سماجی ہم آہنگی کیسے ممکن ہے؟

سماجی ہم آہنگی کیسے ممکن ہے؟

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 محمد حسین

اگر ہم اس کائنات پر نظر ڈالیں تو اس میں ہمیں قدم قدم پرمختلف اور بسا اوقات متضاد(ایک دوسرے کی ضد)اشیاء نظر آئیں گی ، مثلا دن کے ساتھ رات ، روشنی کے ساتھ اندھیرا ، زمین کے ساتھ آسمان، خشکی کے ساتھ تری ، زرخیز زمین کے ساتھ بنجر زمین ۔ اسی طرح انسانوں کو بھی دیکھا جائے تو یہ بھی ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں مثلا: گورا اور کالا، خوبصورت اور بد صورت ، مرد اور عورت ، بچہ اور جوان وغیرہ وغیرہ ۔ شکلوں اور صورتوں کے فرق کے علاوہ انسانوں کی خصوصیات ، دلچسپیوں اور خیالات میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ دنیا کا نظام بہتر چلانے کے لئے ان تمام چیزوں کا مختلف ہونا ضروری ہے ، اگر سب کے خیالات اور شوق ایک ہی جیسے ہوتے تو دنیا کا نظام نہ چلتا ۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی شکل و صورت ، خواہشات اور مزاجوں کے اس فرق کی وجہ سے کائنات کا حسن باقی ہے لیکن ہم نے اسے تنازعات کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ عام انسانوں کو تو چھوڑئیے ایک ہی ماں باپ کی اولاد کے مزاج بھی آپس میں نہیں ملتے یہاں تک کہ دو جڑواں بچوں کے بھی مزاج یکساں نہیں ہوتے بلکہ الگ الگ ہوتے ہیں ، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ایک ہاتھ کی پانچوں کی انگلیاں بھی یکساں اور برابر نہیں ہوتیں ۔ ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ اگر کبھی گھر میں ایک بھائی دوسرے بھائی کے مزاج کے خلاف کچھ کہہ دے تو فوراً غصے کا اظہار کیا جاتا ہے جس سے لڑائی جھگڑے کی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس طرح کبھی کبھی اپنی طبیعت کے خلاف ساتھیوں کو ہم اپنے ساتھ کھیل میں شامل نہیں کرتے کیونکہ طبیعت کے خلاف لوگوں کا برداشت کرنا ہمارے لئے مشکل ہوجاتا ہے ، محلے میں کسی لڑکےنے ایسی بات کہہ دی جو ہمیں پسند نہ ہو تو برداشت نہیں کرسکتے اور اس پر اپنا رد عمل ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ جس سے لڑائی کی نوبت آجاتی ہے ، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو لباس ، زبان ، وضع قطع اور علاقہ ہمیں پسند ہو تو اس کے مخالف لباس ، زبان ، وضع قطع اور علاقے والے کو اس طرح پسند نہیں کرتے ۔ ہماری رواداری اور برداشت کا امتحان اس وقت بڑا سخت ہوجاتا ہے جب ہمارے پڑوس یا محلے میں کسی دوسرے مذہب والا رہتا ہو، دوسرے مذہب کے علاوہ اگر اپنا ہی ہم مذہب ہو لیکن وہ کسی اور مسلک والا ہو تو پھر بھی ہمارے رویوں میں فرق آجاتا ہے۔ ہم ضرورت کے وقت اس کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش نہیں آتے، اس سے گفتگو ہو تو اس کی رائے کا احترام نہیں کرتے۔ صرف مذہبی یا مسلکی اختلاف کی بنیاد پر ہم اس کے حقوق کا خیال رکھنے کو اپنا فرض نہیں سمجھتے۔ اس طرح جس جگہ بھی کسی کو رواداری کے بجائے عدم برداشت ہو تو وہاں کا سکون اور اطمینان متاثر ہوگا اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہاں امن ختم ہوکر فساد اور بدامنی آئے گی ۔ جب کوئی شخص اپنے خیالات اور مزاج کے خلاف کسی چیز کو برداشت نہیں کرسکتا ہے تو پھر وہ غصے کا اظہار کرتا ہے ۔ انسان کو ناگوار بات پر غصہ آنا فطری بات ہے۔ اسلئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان کو بالکل غصہ ہی نہ آئے، بلکہ غصے میں آنے کے بعد ایک اچھے انسان کا کردار اور رویہ اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دوران متوازن اور اعلیٰ کردار کے حامل انسان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہر حال میں غصہ اس کے قابو میں رہے، اگر کسی نے اس پر زیادتی بھی کی ہو تو اسے معاف کردے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر کسی نے زیادتی کی ہے تو صرف معاف ہی نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ اچھے رویے سے پیش آئے۔ اس طرح سے برائی کمزور اور اچھائی طاقتور ہو جاتی ہے، برائی سکڑ جاتی ہے اور اچھائی پھیل جاتی ہے۔ جب انسان میں عدم برداشت اور نفرت کا جذبہ پیدا ہوتو اسے اپنے مخالف کے ساتھ انصاف کرنا مشکل ہوجاتا ہے ، اور اگر کسی نے ہمارے مذہبی جذبات کو اپنے کسی عمل سے ٹھیس پہنچائی ہو تو پھر تو ہماری برداشت کی قوت جواب ہی دے جاتی ہے۔ جب انسان برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر انتقامی جذبات پر مبنی مشتعل کا رویہ اپنائے تو نہ صرف اپنا ذہنی ، جسمانی اطمینان و سکون داؤ پر لگا لیتا ہے بلکہ اپنے رویے کی وجہ سے دوسروں کا امن بھی برباد کردیتا ہے ۔

عام معاملات کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تحمل اور برداشت کی ہے۔ اس لیے ہمیں کسی رنگ و نسل اور مذہب و علاقے کے فرق کے بغیر انسان کے احترام کو تسلیم کرنے، تنازعات کو حل کرنے اور اختلافات میں کسی جبر ( زور و زبردستی ) کے بجائے رواداری کا رویہ اپنانا چاہیے ۔کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو نہ صرف ہمارے اپنے ملک میں امن کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ دنیا کا امن بھی متاثر ہوگا ۔ پاکستان جیسے نسلی، مذہبی، لسانی، سماجی، سیاسی اور علاقائی لحاظ سے کثیر الجہت معاشرے میں پُرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی برداشت سے بڑھ کر باہمی رواداری کی ضرورت ہے۔ برداشت نسبتاً ایک منفعل (Passive) رویہ ہے جس میں انسان اپنے سے کسی بھی لحاظ سے مختلف انسان کے رویے کو بادل نا خواستہ برداشت کرتا ہے اور اپنا رد عمل ایک وقت تک روک کے رکھتا ہے۔ جبکہ رواداری ایک فعال(Active) رویہ ہے جس میں انسان اپنے سے کسی بھی لحاظ سے مختلف انسان کے رویے کو خوش دلی سے قبول کرتاہے اور اُس کے ساتھ اختلاف کے باوجود احترام اور ہمدلی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اختلافات کا احترام، زیادتیوں پر معافی، نقصانات کی تلافی اور خوش گوار تعلقات جذبہ رواداری میں پنہاں ہیں۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی فلاح اسی میں ہے کہ ہم اپنے اندر عدم برداشت کے رویوں اور جذبات کا بار بار محاسبہ کریں، اپنے تعصبات کا بغور تجزیہ کریں اور اپنے اردگرد کے مختلف لوگوں کو برداشت سے آگے بڑھ کر ہمیں باہمی احترام، فراخدلی، ہمدردی اور رواداری سے قبول کریں۔ کیونکہ افراد کی خوشی، معاشرے کی خوشحالی، ملک کی ترقی، انسانوں کی فلاح ، اور دنیا کا امن اسی میں ہی مضمر ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

محمد حسین

محمد حسین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ دینی تعلیم کے علاوہ ایجوکشن میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں ، ایک ماہر نصاب کے طور پر اب تک بارہ کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کیا ہے۔ ایک پروفیشنل ٹرینر کی حیثیت سے پاکستان بھر میں مختلف درسگاہوں اور مراکز میں اب تک ایک ہزار سے زائد اساتذہ، مختلف مسالک و مذاہب سے وابستہ مذہبی قائدین اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں کو فن تدریس، ، قیادت، امن، مکالمہ، حل تنازعات، نصاب سازی ، تعصبات اور مذہبی ہم آہنگی جیسے مختلف موضوعات پر پیشہ ورانہ تربیت دے چکے ہیں۔ ریڈیو ، ٹی وی اور ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔