زلزلہ سے متاثرہ علاقے کو میڈیا اور حکام نے نظر انداز کر دیا ہے، متاثرین تکالیف کا شکار ہیں، گلگت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

زلزلہ سے متاثرہ علاقے کو میڈیا اور حکام نے نظر انداز کر دیا ہے، متاثرین تکالیف کا شکار ہیں، گلگت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (فرمان کریم) ضلع غذر کے تحصیل پھنڈر زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں خاطر خواہ امدادی کام نہ ہونے پر علاقے کے طلبا اور نوجوانوں نے گلگت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اتوار کے روز احتجاجی مظاہرے میں متاثرہ تحصیل کےطلباء اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظا ہرین سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی تحصیل پھنڈر کے صدر احسان کریم، شندور سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر سید الرحمان، عنایت اللہ ابدالی اور کلیم اللہ نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو انتظامیہ ، حکومت اور میڈیا نے نظر انداز کردیا ہے جس کی وجہ سے آج بھی لوگ منفی پانچ درجے میں بے یار و مددگار امداد کے منتظر ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کئی ہفتے گزرنے کے با وجود بھی وزیر اعٰلی سمیت کسی حکومتی شخص نے متاثرہ علاقے کا دورہ نہیں کیا ۔ دوسری جانب حلقے کے ممبر نے بھی سب کچھ اچھا ہے کی رٹ لگا کے اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس مسلہ پر بات کرنا گوارہ نہیں کیا جو کہ نا قابل برداشت ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ابھی تک این جی اوز کی مہیہ کردہسامان چند تھیلوں میں ڈال کر اور تصاویر بنا کر کریڈیٹ لینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھنڈر تحصیل میں زلزلے سے تین سو ساٹھ سے زیادہ گھر مکمل تباہ ہوگئے ہیں جبکہ چار سو سے زیادہ گھروں کو جزوی نقصان پہنچ گئے جن میں رہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ مال مویشی ،جنگلات اور سر دیوں کے لئے جمع شدہ خوراک بھی ملبے تلے دب گئے۔ چند این جی اوز کےمہیا کردہ دال چاول سے زندگی گزار نا ممکن نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے عبادت گاہیں بھی متا ثر ہوگئے ۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں دراڑیں پڑ نے کی وجہ سے طلبا سکول جانے سے ڈرتے ہیں اور کھلے آ سمان تلے پڑھائی کرنے پر مجبور ہیں بجلی کے نا قص نظام کی وجہ سے متاثرین مزید مشکلات کے شکار ہیں ۔ مظاہرین نے کہا ہے کہ حکومت تحصیل پھنڈر کو آفت زدہ قرار دیکر یوٹلیٹی بل معاف کرے۔ تباہ شدہ مکانات کے لئے بیس لاکھ اور جزوی طور پر منہدم ہونے والی مکانات کی مرمت کرنے کیلئے کم از کم پندرہ لاکھ روپے دئے جائیں ۔مال مویشی اور سر دیوں کے لئے خوراک کے مد میں فی کس گھرانے پانچ پانچ لاکھ روپے دئے دئے جائیں۔تحصیل پھنڈر کے نا مکمل ا انتظامی ڈھانچے کو فوری طور پر ممکمل کیا جائے۔قرضوں میں تحصیل پھنڈر کے لوگوں کیلئے خصوصی پیکج دیا جائے ۔بجلی کے نا قص اور گندم اور گندم کے عدم دستیابی کا نوٹس لیکر گندم پہنچایا جائے اور فوری طور پر سرکاری اداروں اور عبا دت گاہوں کے مرمت کے لئے فنڈ فرہم کیا جائے ۔اگر ہمارے مطالبات حل نہیں کئے گئے تو گلگت سے گا ہکوچ تک احتجاجی سلسلہ شروع کرینگے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔