امن عالم ایک خواب ہے مگر ۔۔۔۔۔؟

امن عالم ایک خواب ہے مگر ۔۔۔۔۔؟

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: محمد حسین

انسانوں کی ضروریات، صلاحتیں دلچسپیاں، خواہشات، خیالات، مفادات اور مزاج مختلف ہیں اس لیے ان میں اختلاف رونما ہونا ایک فطری بات ہے۔ کبھی یہ اختلافات شدت اختیار کر جاتی ہیں جس سے ان کے درمیان تلخیاں اور بدمزگیاں پیدا ہوتی ہیں اور کبھی کبھی لڑائی جھگڑے تک نوبت پہنچتی ہے اسی طرح کبھی کبھی معاشرے میں کچھ افراد زور زبردستی اور زیادتی کرتے ہیں اور لوگوں کے حقوق غصب کرنے لگتے ہیں ، اس طرح معاشرے میں انتشار پھیلنےلگتا ہے ۔ زیادتی کرنے والے کبھی ادارے کبھی گروہ اور کبھی ممالک کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں ۔ اگر ہم نجی سطح پر اپنے گھر اور خاندان کی زندگی ، پڑوس اور محلہ داروں کےساتھ رہن سہن یا علاقے کی سطح پر دوسروں کو ان کا حق نہ دیں بلکہ ان کے حقوق مارنے لگیں تو اس طرح ہر شخص زور زبر دستی سے اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح رشتہ داروں کے درمیان، پڑوسیوں کے درمیان اور علاقے میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں، انفرادی جھگڑوں سے بات آگے بڑھتی ہے اور لوگ مختلف نعروں کی بنیاد پر گروپ بنا کر جھگڑے شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح ہماری زندگی تشدد، جنگ، منافرت، تفریق اور تعصب کی شکار ہوجاتی ہے ۔ اجتماعی سطح پر ایسی پُرآشوب زندگی سے باہر آنے کا ایک راستہ انصاف کا راستہ ہے۔ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی اور عالمی زندگی (گلوبل لائف) تک ا گر انصاف کے اصولوں کی بالادستی ہو تو تشدد، قتل و غارت، تنازعات اور ظلم و ستم کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔ اب انفرادی، سماجی ، ریاستی اور عالمی انصاف کی فراہمی کیسے ممکن ہے؟

اسی سوال کا جواب ہم چند نکات میں تلاش کرتے ہیں:

انفرادی سطح پر انصاف:

انفرادی زندگی میں انصاف کے اصولوں پر کاربند رہنا ایک مشکل امر ہے ۔ انفرادی انصاف کے لیے سب سے شفاف میزان آپ کا اپنا ضمیر ہے۔ ضمیر کی عدالت میں کبھی انصاف کا تقاضا آپ کی خواہشات کی قربانی اور مفادات سے دست برداری کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی آپ کے توقعات اور تعلقات کے ٹوٹنے میں ، آپ کو اپنے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف بھی کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے۔

سماجی سطح پر انصاف:

اجتماعی زندگی کا نظام چلانے کے لیے ہر سماج مختلف ادارے تشکیل دیتا ہے اور پھر ان اداروں کے لیے باہمی مشاورت سے اصول اور ضوابط بناتا ہے تاکہ وہ ادارے ان اصول اور ضوابط کے تحت چلیں ، عام لوگ عوامی سطح پر مختلف ادارے قائم کرتے ہیں، تعلیمی ادارے ، ہسپتال اور سماجی خدمات کے مختلف ادارے لوگ قائم کرتے ہیں مختلف انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسانوں کے درمیان ان اداروں کا وجود بہت ضروری ہے ۔ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو انسان کی اجتماعی ضروریات کا پور ا کرناناممکن ہوجائے گا جس سے ہماری سماجی زندگی بہت مشکل ہوجائے گی ، اس طرح یہ ادارے گویا تمام لوگوں کے مشترکہ مفادات کو پورا کرنے والے ہیں ۔ ان اداروں کے کاموں میں اگر اصولوں کی پاسداری کی جائے تو تمام لوگ اس قسم کے اداروں سے یکساں طور پر فائدہ حاصل کر پاتے ہیں ۔ اگر ان اداروں سے فائدہ پہنچانے میں لوگوں کے ساتھ انصاف نہ ہو بلکہ لاقانونیت جیسے امتیازی سلوک، کرپشن، اقربا پروری، سفارش اور زور و زبردستی وغیرہ رائج ہوں تو نہ صرف ان اداروں کا اپنا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے بلکہ عوام میں بھی رد عمل کے طور پر بدامنی پیدا ہوگی اس لیے ان اداروں کے چلانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ اداروں میں نا انصافی اور لاقانونیت کو پیدا ہونے نہ دیں ورنہ امن کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔

عدالتی سطح پر انصاف:

معاشرے میں عدل و انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اور مظلوموں کو ان کا حق دینے کے لیے ملک میں چھوٹی بڑی عدالتیں قائم ہیں ۔ ان عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے کے لیے ایک پورے نظام کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ ملکی عدالتیں لوگوں کی امیدوں کا آخری سہارا ہوتی ہیں۔اگر کسی بھی وجہ سے لوگوں کو عدالت سے انصاف نہ ملے تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات ظلم اور زیادتی کرجاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے عدالتی نظام پر لوگوں کا یقین و اعتماد ہو ، عدالتوں میں رشوت ، سفارش اور دھونس دھمکی کی بنیاد پر اپنے حق میں فیصلے لینے کا سلسلہ نہ ہو ، وکیل ناحق کے بجائےصرف حق کی طرف داری کریں ، انصاف کا حصول مہنگا نہ ہو بلکہ سستا ہو اور انصاف کی فراہمی حتی الامکان فوری اور بروقت ہو اور اس میں غیر ضروری لمبی مدت نہ صرف ہو ۔ ریاستی سطح پر انصاف: ہر ریاست ملکی نظام چلانے کے لیے مختلف قسم کے ادارے قائم کرتی ہے۔ عدل و انصاف حکومت و سلطنت کی عمارت کا ستون ہے۔ ریاست چونکہ اپنے سارے عوام کے آئینی، سیاسی ، معاشی حقوق اورمفادات کی محافظ ہے۔ عوام کی اجتماعی زندگی میں ریاستی عمل دخل کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اس لیے ریاستی سطح پر اگر کسی نسلی، لسامی، مذہبی یا سماجی گروہ کے خلاف تفریق، تشدد اور وسائل و اختیارات کے ناجائز استعمال کا شروع ہو جائے تو اس گروہ میں احساس محرومی پروان چڑھتا ہے اور جو رفتہ رفتہ پورے ملک کے امن و استحکام کو متاثر کردیتا ہے ۔

عالمی سطح پر انصاف:

دنیا جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی پیش رفت کے نتیجے میں ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تجارت، سیاست، ثقافت، سفارت کاری، ملکوں کے تعلقات، عالمی وسائل پر حق تصرف، بین الممالک تنازعات اور تعلقات کی نوعیت کے سارے روایتی تصورات، اصول، معیارات، تناظرات اور ان سے نمٹنے کے اسالیب یکسر بدل چکے ہیں۔ جس طرح دنیا کے کسی کونے میں موجود چھوٹا سا گاؤں پوری دنیا کے حالات اور تبدیلوں سے متاثر ہوتا ہے اس طرح اس گاؤں میں پیش آنے والا واقعہ پوری دنیا کے حالات پر اثر انداز بھی ہو سکتا ہے۔ اب معیشت عالمی، سیاست عالمی، سیاحت عالمی، تجارت عالمی ہوچکی ہے اسی طرح امن بھی عالمی تناظر کی حیثیت رکھتا ہے، دنیا بھر کے تنازعات، قدرتی، وسائل پر حق تصرف، تجارتی مواقع میں شفافیت، سیاسی حقوق کی فراہمی وغیرہ سے نمٹنا اور عالمی سطح پر عدل و انصاف کا قیام عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مشرق وسطی، افغانستان، کشمیر، فلسطین، برما، افریقہ کےباسیوں اور مغربی ممالک میں بسنے والے سیاہ فارم باشندوں کو عدل و انصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنا اور انصاف فراہم کرنا امن عالم کے لیے نہایت ضروری ہے۔

عدل و انصاف کو اختیار کرنے کا تعلق انسانی زندگی کے ہر مرحلے سے ہے کیونکہ اسی سے زندگی کے ہر میدان میں امن قائم رہ سکتا ہے۔ اس لیے جب تک انفرادای، ادارتی، ریاستی اور عالمی سطح پر سماجی انصاف کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا امن عالم بھی ایک خواب ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

محمد حسین

محمد حسین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ دینی تعلیم کے علاوہ ایجوکشن میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں ، ایک ماہر نصاب کے طور پر اب تک بارہ کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کیا ہے۔ ایک پروفیشنل ٹرینر کی حیثیت سے پاکستان بھر میں مختلف درسگاہوں اور مراکز میں اب تک ایک ہزار سے زائد اساتذہ، مختلف مسالک و مذاہب سے وابستہ مذہبی قائدین اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں کو فن تدریس، ، قیادت، امن، مکالمہ، حل تنازعات، نصاب سازی ، تعصبات اور مذہبی ہم آہنگی جیسے مختلف موضوعات پر پیشہ ورانہ تربیت دے چکے ہیں۔ ریڈیو ، ٹی وی اور ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔