ہنزہ میں جلوس کے معاملے کو مقامی برادریاں حل کرسکتی ہیں، نگر سپریم کونسل مداخلت سے گریز کرے: کلب علی

ہنزہ میں جلوس کے معاملے کو مقامی برادریاں حل کرسکتی ہیں، نگر سپریم کونسل مداخلت سے گریز کرے: کلب علی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے صوبائی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر و سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی حلقہ نمبر5نگر کلب علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ضلع ہنزہ میں جلوس عاشورہ محرم کے حوالے سے تمام تر معاملات کو شیعہpic (12) اسماعیلی اور اثناء عشری برادری قدیم الایام سے موجود ہے تمام تر فیصلے اپنے خونی رشتوں اور باہمی روادری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کریں یہ امر خوش آئند ہے کہ متذکرہ ہر دو برادریاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور زی فہم ہیں ان سے امید کی جاتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ہنزہ کی مذہبی ، سماجی و سیاسی قیادت پرامن فضاء کو مکروہ ہونے سے بچانے کیلئے صبر و تحمل سے کام لیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہنزہ میں جلوس عاشورہ محرم کے حوالے سے حسینہ سپریم کونسل نگر رضا کارانہ ثالثی یا مداخلت سے گریز کرے اور معاملے کو ہنزہ کے شیعہ اور اسماعیلی برادری کو اپنے طور پر حل کرے۔ البتہ اسماعیلی برادری یا ضلعی انتظامیہ سپریم کونسل نگر سے ثالثی کردار کیلئے رابطہ کرے تو دو برادریوں میں صلح کیلئے اپنا کردار ضرور ادا کرے۔

انہوں نے ہنزہ کے شیعہ اثناء عشری برادری بالخصوص اسماعیلی برادری سے بالعموم اپیل کی ہے کہ ہنزہ کے مثالی امن پسندی اور باہمی روادری کے اوصاف کے ذریعے حالات اور معاملات کو بگڑنے سے بچائے دونوں برادریوں کا یہ عمل پورے خطے کیلئے باعث مسرت ہوگا اور ہنزہ کے حوالے سے امن و سکون کی بین الاقوامی شہرت قائم رہے گی اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔

کلب علی نے مزید کہا کہ عاشورہ محرم کا جلوس پورے یورپ، امریکہ اور ہمسایہ ملک چین میں بھی برآمد ہوتا ہے۔ اگر ہنزہ کے اسماعیلیوں کو حضرات امام حسین ؑ کے جلوس کے برآمد ہونے پر عذر و اعتراض ہوسکتا ہے تو اس اعتراض کو دور کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ علی آباد مسجد علی سے جلوس برآمد کرکے اختتام گنش کلاں میں کرنے بندوبست پر اسماعیلی برادری کو راضی کرنے کی ضرورت ہے اوقات جلوس میں تبدیلی کے عمل سے عاشورہ کا جلوس 12بجے تک علی آباد بازار سے نکل جائے گا اور دوپہر شام تک علی آباد مارکیٹ کھولنا بھی ممکن ہوگا اور جلوس کے ساتھ دوپہر شام تک ڈورکھن ، گرلت اور گنش کے حدود میں جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے صوبائی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ علی آباد ہنزہ میں عاشورہ کے جلوس کا معاملہ سرکاری طاقت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے فریقین کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرے۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔