ْ(اسمبلی اجلاس) آئینی کمیٹی میں وزیر اعلی وہی موقف دیں گے جو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا موقف ہے، ممبران کا مطالبہ

ْ(اسمبلی اجلاس) آئینی کمیٹی میں وزیر اعلی وہی موقف دیں گے جو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا موقف ہے، ممبران کا مطالبہ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( ایس یو ثاقب ) گلگت بلتستان قانون سا ز اسمبلی کے پا نچویں سیشن کے دوسرے اجلاس میں ممبر قانون سا ز اسمبلی عمران ندیم نے آئینی کمیٹی کے حوالے تحریک التوا پیش کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے نجی ٹی۔وی اور اخبارات مین اپنا مو قف واضح کیا ہے اور اب اس نے اسمبلی کی تو ہین کی ہے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر آئینی صوبے کے حوالے سے قرارداد پیش کی جس پر مشیر خارجہ کی سر براہی میں بننے والی کمیٹی میں وزیر اعلیٰ وہی موقف دینگے جو انہوں نے پیش کیا ہے اس طر ح آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا تو گلگت بلتستان بلوچستان بن جا ئے گا ۔ جس پر سپیکر قانون سا ز اسمبلی نے وضاحت کرنا چا ہا تو یہ کہ کر ٹوک دیا کہ آپ اس وقت (ن) لیگ کے نہیں بلکہ اس اایون کے ترجمان ہیں آپ کو ئی حق نہیں بنتا کہ (ن) لیگ ترجما نی کر یں۔

اپوزیشن جما عتوں کے ممبران کیپٹن (ر) شفیع، کیپٹن(ر) محمد سکندر علی ۔نواز خان ناجی ۔ کاچو امتیاز ۔نے اس تحریک التوا سے اتفاق کرتے ہوے کہا کہ  وزیر اعلیٰ کھا تے پیتے گلگت بلتستان میں ہیں اور گن کشمیر کا گا تے ہیں۔ مقامی گورنر کی بجائے وفاقی گورنر کو ترجیح دیکرگلگت بلتستان کے عوام کی تو ہین ہے اگر ایسا ہے تو ہم سب چلے جا تے ہیں اور تمام ممبران کو پنجاب سے لا یا جا ئے۔

انہوں نے کہا کہ KKHگلگت بلتستان کے عوام کے لیئے غیر محفوظ ہو چکا ہے حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے آج وہاں پر کچھ دہشت گردوں نے دیامر کو بدنام کر نے کی کو شش کی ہے حکومت مغوی افراد کی با زیا بی کے لیئے جلد از جلد اقدامات اٹھا ئے اور kkhکو مستقل طو پر محفوظ بنا نے کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دی جا ئے تا کہ روز کی بنیاد پر امن کے لیئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیئے کام کیا جاسکے ۔

اس دوران اپوزیشن اور حکومت کی جا نب سے سردار عتیق کے بیان کی مزمت کی گئی اور kkh کے حوالے سے بھی سب کی ایک جیسی ہی رائے سا منے آئی کہ اس حوالے سے جلد از جلد اقدامات اٹھا نے کی اشد ضرورت ہے ۔تحریک التوا کے حوالے سے حزب اقتدار کے ممبران ایڈووکیٹ اورنگزیب ۔ حاجی اکبر تابان ۔ ڈاکٹر محمد اقبال ۔جعفراللہ خان ۔ رانی عتیقہ اور غلام حسین نے مزمت کی اور کہا کہ ابھی آئینی کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا ہے ایسے میں تحریک التوا لا نا ایک سازش ہے اور گلگت بلتستان کو بے آئین بنا نے کی بھی ایک سا زش ہے ۔دو ہفتوں میں آئینی کمیٹی کی میٹنگ ہے اس میٹنگ کے بعد ہی اگر ایسی کو ئی تحریک لا ئی جا تی تو یقیناًسب کی را ئے الگ الگ ہو تی اس وقت وزہر اعلیٰ گلگت بلتستان کو اس آئینی کمیٹی میں ممبر بنایا گیا ہے اور ہم نے اس اسمبلی نے متفقہ طور پر جو قرار داد پیش کی تھی اس پر عملداآمد ہو تے ہو ئے اس کمیٹی نے اپنا کام کر نا شروع کر دیا ہے اور وزیر اعلیٰ پہ مکمل اعتما د ہے وہ گلگت بلتستان کے آئینی صور ت حال کے حو الے سے بہترین تجا ویز دینگے ۔

اور ہم وزیر اعلیٰ سے اپیل کر ینگے کے اس میٹگ کے ٹا ئم آف منٹس کو اس ایوان میں لا ئیں جہاں مشاورت کی جا سکتی ہے اور خامیاں ہوں تو دور کی جا سکتی ہیں وزیر اعلیٰ سے ہماری درخواست ہو گی کہ وہ اس میٹنگ کے بعد اسمبلی ممبران کو اعتماد میں لیں اور تمام صورت حال سے آگاکریں ۔ قانونی طور پر بات کر نا الگ بات ہے لیکن اپنے جذبات کا اظہار کر نا الگ بات ہے ہمارے جذبات یہ ہیں کہ ہم پاکستان میں شا مل ہو نا چا ہتے ہیں اور اس وقت 90فیصد لو گ پاکستان میں شا مل ہو نا چا ہتے ہیں اس وقت اس تحریک التوا کو التوا میں رکھا جا ئے تو بہتر ہیں ۔ جس پر سپیکر قانون سا ز اسمبلی فدا ناشاد نے کہا کہ اس آئینی کمیٹی میں مزید ایک ممبر لینے کی سفارش کی جائے گی اور سرادار عتیق کے بیان کا نوٹس لیتے ہو ئے کہا کہ اس نے گلگت بلتستان کے عوام کے جذبات کے سا تھ کھیلا ہے اور اس کے بیان سمیت دیامر میں پیش آنے والے واقعے کی مزمت کر تے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اس اجلاس میں طبیعت صحیح نہ ہو نے پر شر کت نہ کر سکے اور سینئر وزیرحا جی اکبر تابان نے ذمہ داری انجام دیا۔ اپوزیش لیڈرحا جی شاہ بیگ شیر یک تو ہو ئے لیکن خاموش رہے جبکہ وزیر بلدیات فرمان علی اجلاس کے آخر میں تشریف لائے ۔یہ اجلاس 11بجے شروع ہو کر دو گھنٹے چلا اور سپیکر قا نون سا ز اسمبلی نے کل تک کے لیئے ملتوی کر دیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔