چترال میں زلزلے سے جان بحق افراد کی تعداد 34ہوگئی،166زخمی،493گھر مکمل جبکہ 993گھروں کو جزوی نقصان پہنچا

چترال میں زلزلے سے جان بحق افراد کی تعداد 34ہوگئی،166زخمی،493گھر مکمل جبکہ 993گھروں کو جزوی نقصان پہنچا

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال میں پیر کے روز آنے والے زلزلے سے جانی نقصان کی تعداد4 3ہوگئی ۔ چترال پولیس کے کنٹرول روم سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق زخمیوں کی تعداد 166ہے جوکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے علاوہ بونی، دروش ، مستوج اور شاگرام کے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ ڈی پی او چترال عباس مجید خان مروت کے مطابق ضلعے بھر میں مکمل منہدم شدہ گھرانوں کی تعداد 493جبکہ جزوی طور پر نقصان رسیدہ گھروں کی تعداد 993ہے ۔ ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ نے مقامی میڈیا کو بتایاکہ لواری ٹنل روڈ کو کھلوانے کے علاوہ ضلعی انتظامیہ نے چترال بونی روڈ اور بونی مستوج روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھلوادیا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ آغا خان فاونڈیشن کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاسپور میں پھنسے ہوئے سات زخمیوں کو بونی اور چترال کے ہسپتالوں میں پہنچادئیے گئے ہیں جبکہ ایک شدید زخمی کو اسلام آباد منتقل کردیا گیا جبکہ پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی ایک زخمی کو پشاور منتقل کردیا گیا۔ اسامہ وڑائچ نے بتایاکہ فوڈ اور نا ن فوڈ آئیٹمز متاثرہ علاقوں کو روانہ کئے جارہے ہیں جبکہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن سے بھی اشیائے خوردنی حاصل کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایاکہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے دس ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ ضلعے کے دوردراز علاقوں میں متاثریں تک ریلیف کے سامان نہیں پہنچ سکے جن میں چرون اویر بھی شامل ہے جہاں 70کے قریب گھرانے مکمل طور پر ملیامیٹ ہوگئے ہیں اور لوگ آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح دروش اور دوسرے علاقوں میں بھی ریلیف کے سامان نہ پہنچنے کی شکایات موصول ہوتے رہے۔ بلچ ویلج کونسل کے کسان کونسلر نے کہا کہ دنین گلوغ میں متاثرہ گھرانوں کی تعداد 40لے لگ بھگ ہے لیکن انتظامیہ نے صرف 5خیمے مہیا کردئیے۔ چترال پولیس کی طرف سے ارندو کے متاثرین میں ٹینٹ بھیج دیئے گئے ہیں ۔ ڈی پی او چترال نے بتایاکہ کوہاٹ کے ڈی پی او کی طرف سے بھی پچاس ٹینٹ روانہ کئے جاچکے ہیں جنہیں متاثریں میں تقسیم کئے جائیں گے جبکہ ارندو کو سب سے ذیادہ متاثرہ گاؤں قرار دیا گیا ہے۔ درین اثناء متعدد سرکاری عمارات بھی زلزلے کی زد میں آگئے ہیں جن میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس مرادنہ اور زنانہ اورپولیس کے اسپیشل برانچ آٖفس شامل ہیں جبکہ ضلعے کے مختلف مقامات سے درجنوں سرکاری سکولوں کے عمارات کے جزوی نقصان ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوگئے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔