دشواریوں سے ہو نہ سکا دل میں کچھ ملول

دشواریوں سے ہو نہ سکا دل میں کچھ ملول

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر ڈاکٹرفرمان علی سعیدی شگری

کربلا میں جہاں علم و معرفت ، مناجات و عبادت ، عشق و محبت ، الفت و رأفت ، احسان و مروت ، صبر و شہامت ، حلم و شجاعت ، رفق و صداقت ، ایثار و سبقت و غیرہ کے لا ساحل سمندر موجزن ہیں ، وہیں پر شوق شہادت کا دریا بھی ٹھاٹھیں مارتا ہوا نظر آتا ہے ، ترقی کی دنیا میں ، مقام و منصب کی لا لچ میں تو اہل زمانہ نے بے تحاشا انسانوں کو ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہوئے دیکھا ہوگا لیکن موت کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگانا یا تیر و سنان کو لقمہ بنانا تلواروں کے رن بن میں کود پڑنا یہ ایسی مثالیں ہیں کہ جہاں تاریخ بھی خاموش نظر آتی ہے مگرہمارا سلام ہوفاطمہ زہرا(ع) کے جانثاروں پر کہ جہاں دلاوران عصر گٹھنے ٹیک دیتے ہیں اور بڑے بڑے پہلوان جان بچا کر بھاگ نکلتے ہیں وہاں پر وہ اپنی ثابت قدمی کے ذریعے نامی گرامی شہسواروں اور جنگجووں کے درمیان اپنا لوہا منواتے ہیں۔ 

کربلا ، انسانی تاریخ کا ایسا شاہکار ہے جہاں ہر فرد دوسرے پر سبقت لیتا ہوا نظر آتا ہے؛ لیکن زندگی کے لئے نہیں بلکہ موت کو گلے لگانے کے لئے، حیات کے لئے نہیں بلکہ خنجروں اور بھالوں سے کھیلنے کے لئے ، مقام ومنصب کے لئے نہیں بلکہ خود کوصفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے تاکہ دنیا کو پیغام دے سکیں جینا تو حق پر جینا اور مرنا تو حق پر:

مرنا سبق لیا ہے یہ دلبر علی ؑ سے
عزت کی موت بہتر ذلت کی زندگی سے

سن 60 ہجری میں جب دورۂ جاہلیت دوبارہ اپنی منزل پر مستحکم ہو چکا تھا ، فسق و فجور ، کفر و ضلالت ، بے حیائی و بے رحمی کا دور دورہ ہو چکا تھا ، جب کفر مسلمانی روپ میں آکر مرکز اسلام پر حکومت کر رہا تھا اور اس کے حکم پر محافظان دین اسلام اور عترت خیر الانام کو منبروں سے گالیاں دی جا رہی تھیں ، حامیان دین اور محبان اہل بیت کو تہہ تیغ کر کے ان کے گھروں کو لوٹا جا رہا تھا ، ظلم و بربریت اسلامی حاکموں کا شیوہ بن چکا تھا ، دشنام و بد گوئی کی تاب نہ لا کر جب ممبروں کی صدائے ہل من ناصر ینصرنا بلند ہو چکی تھی، جب قرآن اپنے قوانین وضوابط کو پامال ہوتے دیکھ کر ہل من مغیث یغیثنا کی فریادیں بلند کر رہا تھا، جب احکام شرعیہ اپنا برعکس استعمال ہونے پر ہل من ذاب یذب عنا کا نعرہ لگا رہے تھے ، جب ویران گھروں سے یتیم بچوں اور بیواؤں کی دلخراش چیخیں تا بفلک گونج رہی تھیں ، جب عدوان و طغیان کی بھیانک گھٹاؤں سے گلی اور کوچے بھی واویلا کی بانگ لگا رہے تھے؛ لیکن کسی کو ان کے خلاف بولنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کسی کے اندر اتنی ہمت تھی کہ وہ وقت کے فسّاق اور فجّار کے سامنے اعتراض آمیز چند جملے کہہ سکے ، کوئی نہیں تھا جو ان مظلوموں کی فریاد و فغاں کو اپنی آواز انصاف سے خاموش کرتا ، کوئی نہیں تھا جو اسلام کے اصول و فروع اور اساس و بنیاد کو خزاں میں 

بھی استوار رکھنے کے لئے اپنے خون سے کشت اسلام کی سینچائی کرتا ، جب کشتیِ دین کفرو ضلالت کے بھنور میں منڈلا رہی تھی کہ کوئی نا خدا نہ تھا جواسے ساحل سے لگاتا ، جب نور اسلام فساد و فحشاء کے تھپیڑوں سے بجھ رہا تھا کوئی فانوس نہیں تھا جو بجھنے سے بچاتا ، ایسے بھیانک ماحول میں سبط رسول خدا( ص) ، سید شباب اہل الجنہ ، حضرت امام حسین علی علیہ السلام اصلاح امت کے لئے مدینہ سے خارج ہوتے ہیں ، نکلنے سے پہلے اپنے بھائی محمد حنفیہ سے فرما رہے ہیں:’’میں خود پسندی و گردن کشی اور فساد و بیدادگری کے لئے نہیں نکلا ہوں بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے قیام کرناچاہتا ہوں کہ لوگوں کو نیکی کا حکم دوں اور برائیوں سے روکوں اور میں چاہتا ہوں کہ رسول اللہ ؐ اور علی مرتضیٰ ؑ کی سیرت پر چل کر لوگوں کو عملی درس دوں۔‘‘

پھر نانا اور بابا کی سیرت کا ایسا عملی درس معرکہ کربلا میں پیش کیا کہ ازل سے حال تک تاریخ اس کا بدل پیش کرنے سے قاصر رہی اور حال سے ابد تک بھی قاصر ہی رہے گی ۔ عجیب منظر تھا ایک طرف ظلم و ستم کی انتہا ہو رہی تھی تو دوسری طرف صبر و شکیبائی کی تلقین ، ایک طرف تیر و سنان کی بارش ہو رہی تھی تو دوسری طرف اعضاء و جوارح سے استقبال ، عجیب خوفناک سماں تھا ، دشت کربلا کانپ رہا تھا ، ارض و سما بھی لرز رہے تھے اور جمادات و نباتات حیران تھے۔ ارواح انبیاء میں کہرام مچ گیا ’’حسین!تیری ہمت کو ہمارا سلام ہو‘‘ ، ملائکہ کے درمیان ہل چل مچ گئی ’’حسین! تیرے صبر و حلم کو ہمارا سلام ہو‘‘، جن و بشر کے درمیان ہمہمہ چھا گیا’’حسین!تیری رفعت کو ہمارا سلام ہو‘‘ ، وجد کاعالم شروع ہوا ، مینائے محبت چھلک اٹھی ’’معبود سب کچھ تیرے لئے ہے، اپنا جینا مرنا تیری رضا کے لئے ہے، مصائب و آلام کی مجھے پرواہ نہیں، قتل وغارت کا خوف نہیں، مجھے فقط تیری رضا چاہیے، اگر تو راضی ہے تو پھر دنیا ناراض ہو کر کیا کرے گی لیکن اگر تو ہی ناراض ہوجائے تو پھر دنیا راضی ہو کر کیا کرے گی‘‘،آغوش محبت وا ہوئی، فرط مسرت چھا گئی ، دیدار کے لمحے قریب ہوئے، آواز قدرت آئی ’’آ!تو میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا ، آ!تو میری جنت میں چلا جا ۔‘‘ 

لوگ سمجھ رہے تھے کہ اگر حسین ؑ کو گھیرگھار کر نینوا کے دشت میں کئی دن بھوکا پیاسا رکھ دیں گے تو وہ اپنے ارادے سے پلٹ جائیں گے مگر:

دشواریوں سے ہو نہ سکا دل میں کچھ ملول
کانٹوں کو تیرے عزم نے سمجھا ہمیشہ پھول 

وہ لوگ یہ بھول گئے تھے کہ حسین ؑ آغوش رسولؐ کے پروردہ اور شیر خدا کے شیر ہیں، مشکلات سے ڈٹ کر سامنا کرنا ان کا شیوہ ہے ، انجام کار خود تو خندہ رو اور ہشاش بشاش ہو کر ہنستا مسکراتا چلے گئے ؛ لیکن رہتی دنیا کو اپنے سوگ میں تا قیام قیامت رلا گئے۔ آج بھی ہر در و دیوار اپنے مکینوں کو خطاب کرتے ہوئے، اشیائے کائنات اپنے ذرات کی توجہات کو مدنظر رکھتے ہوئے،آفتاب ومہتاب اپنے بود و باش کو مورد توجہ دیتے ہوئے، اس گیتی کی ہر ہستی اپنی سماعتوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ’’حسین ؑ حسین ؑ ‘‘ کی آواز دیتی ہے۔

امام حسین نے یہ قیام کیوں کیا ؟ اس کا مقصد کیااور اس کے محرکات و عوامل کیا تھے ؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ انبیاء کے وارث تھے، آپ نے وارثت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے یہ عظیم قیام کیا۔ انبیاء کو ان کی زندگی میں ایک بڑی مشکل در پیش تھی ، یہ ایسی مشکل ہے جو تمام معصومین ، اولیاء ، صلحاء ، اہل حق اور علماء کو در پیش رہی ہے ۔ 

قیام امام حسین ؑ کا مقصد ، کلمہ توحید کی سر بلندی اور کفر و شرک کی نابودی تھا ، یہ راہ ، انبیائے الٰہی کی راہ ہے۔ چنانچہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء آئے ان کا مشترک ہدف کلمہ حق کی سربلندی،کفر،شرک،غیر الٰہی اقدار کا خاتمہ ،انسانوں کی تربیت اور ان کو راہ راست پر لانا ، ظالم و جابرحکمرانوں کے ساتھ مقابلہ اور طاغوتی نظام کو سرنگون کرنا تھا ۔امام حسین ؑ وارث انبیاء ہیں ، جیسا کہ ہم زیارت وارث میں پڑھتے ہیں ، سلام ہو آپ پر اے آدم صفوہ اللہ کے وارث، سلام ہو آپ پر اے نوح پیغمبر کے جانشین ۔ امام حسین ؑ نے بہت سی چیزیں ارث میں پائی ہیں ،آپ نے انبیاء کے لئے در پیش بنیادی مشکلات بھی ارث میں پائیں اور ان کے حل کے لیے یہ عظیم قربانی پیش کی ۔

فرزند فاطمہ نے پیغمبران الٰہی کے مشن کو آگے بڑھانے اور اسلام کو بچانے کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔

جو چیز سب سے زیادہ،امام عالی مقام کے اس خدائی قیام میں نمایاں نظر آتی ہے وہ خدا کی بندگی ، قرب الٰہی اور پروردگار سے راز و نیاز ہے ۔ جیسا کہ دعا ئے عرفہ ، جو امام ؑ نے عرفات کے میدان میں پڑھی ، مشہور اور معروف دعاؤں میں سے ہے۔ جس میں امام نے ہمیں خدا سے راز و نیاز کا سلیقہ سکھایا ،اس دعا میں اسماء اور صفات الٰہی کو بیان کرنے کے بعد ، عبد اور معبود ،خالق و مخلوق کے درمیان رابطہ، خالق کے سامنے مخلوق کی بے کسی ، اور اس دعا میں ، تمام عالم بشریت اور بنی نوع انسان کو آزادی اور حریت کا پیغام دیا چنانچہ آپ فرمایا:

’’ماذا وجد من فقدک، و ما الذی فقد من وجدک‘‘

جس نے تجھ کو کھویا ، اس نے کیا پایا اور جس نے تجھ کو پایا اس نے کیا کھویا ۔ 

اسی طرح امام نے جہاں خطبہ دیا یا خط لکھے یا مختلف لوگوں سے گفتگو کی ،ان سب میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے وہ وحدانیت ، خوشنودی خداوند ، اور قرب و بندگی الٰہی ہے ۔ 

عبادت الہی کے ساتھ جو وابستگی تھی اس کااندازہ آپ کو امام حسین علیہ السلام کے ان الفاظ سے بھی ہو سکتا ہے جو 9 محرم کی سہ پہر کو آپ نے ایک شب کی مہلت کی طلب کرنے کے موقع پر ارشاد فرمائے تھے ۔ آپ نے کہا کہ اس شب کو ہم عبادت و ذکر الہی میں بسر کر لیں خدا ہی جانتا ہے کہ مجھے اس کی عبادت و ذکر سے کتنی محبت ہے ۔ چنانچہ یہ شب آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اس طرح گزاری کہ ان کے تسبیح و تہلیل اور ذکر و مناجات کی آواز رات کے سناٹے میں اس طرح گونچ رہی تھی کہ جیسے شہد کی مکھی کے چھتے سے آواز بلند ہوتی ہے ۔ اور روز عاشورا ایسے سخت وقت میں نماز با جماعت ادا کی جب کہ موت کا بازار گرم تھا ۔ کربلا کی زمین پر خون کی بارش الگ تھی ، تیروں کی بارش الگ تھی اور گرمی سے آگ الگ برس رہی تھی مگر اس موقع پر ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ یوں ادا ہوئی کہ دو جان نثاروں کو محافظت کے لیے سامنے کھڑا کیا کہ جو تیر آئے اسے اپنے سینہ پر روکیں ۔ ادھر نماز تمام ہوئی ادھر ان میں سے ایک صحابی سعید بن عبد اللہ حنفی زخموں سے چور ہو کر زمیں پر گرے ۔ اس طرح امام حسین علیہ السلام نے خالق کی عبادت اور فریض نماز کی اہمیت دنیا میں ثابت کی۔ ہماری عزاداریوں کا مقصد بھی ، رضائے الٰہی ، قرب خداوندی ، جمود اور سکوت کو توڑنے ، خواب غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیدارکرنا، ہوناچاہئے۔ اس وقت عالم اسلام ، مکتب تشیع ، بالخصوص مملکت خداد پاکستان کے لئے بہت سارے مسائل اور مشکلات کا سامناہے ان مسائل اور مشکلات سے نمٹنے کے لئے عاشورا سے سہارا لینے کی ضرورت ہے کیونکہ “کل یوم عاشورا، کل ارض کربلا”ہر دن عاشورا، اور ہر زمین، زمین کربلا ہے۔ اگرکل عمر سعد نے “یاخیل اللہ ارکبی،و بالجنۃ ابشری” کی صدا بلند کر کے نواسہ رسول کو شہید کیا ، تو آج تکبیر اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرکے نہتے مسلمانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے اور عورتوں کو کنیز بنا کربیچا جا رہا ہے۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ معرکہ حق و باطل اب بھی موجود ہے ، اور آج بھی دو مکتب فکر(حسینی اور یزیدی ) کے درمیان میں جنگ جاری و ساری ہے۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین محترم حسینی بن کر اپنے نظریاتی ، فکری ،جغرافیائی تمام مورچوں کا دفاع کرنے ، اس راہ میں شہید اور پرچم اسلام کو بلند کرنے کو اپنا اعزاز سمجھیں گے ۔ 

عبادت الہی کے ساتھ جو وابستگی تھی اس کااندازہ آپ کو امام حسین علیہ السلام کے ان الفاظ سے بھی ہو سکتا ہے جو 9 محرم کی سہ پہر کو آپ نے ایک شب کی مہلت کی طلب کرنے کے موقع پر ارشاد فرمائے تھے ۔ آپ نے کہا کہ اس شب کو ہم عبادت و ذکر الہی میں بسر کر لیں خدا ہی جانتا ہے کہ مجھے اس کی عبادت و ذکر سے کتنی محبت ہے ۔ چنانچہ یہ شب آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اس طرح گزاری کہ ان کے تسبیح و تہلیل اور ذکر و مناجات کی آواز رات کے سناٹے میں اس طرح گونچ رہی تھی کہ جیسے شہد کی مکھی کے چھتے سے آواز بلند ہوتی ہے ۔ اور روز عاشورا ایسے سخت وقت میں نماز با جماعت ادا کی جب کہ موت کا بازار گرم تھا ۔ کربلا کی زمین پر خون کی بارش الگ تھی ، تیروں کی بارش الگ تھی اور گرمی سے آگ الگ برس رہی تھی مگر اس موقع پر ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ یوں ادا ہوئی کہ دو جان نثاروں کو محافظت کے لیے سامنے کھڑا کیا کہ جو تیر آئے اسے اپنے سینہ پر روکیں ۔ ادھر نماز تمام ہوئی ادھر ان میں سے ایک صحابی سعید بن عبد اللہ حنفی زخموں سے چور ہو کر زمیں پر گرے ۔ اس طرح امام حسین علیہ السلام نے خالق کی عبادت اور فریض نماز کی اہمیت دنیا میں ثابت کی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔