ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں 13کروڑ 8لاکھ 40ہزار روپے کا غیر ترقیاتی بجٹ منظور،اپوزیشن کا واک اوٹ

ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں 13کروڑ 8لاکھ 40ہزار روپے کا غیر ترقیاتی بجٹ منظور،اپوزیشن کا واک اوٹ

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد ) ضلع کونسل چترال کے اجلاس میں 13کروڑ 8لاکھ 40ہزار روپے کا غیر ترقیاتی بجٹ منظور کردیا گیا ۔ جمعہ کے دن کنوینر مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت اجلاس میں ضلع ناظم مغفرت شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے 13مختلف سرکاری محکمہ جات کے لئے تنخواہ اور الاؤنس کے علاوہ نان سیلری (اخراجات جاریہ) کے مد میں تجویز کردہ فنڈ کی تفصیل پیش کی جسے ایوان نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا کیونکہ اپوزیشن کے ارکان اجلاس کے شروع ہی میں کونسل کے کنوینر مولانا شکور کی حیثیت کو متنازعہ قرار دے کر واک آؤٹ کرگئے تھے ۔ضلع ناظم نے کہاکہ اس سال ضلع چترال میں پے درپے قدرتی آفات نے سرکاری اور غیر سرکاری انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا جس کے لئے ہم صوبائی اورمرکزی حکومتوں کی بھر پور مدد سے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے متاثریں کی بحالی کے ساتھ انفراسٹرکچر کی تعمیرنو کرکے چترال کو ترقی کے لحاظ سے ایک ماڈل ضلع بنا ئیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن کی نامناسب روئیے اور بلاوجہ سیشن کا بائیکاٹ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے چاہے جن کا تعلق حزب اختلاف سے کیوں نہ ہو کیونکہ اس ضلعے کے غریب عوام نے ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لئے ووٹ دے کر یہاں بھیجا ہے اور ہمیں اس ایوان کی تقدس کا خیال رکھتے ہوئے اسے سیاسی اکھاڑہ بناکر ہلڑ بازی کرنے کی بجائے یہاں مسائل پر بات کریں اور ان کے لئے حل تجویز کریں۔ انہوں نے سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ کا ایوان میں آنے پر خوش آمدید کہا اور اس امید کا اظہار کیاکہ وہ چترال کے ضلع کونسل کو اپر دیر کی طرح اپنا آبائی کونسل سمجھیں گے اور اس کی ابتدائی اجلاس میں شرکت کرکے انہوں نے اس کا ثبوت بھی دے دیا ہے۔ اجلاس سے سینئر صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رولز آف بزنس بالکل تیارہیں اور ان کا اجراء صرف چند دنوں کی بات ہے جس کے بعد مقامی حکومتوں کا نظام کو ایستادہ کرنے کا عمل مکمل ہوگا جوکہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے اور عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل ہونے پر منتج ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ رولز آف بزنس اور خود لوکل گورنمنٹ ایکٹ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں کہ ان میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی بلکہ ان کو ضرورتوں اور عوامی امنگوں کے مطابق بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ پراونشل فنانس کمیشن کے فارمولے میں تبدیلی کے بعد اب اضلاع کو پہلے سے ذیادہ وسائل مل رہے ہیں جس کا تقابلی جائز ہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع چترال کو گزشتہ سال کے 2کروڑ48لاکھ روپے کے مقابلے میں 19کروڑ 70لاکھ روپے ملیں گے جبکہ تحصیل چترال کو 72لاکھ روپے کی بجائے 11کروڑ اور تحصیل مستوج کو صرف 30لاکھ روپے کی بجائے 8کروڑ 27لاکھ روپے مل جائیں گے۔ عنایت اللہ خان نے کہاکہ ہر ویلج کونسل کو 2ہزار آبادی کے لحاظ سے بیس لاکھ روپے اور ہر ایک ہزار اضافی آبادی پر مزید پانچ لاکھ روپے ملیں گے۔ انہوں نے ممبران کونسل پر زور دیا کہ وہ اس نظام کو کامیاب بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور اپنی اہلیت ثابت کریں کہ قوم نے صحیح قیادت کا انتخاب کیا ہے۔ جمعہ کے بعد اجلاس کا جب آغازہوا تو تلاوت کلام پاک کے بعد اپوزیشن لیڈرمولانا عبدالرحمن کی قیادت میں سہ فریقی اتحاد (جے یو آئی، پی ٹی آئی، اے پی ایم ایل)سے تعلق رکھنے والے ممبران نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جوکہ مولانا عبدالشکور کی حیثیت کو چیلنچ کررہے تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔