چراگاہ تنازعہ کی وجہ سے شگر میں دو گروہوں کے درمیان تصادم، انتظامیہ کی بروقت مداخلت سے معاملہ سنبھل گیا

چراگاہ تنازعہ کی وجہ سے شگر میں دو گروہوں کے درمیان تصادم، انتظامیہ کی بروقت مداخلت سے معاملہ سنبھل گیا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)اے سی شگر اور سابق ممبر ضلع کونسل کی بروقت کاروائی کی وجہ سے شگر کیاہونگ میدان جنگ بنتے بنتے رہ گیا۔ دو موضعات کے درمیان چراہ گاہ تنازعہ کی وجہ سے لڑائی اور پتھراؤ سے ایک خاتون اور شخص زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق شگر کے مضافاتی گاؤں کیاہونگ اور توٹ کھور کلان کے درمیان انٹر کالج کے ساتھ واقع چراہ گاہ کی ملکیت اور چرائی کے حقوق کے لئے تنازعہ چل رہا تھا تاہم گزشتہ دنوں ڈی سی شگر کی ہدایت پر تحصیلدار شگر نے فریقین کو موقع پر بلا کر مصالحت کی تھی۔  گذشتہ صبح توت کھور کلان کے لوگوں نے مویشیاں لیکر متعلقہ چراہ گاہ پر جانے کی کوشش کی جس پر کیاہونگ کے لوگوں نے مزاحمت کرتے ہوئے انہیں چراہ گاہ تک جانے سے روکنے کی کوشش کی جس کی نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیاں پتھراؤ کا تبادلہ ہوا۔جس کے نتیجے میں ایک بوڑھی عورت اور ایک شخص کے سر پھٹ گئے۔ پولیس نے شیلنگ کرتے ہوئے لوگوں کو ہٹا دیا لیکن مشتعل افراد پھر آمنے سامنے ہوگئے۔ اسی اثناء اسسٹنٹ کمشنر شگر ذاکر حسین اور سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل شگر حاجی وزیر فدا علی موقع پر پہنچ گئے اور لڑائی کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا اور فریقین کے پانچ پانچ افراد کو تصفیے کیلئے ڈی سی آفس بلالیا ۔

ڈپٹی کمشنر شگر رحمان شاہ نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد تنازعے کی مکمل تصفیے ہونے تک توت کھور کلاں کو مویشی لے جانے اور دونوں فریقین کو آپس میں پابندکرایا۔جس کے بعد لوگ وہاں سے منتشر ہوگئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔