بھارت جمہوری روایات سے فرارکی جانب گامزن

بھارت جمہوری روایات سے فرارکی جانب گامزن

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کریم اللہ

ایک ارب تیس کروڑ کے قریب انسانوں کی بستی یعنی بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کے طورپر پہچاناجاتا ہے ۔ 1947ء میں برطانوی استعماریت سے آزادی کے بعد اس وقت کے کانگریسی قیادت نے زمانے کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ چونکہ بھارت ایک کثیر النسلی وکثیر والقومی انسانی آبادی پر مشتمل ایک وسیع وعریض خطہ ہے لہٰذا ملک کے سارے شہریوں کو قانون کے مطابق برابر کے حقوق دینے اور نسلی،لسانی ومذہبی تعصبات سے بالاتر ہوکر سارے لوگوں کو یکسان شہری کا درجہ دینے کے لئے لازم ہے کہ ملک کی سیاسی نظام کو وفاقی طرزپر جبکہ آئینی نظام کو سیکولر (ایسا نظامِ سیاست جس کی بنیاد مذہب اور مابعدالطبعیات کی بجائے سائنسی اصولوں پر استواء ہو اور جسمیں ریاستی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہ ہو جبکہ قانون کے مطابق سب شہریوں کو بلاتفریق مذہب،رنگ ونسل برابر کے حقوق حاصل ہو سیکولرسیاسی نظام کہلاتی ہے) اصولوں پراستواء کیاجائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھاری حکمرانوں نے اپنے آئین کو سیکولر ڈیکلئیر کردیا۔اگرچہ بھارتی قیادت کایہ فیصلہ جرات مندانہ تھا لیکن ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس کے علاوہ اور کوئی بہتر آپشن بھارتی حکمرانوں کے پاس موجود بھی نہیں تھا۔بھارتی سیاسی نظام میں کانگریس ایک بہت ہی طاقتور سیاسی قوت کے طورپر خود کو منوانے میں کامیاب رہی، ملک کی 68سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ حکمرانی کا سہرا بھی کانگریس کے سرجاتا ہے،جو اپنی قدیم تاریخ اور اعتدال پسند قیادت کی وجہ سے ملک کے ایک سیکولر سیاسی قوت کے طورپر پہچانے جاتے ہیں۔ البتہ حالیہ چند برسوں میں کانگریس اپنی انتہائی خراب کارکردگی کی وجہ سے ملکی سیاسی فضاء میں اپنا مقام بڑی تیزی کے ساتھ کھوتی رہی۔ جسکی وجہ سے 2014ء کے پارلیمانی انتخاب میں انہیں بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا اور اسکی جگہ سخت گیر بنیاد پرست رجعت پسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی نے اس الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کرلی۔ جبکہ ان کیساتھ کئی دوسرے سخت گیر ہندومت کے احیاء کے حامی سیاسی جماعتیں بھی حکومت میں شامل ہے ۔ٹھیک اسی قسم کاسیاسی تجربہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جبکہ ملک کے بائین بازوکے اعتدال پسند جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی کو بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا اور اسکی جگہ وفاق میں دائین بازو کی مسلم لیگ(ن) اور خیبر پختونخواہ میں نظریاتی بحران کا شکار پاکستان تحریکِ انصاف کو عنان اقتدار اپنے نام کر لینے میں کامیابی ملی ۔

بھارت میں رجعت پسندی کا بڑھتا ہوارجحان:

برصغیر کی دو بڑی ریاستین یعنی بھارت اور پاکستان میں دائین بازو کے رجعت پسند سیاسی جماعتوں نے حکمرانی پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں لیکن بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حکومت کسی حد تک اپنے ماضی سے چھٹکارا پانے اور سخت گیریت کی بجائے اعتدال پسندی کی جانب جھکاؤرکھتے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ پاکستان کے فیصلہ ساز ی میں کلیدی کردار اداکرنے والی اسٹبلشمنٹ کا مذہبی جنونیت کے نظریات سے خود کو بچا کر لبرل نظریات کی جانب پیش رفت اور مسلم لیگ(ن) کی موجودہ کابینہ میں موجود سابق ترقی پسندوں اور نیولبرل شخصیات کی موجودگی ہیں۔ اسکے برعکس بھارتی حکمرانی پر قابض مذہبی فاشسٹ نریندرمودی سیکولر اور تکثیریت پر مبنی معاشرے کو ہندوبرہمنی معاشرے میں تبدیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالیہ چند مہینوں سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مسلسل بھارتی حکومت اور اداروں کی جانب سے شخصی آزادیوں پر قدغن لگانے اور نصابی کتابوں کو ٹمپر کرنے کی خبرین گردش کررہی ہے ۔

گھر واپسی کی تحریک:

ہندو برہمنی نظریات کی دوبارہ احیاء اور بھارتی معاشرے کو ہندومت میں تبدیل کرنے کی عرض سے نر یندر مودی سرکار نے ’’گھر واپسی ‘‘کے نام سے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ چونکہ ہندومت ہندوستان میں جنم لینے والی مذہب ہے۔جبکہ دیگر مذاہب مثلااسلام، عیسائیت وغیرہ بعد میں علاقے پر وار دہوئی۔ لہٰذا اب دیگر مذاہب بالخصوص اسلام کے پیروکاروں کو اب گھر واپس آنے یعنی ہندومذہب اختیار کرنا ہو گی۔ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا مکمل طور پر جمہوریت کی جانب گامزن ہے۔ بھارت معروضی حقائق سے فرار ہوکر پتھر کے دور کی جانب گامزن ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے۔ کہ جمہوریت خالصتاََسیکولر طرز حکمرانی کا نام ہے۔ جس کے بغیر جمہوریت ایک سہانے خواب سے بڑھ کر اور کچھ نہیں اگر بھارتی حکومت اپنے سیاسی نظام سے سیکولرازم کو دیس نکالنا چاہتی ہے تو پھر اسکامطلب یقیناجمہوری طرزِ حکمرانی اور انسانی آزادیوں سے فرارکاراستہ اختیار کرنا ہے جو بھارت جیسے کثیر النسلی تکثیریت پر مبنی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔

تاریخ کا قتلِ عام:

جب سے بھارت میں بی جے پی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تاریخ اور نصابی کتابوں سے لبرل اور جدیدیت پر مبنی خیالات کو نکال کر ایک ہندونظریاتی نصاب مسلط کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’بی جے پی کی حکومت بھارت کے نصابی کتابوں میں تبدیلی لاکر ہندوانہ نظریات کو نصاب میں شامل کرنے اور مذہبی سخت گیریت کو فروغ دینے کے حوالے سے کام کررہی ہیں۔ ریسرچ ٹائپ کے مواد کو ٹمپر کیا جارہاہے سخت گیر ہندوقدامت پرستوں کو تعلیمی اداروں میں گھسا کر برہمنی نظریات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہورہی ہیں۔بھارتی جنتا پارٹی کے اتحادی ایک اور سخت گیر مذہبی جماعت آرایس ایس کے اعلیٰ عہدے داروں کے مطابق گزشتہ 70 سالوں کے دوران کانگریس نے ہندومذہب کو معاشرے سے باہر رکھا اب وقت آگیا ہے کہ ہندومت کو فروع دیاجائے‘‘۔ بھارت کے مذہبی طبقات بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی بعض سائنسی نظریات کواپنے مقدس کتابوں کی نقل قراردیتے آئے ہیں ان کا موقف ہے کہ دراصل یہی نظریات ان کی مذہبی کتاب بالخصوص رگ وید میں موجود تھی جو کہ ہمارے لئے کوئی نیا خیال ہر گز نہیں اسی قسم کے خیالات پاکستان کے مذہبی سخت گیر طبقات بھی کہہ رہے ہیں کہ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت سے لیکر ایمبریالوجی اور جدید میڈیسن تک سارے جدید تصورات وایجادات دراصل مسلمانوں کے مقدس کتاب قرآن کریم سے ماخوذ ہیں۔ نامور ترقی پسند ادیب،دانشور اور مصنف جناب سبطِ حسن صاحب اپنی مایہ ناز تصنیف’’ نویدِ فکر‘‘ میں اس مریضانہ ذہنیت کوبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’مغرب کی طرف دوسرا رویہ فاخرانہ اور سرپرستانہ تھا جو ان دنوں ہمارے ملک میں بہت عام ہے یعنی اس بات پر بغلیں بجانا کہ ہزار برس پہلے مغرب کو تہذیب وتمدن کا درس ہم نے دیا تھا اور یہ دعویٰ کرنا کہ نظامِ شمسی ہو یا نظریہ ارتقاء ،برقی قوت ہو یا ایٹم بم ،خلا میں پروا زہو یا چاند کا سفر تمام سائنسی ایجادوں اور دریافتوں کا ذکر ہماری مقدس کتابوں اور علماء وحکماء کی تصنیفات میں پہلے سے موجود ہے ۔ لہٰذا ہم کو مغرب (یورپ وامریکہ) سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ مہاسبھائی ہندو بھی وید اور پرُان کے حوالے سے اسی قسم کے بے بنیاد دعوے کرتے تھے ‘‘(نویدِ فکر صفحہ 104)۔

مذہبی اقلیتوں کے خلاف تادیبی اقدامات :

نریندرمودی کی قیادت والی بھارتی جنتا پارٹی اور RSSکی موجودہ حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ریاستی اداروں اور مشتغل بلواؤں کی مددسے انتہائی اقدامات اٹھانے کا سلسلہ شروغ کی ہے ۔تاریخ کا مطالعہ بتا رہاہے کہ قوموں کی زندگی میں حکمرانوں کے ایک غلط فیصلے کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔اگر پاکستان کی تاریخ میں ضیاالحق کا’’ تاریک دور ‘‘(Dark age)نہ آتا تو شائد ایک لاکھ کے قریب پاکستانی ناکردہ گناہوں کے جرم میں موت کی آغوش میں نہ چلے جاتے نہ ہی افعانستان کی سرزمین چالیس برسوں تک آگ وخون کی دلدل میں دھنستے رہتے۔ ضیاالحق اپنے ناجائز حکمرانی کو طول دینے کے لئے مذہب کا استعمال کیا تاریخ ونصابی کتابوں اور تعلیمی اداروں میں سخت گیریت ،نفرت وعداوت اور رجعت پسندی کو فروغ دیا جبکہ مذہبی اصلاحات کے نام پر اقلیتوں او رلبرل مسلمانوں کو دیوار سے لگاکر معاشرے میں موجود ترقی پسندی اور برداشت کے کلچر کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ۔آج بھارت کے منتخب جمہوری حکومت پاکستانی آمر ضیاالحق کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنا مذہبی فرئضہ سمجھ رکھے ہیں۔ چند ہفتے قبل جموں کشمیر ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے وادی میں گائے کی ذبیحہ کوممنوع قراردیا جس کی خلاف ورزی کی صورت میں ریاست کو سخت اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا۔ اس متنازعہ فیصلے بلکہ شخصی آزادیوں پر بدترین حملے کے بعد وادی کشمیر کے مسلمان اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھر پور احتجاج کیا اور جگہ جگہ کھلے عام گاؤکشی کرکے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا۔بحیثیت مجموعی وادی کشمیر میں عدلیہ کے اس فیصلے کے بعد فضا انتہائی خراب ہے ۔ اس کے چند ہی روز بعد عیدالالضحیٰ کے موقع پر ریاست اترپردیش کے ایک گاؤں میں ہندوجنونیوں نے ایک مسلمان محمد اخلاق کوگائے کا گوشت کھانے اور گھر پرجمع کرنے کے الزام میں گھر پر حملہ کرکے انہیں قتل جبکہ بیٹے کو شدید زخمی کردیا ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ’’اتر پردیش کے ایک گاؤں کے باسی محمد اخلاق کو گائے کا گوشت کھانے اور گھر میں ذخیرہ کرنے کے الزام میں قتل کردیا گیا عینی شاہدین کے مطابق گھر کے قریب واقع مندر کے لاؤد اسپیکر میں اعلان ہواکہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت ذخیرہ کرکے کھایا جا رہاہے۔اس اعلان کے بعد لوگوں کا ہجوم محمداخلاق کے گھر پر دھاوا بول دیا جسکی وجہ سے اخلاق موقع پر ہی دم توڑدیا جبکہ اسکے بیٹے کو شدید رخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ‘‘۔ لاؤڈاسپیکر جیسے منحوس صوتی آلے کی تباہ کاریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں صرف دوسال قبل تک ہمارے ملک میں بھی اسی آلے کی مدد سے ہندؤں،عیسائیوں اورا ہلِ تشیع برادری کے خلاف زہر اگل کر بستیوں کے بستیوں کو جلاکر خاکستر کیاجارہاتھا ۔لاہور میں جوزف کالونی کو جلانے، کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے بستی پر بموں کے دھماکوں،کورٹ رادھاکشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانا،قادنانی برادری کے خلاف مسلسل حملوں وغیرہ میں بھی لاؤڈاسپیکر کے شیطانی آواز کا عمل دخل تھا۔البتہ آپریشن ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی طفیل رفتہ رفتہ پاکستانی قوم اس منحوس آلے کی تباہ کاری سے تھوڑابہت نجات حاصل کررہے ہیں۔ جونہی ہم (پاکستانی ) اپنے ماضی کی تاریک دور سے چھٹکاراپاکر بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ٹھیک اسی وقت ہمارے پڑوسی ملک بھارت آزاد خیالی کو خیرباد کہہ کر دوبارہ قدامت پسندی اور رجعت پرستی کے ماحول میں داخل ہو رہے ہیں۔ کیایہ محض اتفاق ہے کہ پاکستان اپنا36سالہ رجعتی پوشاک کو اتارکر تبدیلی کی جانب روان تو پڑوسی ملک بھارت اپنے 68سالہ سیکولرازم سے ہاتھ کھینچ کر دوبارہ دور جہالت میں قدم رانجھا ہے۔ بھارتی سیاسی نظام میں یہ تبدیلی سارے معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتاہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیابھارت خودکوتاریک راہوں سے نکال کر تکثیریت اوررنگارنگی کی فضاء کو دوبارہ اپنائینگے یا پھر خود کو موت کے کنویں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دھکیل دینگے ؟

کریم اللہ ایک صحافی، بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ انہوں نےجامعہ پشاور سےپولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ حالاتِ حاضر، سماجیات اور سیاست پر تاریخی تناظر سے لکھتے ہیں۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author