمیونٹی کے افراد پر ڈالتے ہوئے کہا ۔ کہ حالیہ دنوں میں علاقے کے افراد چلغوزہ جمع کرنے اور جلانے کی لکڑی کاٹنے کے لئے جنگل سنجریت آتے ہیں اور جنگل میں آگ جلاکر خوراک وغیرہ تیار کرتے ہیں ۔ اور جاتے ہوئے آگ کو بجھانے میں غفلت کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آگ بتدریج جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ اور یہ واقعہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ غفلت کے مرتکب افراد کی تفتیش کی جارہی ہے ۔ جن کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ۔ واضح رہے ۔ اسی جنگل میں اس سے قبل بھی غفلت یا دانستہ طور پر کئی مرتبہ آگ لگ چکی ہے ۔ اور اس جنگل کے ہزاروں دیودار کے درخت اب تک آگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ یہ واقعات مقامی کمیونٹی کی بے حسی اور محکمہ فارسٹ چترال کی نااہلی کی وجہ سے بار بار رونما ہورہے ہیں ۔ اور ایسے قومی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے کوئی کاروائی ابھی تک نہیں کی گئی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔