چترال، معروف صوفی شاعر مرز ماحمد سایار بابا کا تین سو سالہ پرانا رہائیشی مکان بھی حالیہ زلزلے سے بری طرح متاثر

چترال، معروف صوفی شاعر مرز ماحمد سایار بابا کا تین سو سالہ پرانا رہائیشی مکان بھی حالیہ زلزلے سے بری طرح متاثر

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) بارویں صدی ہجری کے معروف صوفی شاعر اور چترال کے رومانوی داستان کے خالق مرزا محمد سیار بابا کے مزار اور اس کے ذاتی رہائش گاہ حالیہ زلزلہ سے بری طرح متاثر ہوا۔ مرز ا محمد سیار بارہ سو ہجری میں چترال کے بالائی علاقے شوگرام میں پیدا ہوئے تھے۔ فارسی ادب اور دیگر علوم کی حصول کیلئے انہوں نے ہندوستان کے دہلی، سمرقند بخارا اور ایران کا سفر کیا۔ شیراز میں حافظ شیرازی سے انہوں نے فارسی ادب سیکھی اور چترال آکر انہوں نے فارسی میں اپنا دیوان تحریر کیا۔

مرزا سیار کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ شوگرام کے بالکل سامنے والے گاؤں ریشن میں ایک شادی شدہ خاتون سے اس کو عشق ہوا تاہم یہ عشق نہایت پاکیزہ تھا۔ 

دریا پر پیدل پل پر ایک بار اس کی معشوق آرہی تھی مرزا سیار دوسری پار جارہا تھا پل نہایت تنگ تھا اور حطرہ تھا کہ اگر بیک وقت دونوں پل کو عبور کرے تو اس کے ساتھ اس کا جسم ملس ہونے (لگنے) کا باعث بنتا تاہم انہوں نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ وہ کسی غیر عورت سے لگے اور دریا میں چھلانگ لگاکر دوسری جانب تیرتے ہوئے چلے گئے۔

کھوار یعنی چترالی زبان میں اس کا لکھا ہوا یار من ھمین ہر زود زبا ن پر مشہور ہے اور اسے معروف ادیب گل نواز خاکی مرحوم نے بھی گایا تھا۔

مرزا سیار ریشن کے سامنے والے پہاڑی پر چڑھ کر بیٹھتے اور اپنے دوست کا دیدار دور سے کرتے۔ ان کی زندگی کے آحری ایام میں انہوں نے ایک غزل لکھی جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ جب میری آحری سانس نکلنے لگے تو تم آکر اپنا دیدار کروانا ورنہ میری جان نہیں نکلے گی۔ اور بزرگو ں کے مطابق بالکل اسی طرح ہوا۔ عین جب اس کی حالت نزع تھی تو دو دن موت و حیات کے کشمکش میں مبتلا تھا جان نہیں نکل رہی تھی آحر کار اس کے وصیت کے مطابق اس کے دوست کو بلایا گیا جسے اپنے شوہر نے اجازت دے دی اور جب اس کا دوست دروازے میں داحل ہوئی بابا سیار کا آنسوؤں نکل کر اس کا جان قبض ہوا۔

گھر کا اندرونی منظر

گھر کا اندرونی منظر

بابا سیار کے فارسی دیوان کا اردو ترجمہ سابق پرنسپل مولا نگاہ نگاہ نے کی ہے جسے مقتدرہ اردو زبان نے کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔

اس کا مزار شوگرام کے قبرستان میں ہے تاہم موجودہ دور میں اس کے حاندان میں کوئی حاص اعلے ٰ تعلیم یافتہ یا زیادہ لکھا پڑھا آدمی نہیں ہے تاکہ ان کی خدمات کو سراہنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ 

بابا سیار کے ہاتھ کا بنے ہوئے مکانات کو حالیہ زلزلہ میں بہت نقصان پہنچا ہے اس کے ہاتھ کا دیوار پر لکھائی اور لکڑی میں نقش و نگاری بھی اسی طرح محفوظ تھا مگر خدشہ ہے کہ اگر اس قیمتی اثاثے کا بروقت حفاظت نہیں کی گئی تو اس کی تصویریں صرف کتابوں میں ملے گی

اس کے ساتویں پشت میں پوتے محمد عمر جو پیرا ملٹری فورس میں سپاہی ہے ا ن کی مزار کی دیکھ بال تو کرتا ہے مگر ہمارے بے حس معاشرے میں متعلقہ اداروں نے آج تک پوچھا بھی نہیں ہے کہ اس کے ذاتی رہایشی مکان کی تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے۔

علاقے کے کھوار زبان کے شاعر ادیب اقرار الدین خسرو کا کہنا ہے کہ با با سیار ہمارا قیمتی سرمایہ ہے ان کو کھوار زبان میں وہ مقام حاصل ہے جو مقام پشتو زبان میں رحمان با با، خوشحال خان بابا، پنجابی زبان میں با با بلھے شاہ اور دیگر زبانوں میں وارث شاہ، وغیرہ کو حاصل تھا۔ یہ اس زمانے میں برصغیر کا کھوار زبان کا سب سے بڑا شاعر تھا۔ اس کے پر پوتے نے ان کا کلام پڑھ کر سنایا مگر بدقسمتی سے اس حاندان میں اس پائے کا نہ تو کوئی شاعر نکلا نہ ادیب۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بابا سیار کو دو محتلف حوالوں سے پہچانا جاتا ہے ایک اس کا رومانوی رح ہے دوسرا ادیب اور شاعر کے طور پر وہ معروف ہے۔

متعلقہ محکموں کے ارباب کو چاہئے کہ وہ بابا مرزا سیار کے ذاتی مکان جس میں نہایت حوبصورتی سے لکڑی پر نقش و نگار ہوچکی ہے اور مکان کے ستوں پر بھی ایسا کام ہوا ہے وہ اب بوسیدہ ہورہی ہے اسکی حفاظت کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔