جس قوم کو بجلی میسر نہیں اسے تھری جی اور فور جی سے کیا فائدہ ملے گا؟ جمعیت علما اسلام  کا سوال

جس قوم کو بجلی میسر نہیں اسے تھری جی اور فور جی سے کیا فائدہ ملے گا؟ جمعیت علما اسلام کا سوال

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) اعصاب شکن لوڈشیڈنگ سے عوام ذہنی مریض بن گئے : آئے روز غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے عوام تنگ آرہے ہیں،مگر حکمران صرف سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں۔عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔انہیں جھوٹے اور کھوکھلے نعروں سے بہلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔جس قوم کو آٹا ،دالیں اور بجلی میسر نہیں ہے انہیں تھری جی اور فور جی سے کیا فائدہ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار سیکریٹری اطلاعات جمیعت علمائے اسلام گلگت اور سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی جی بی ایل اے 1 مولانا رحمت اللہ سراجی نے حلقہ 1 کے نمائندہ وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بجلی کے بے تہاشا اور غیر اعلانیہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سردیوں کے آمد سے قبل ہی گلگت شہر اور مضافات خصوصاً شکیوٹ،شروٹ اور بارگو ،ہنزل اندھیروں میں ڈوب گئے۔جہاں کبھی تین دنوں تک بجلی غائب رہتی ہے۔حکومت اور محکمہ پاور اپنی نااہلی چھپانے کیلئے صارفین پر بلا جواز پابندیاں عائد کررہے ہیں۔گزشتہ سال سیلاب سے تباہ شدہ کارگاہ پاور ہاؤسسز ویران پڑے ہوئے ہیں۔وفاق سے ملنے والا فنڈ کرپشن کی نذر ہوگئے۔تحقیقات کی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے 100 دن عوام کیلئے ڈراؤنا خواب بن گئے ہیں۔محض ہوائی اعلانات اور پریس کانفرنسوں سے مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔موجودہ لیگی حکومت اور سابقہ پی پی حکومت دونوں ایک ہی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔بلند بالا دعویٰ کرکے عوام کو اندھیرے میں رکھا جائے اور اپنا مفاد حاصل کیا جائے۔انہوں نے بجلی کے غیر منصفانہ تقسیم پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد VIPs اور بااثر افراد کیلئے روزانہ 24 گھنٹے بجلی جبکہ غریب عوام روشنی کیلئے ترس رہے ہیں۔اس وقت نالوں میں بھی پانی کافی مقدار میں آرہا ہے۔نومبر میں یہ حال ہے تو آگے دسمبر اور جنوری میں کیا حال ہوگا۔انہوں نے حکومت اور پاور کے باب اقدار سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور فوری طور پر اسپیشل لائنوں کا خاتمہ کیا جائے۔بجلی بحران کے مکمل خاتمے کیلئے ہنزل پاور پراجیکٹ کو جنگی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے۔ورنہ حلقہ نمبر1 احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔