کیا بلدیاتی انتخابات محض ایک ڈھونک تھا؟

کیا بلدیاتی انتخابات محض ایک ڈھونک تھا؟

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتی تھی۔ کہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے ۔اس کے ساتھ وہ یہ وعدہ بھی کرتے تھے، اگر انہیں حکومت ملی تو نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب نمائندوں کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔2013ء کے انتخابات میں خیبرپختونخواہ کے عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کے قیادت کی بلندوبانگ دعوؤں کی وجہ سے انہیں صوبائی حکومت سپرد کردی۔ حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اپنے وعدوں کو بھول کرپاؤر پالیٹکس میں مصروف ہوگئے۔ نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا دعویٰ دو سال گزرنے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ کی مداخلت پر ممکن ہوا اور یوں کے پی حکومت نے تیس مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات کا انعقاد کیا ۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز میں خرد برد ہونے کے بہانے مالی سال2013-14میں 93ارب جبکہ مالی سال 2014-15میں 97 ارب روپے کی ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص خطیر رقم استعمال ہی نہ کرسکے ۔اور یوں دوسالوں کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لئے صوبائی بجٹ میں مختص 190ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے لیپس کرگئی ۔اسی طرح مالی سال 2015-16 کے لئے پیش کئے گئے صوبائی بجٹ میں 23 ارب روپے بلدیات کے لئے مختص کیاگیاہے۔30مئی 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکاہے۔لیکن ابھی تک اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجرأ کا وعدہ ایفأ نہ ہوسکابلکہ حکومتی اور الیکشن کمیشن کی نااہلی اس بات سے عیان ہے کہ انتخابات میں جیتنے والے نمائندوں کی ابھی تک نوٹیفکیشن ہی نہیں کئے گئے ہیں۔جسکی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی نظام کے مستقبل پر ناامیدی کے گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔
ان ٹوٹے پھوٹے خیالات میں دو ایسے سانحات کا ذکر کرنا چاہونگا کہ جس میں بلدیاتی اداروں اور منتخب کونسلر زکی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ یعنی جولائی اور اگست کے موسم میں مون سون کی بارشوں کے بعد خیبرپختونخواہ سمیت پورا ملک سیلاب کی زد میں آیا جبکہ اس سیلاب کے صرف دوماہ بعد 26اکتوبر کے زلزلے نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بچی کھچی آبادی کو مکمل طورپر نیست ونابودکرکے رکھ دیا ۔ان دو سانحات میں بنیادی طورپر عوام کو جلد ازجلد ریلیف پہنچانے کے لئے بلدیاتی اداروں اور منتخب اراکین کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے صوبائی ومرکزی حکومتوں نے انہیں بائی پاس کرکے وردی والوں کو ترجیح دی اور یوں یہ بات عیاں ہوگئی کہ دراصل منتخب نمائندوں اور سویلین جمہوری حکمرانوں کو ماسوائے فوج کے خود اپنے اوپر بھی بھروسہ نہیں یہی وجہ ہے کہ طالبان سے لیکر کراچی کے بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن میں فوج مصروف ہے تو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج صفِ اول پر اور اب زلزلہ زدہ علاقوں میں بھی فوج کی خدمات حاصل کی گئی ہے ۔جو فوج کی قوت میں اضافے اور جمہوریت وجمہوری اداروں کی مزید لاغری کا سبب بن رہاہے ۔
منتخب جمہوری اداروں کو نظرانداز کرنے کے نقصانات:
کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کا استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ اداروں کو زیادہ سے زیادہ عوامی اور جمہوری انداز سے چلایاجائے۔ فوج کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت اورپولیس کاکام ریاست کے اندر قانون کا نفاذہے ۔پاکستان کے 68سالہ تاریخ میں سے چالیس سال چارفوجی آمروں نے ہڑپ کئے باقی کے ادوار میں فوج پسِ پردہ رہ کر حکمرانی کے فرائض نبھاتے رہے ۔لیکن اس سے بھی آفسوس ناک امریہ ہے کہ جب کبھی منتخب جمہوری حکومتوں کو اقتدار ہاتھ آئی تو وہ بھی اپنی نااہلی ،سماجی مسائل اور پیچیدگیوں سے عدم واقفیت کی بناء پر فوج اور سول نوکر شاہی کے سامنے ہتھیار ڈالتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں روزبروز یہ دونوں ادارے مضبوط اور جمہوریت انتہائی نخیف اورکمزور ہوتے جارہے ہیں۔ یادرہے دفاعی اداروں کی غیر ضروری سویلین معاملات میں مداخلت یا سویلین معاملات نبھانا ان کی پیشہ وارانہ کارکردگی کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر موسمِ گرما کے سیلاب اور موجودہ زلزلے کے متاثرین کی فوری امداد کے لئے حکومت مخلص ہوتے تو منتخب بلدیاتی نمائندے ہر گلی اور محلے میں موجودہے جو نہ صرف اپنے علاقوں کی حالتِ زار سے واقف ہے بلکہ وہ ہر وقت مسائل کی نشاندھی کرنے اور ضرورت مندوں تک امدادپہنچانے کے بھی قابل ہے اور چونکہ یہ کونسلرز براہ راست منتخب ہوکے آئے ہیں اس لئے انہیں رائے عامہ اور اگلے انتخابات کا خوف لاحق رہتا ہے ۔ اگر ان نمائندوں کی خدمات حاصل کی جاتی تو فوج ،پولیس اور پٹواریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شفاف اور بروقت کاروائی عمل میں آتی۔ لیکن حکومت کو نہ تو اپنے بنائے گئے نظام پر بھروسہ ہے اور نہ ہی منتخب نمائندوں پر ۔یہی پاکستان میں نظاموں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہی کچھ ہمارے نام نہادجمہوری حکمرانوں کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔