مسلمان ممالک میں دہشت گرد تنظیمیں کیوں اور کیسے وجود میں آتی ہیں ؟

مسلمان ممالک میں دہشت گرد تنظیمیں کیوں اور کیسے وجود میں آتی ہیں ؟

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

انسانی جان کو سب سے زیادہ خوفناک خطرہ اس وقت عالمی دہشت گردی سے ہے۔ گزشتہ دنوں میں لبنان کے شہر بیروت اور فرانس کے شہر پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی ایک بار پھر عالمی ذرائع ابلاغ اور ریاستی و سکیورٹی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پُرتشدد انتہاپسندی کے نتیجے میں گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران لاکھوں لوگ ریاستی اور غیر ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے گوشہ و کنار کے زیادہ تر ممالک دہشت گردی کے واقعات کے زد میں آ چکے ہیں تاہم دہشت گردی سے مسلم ممالک نسبتاً زیادہ متاثر ہو ئے ہیں۔

دہشت گردی کے نتیجے میں متاثرہ ممالک میں مجموعی طور پر اب تک لاکھوں افراد آگ اور آہن کی نذر ہو چکے ہیں۔ خون کی ندیاں بہہ چکی ہیں، ہزاروں بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ لاکھوں بچے، خواتین بوڑھے اور جوان تہہ تیغ ہو چکے ہیں۔ خوف، دہشت اور اضطراب نے امن و امان، سکون اور اطمینان کی فضا کو خون آلود کر دیا ہے۔ ہر طرف دکھ، غم، نوحہ، ماتم، چیخ و پکار، آہیں اور سسکیاں ہیں۔ مجبوری، بے بسی، لاچارگی، افسردگی، اداسی، مایوسی، احساس محرومی اپنی اپنی انتہا کو چھو رہی ہیں۔ متاثر ہ معاشروں کی مشکلات میں کمی آنے کے بجائے تکالیف روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ خوشحالی اور ترقی کی امیدیں بدحالی کی مایوسی کی نذر ہو تی جا رہی ہیں۔ متاثرین اپنے گھر وں سے بے یار و مددگار ہو کر کھلے آسمان تلے دربدری کے عالم میں ہیں یا مہاجرت کرتے ہوئے صحرا اور سمندر کے موجوں کے رحم و کرم پر ۔ اپنےمنہ پھیر رہے ہیں نالاں ہیں اور دورازے بند کر رہے ہیں جس کی وجہ سےغیروں کے دروازوں پر اذن دخول مانگ رہے ہیں۔ بھوک، پیاس، بیماری بے معانی ہو چکی ہیں۔ اب بربریت، درندگی، عصمت دری، ذبح، آگ، بم، گولی کا ہر لمحہ سامنا ہے۔ موت ہر طرف عیاں ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ زندگی کے آثار معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

کوئی آسرا نہیں، کوئی ہمنوا نہیں، نہ کوئی غم خوار، نہ ہمدردر، نہ دکھ درد کو سننے والا اورنہ ہی اس کا کوئی مداوا کرنے والا۔ باپ کے سامنے بیٹی لاچار، ماں کے سامنے بچے، بچوں کے سامنے ماں باپ کا غم، الم، مصیبت !! لیکن کریں تو کیا کریں لاچار و ناچار!!!!!

 دکھ درد اور رنج والم، ظلم و بربریت، دہشت و وحشت کی یہ کہانیاں ہمیں مسلم جنگ زدہ معاشروں میں سنائی اور دکھائی دیتی ہیں۔ اس ساری صورت حال کا ا جائزہ لیا جائے تو اس کا بنیادی سبب مسلم معاشروں میں جنم لینے والی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ دہشت گرد تنظمیں مسلم معاشروں ہی سے اسلام کے نام پر ہی کیسے جنم لے رہی ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے تاہم میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ دہشت گردی اور انتہاپسندی تین مرحلوں میں طفولیت سے بلوغت تک پہنچتی ہے۔

 پہلا مرحلہ، جب کسی بھی ریاست کے بد ترین طرز حکمرانی، سماجی تفریق، ریاستی تشدد، غربت، بے روزگاری اور نا انصافیوں سے وہاں کے شہری تنگ آجاتے ہیں، ریاست کی جانب سے لوگوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق پامال کیے جاتے ہیں۔ تو لوگ اپنی نسلی، مذہبی اور لسانی شناخت اور وجود کو خطرے میں محسوس کرنے لگتے ہیں یوں وہ ابتدا میں اپنے جائز حقوق کے لیے حکومتوں کے خلاف منظم انداز میں اٹھتے ہیں۔ اس طرح ریاست مخالف مقامی سطح پر غیر ریاستی عناصر یا مزاحمتی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ عرب سپرنگ سمیت مختلف مسلم ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مرحلے میں سیاسی اصلاحات، اقتدار میں شراکت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، شکایات کا ازالہ اور جائز حقوق کی فراہمی مسئلے کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

 جب پہلے مرحلے میں لوگوں کے شکایات کا ازالہ نہ ہو تو دوسرے مرحلے میں مختلف علاقائی اور ہمسایہ ممالک اپنی باہمی مخاصمت کی بنیاد پر دوسرے ممالک میں اُن کو مزید غیر مستحکم کرنے کی خاطر مداخلت شروع کرتے ہیں ۔ مسائل اور ریاستی جبر سے تنگ آ کر بغاوت پر اترے ہوئے مشتعل لوگ بیرونی امداد کو غنیمت سمجھتے ہیں ۔ اس مداخلت کے نتیجے میں پراکسی وار شروع ہوتی ہے۔ اس طرح بیرونی طاقتوں کو کسی اور ملک میں مداخلت کرنے اور خانہ جنگی کا کھیل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اس مرحلے میں انتشار، پروپیگنڈا، نسلی، لسانی یا مذہبی بنیادوں پر گروہی فرقہ وارانہ فسادات میں شدت دکھائی دیتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے معاملے میں سعودی عرب، قطر، ترکی، ایران، لبنان، دیگر عرب ممالک کی شام، عراق، یمن اور بحرین میں مداخلت کو اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں متوازن سفارتی تعلقات اور علاقائی ممالک میں باہم عدم مداخلت کی پالیسی سے معاملے کو نمٹا جا سکتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں مسئلے کو مناسب انداز میں مخاطَب نہ بنانے کی صورت میں تیسرے مرحلے میں معاملہ مزید شدت، حدت اور وسعت اختیار کر جاتا ہے ۔ علاقائی اور عالمی استعماری طاقتیں اپنے اپنے مقاصد کے لیے ریاست کے خلاف نبرد آزما اور باہم متصادم گروہوں کو استعمال کرنے کا موقع پاتی ہیں۔ پھر یہ طاقتیں انہیں جنگی تربیت، جدید اسلحہ، افرادی قوت اور دیگر ذرائع سے مزید مضبوط اور طاقتور بناتی ہیں اور اپنے ریاستی مفادات کے حصول کے لیے کام میں لاتی ہیں۔ اور ضرورت محسوس کریں تو وہ خود جدید ترین جنگی اسلحے سے لیس ہو کر میدان میں اترتی ہیں اور تباہی اور بربادی مچاتی ہیں۔ شام اور عراق کے مسئلے پر امریکہ، یورپی اور نیٹو ممالک، روس، چین کی مداخلت /شمولیت کو اسی زاویہ نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں اقوام متحدہ کی منفعل کارکردگی اور طاقتور ممالک کی جانب سے اپنے ممالک کو لاحق ممکنہ خطرات سے پیشگی دفاع کے نام پر یا انتقام کے جذبے کے تحت مختلف مسلم ممالک پر حملے دہشت گردی کو مزید پھلنے اور پھولنے کا باعث بنے۔

گروہی تنازعات میں نسلی، لسانی اور مذہبی تعصبات، فرقہ وارانہ فسادات، علاقائی ممالک کے مابین روایتی مخاصمت، عالمی طاقتوں کے متصادم مفادات، باہمی سفارتی تعلقات میں تناؤ، انتقامی جذبات اور طاقت کے بل بوتے پر غلبہ اور اقتدار کی ہوس، مواقع اور جگہوں پر عمل اور رد عمل پر مبنی رونما ہونے والے پُرتشدد واقعات جیسے عوامل اس آگ کے کھیل میں پٹرول کا کام کرتے ہیں ۔ جب پُر تشدد دہشت گردی میں مختلف ممالک حصہ دار بنتے ہیں تو اس آگ اور آہن کا کھیل میدان جنگ کی سرحدیں پھلانگتے ہوئے اُن ممالک تک پہنچنے لگتے ہیں جو انہی دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلح اور مضبوط کرتے رہے ہیں یا ہنوز کر رہے ہیں۔ یوں مفادات کے خونی کھیل کا ایک شیطانی دائرہ وجود میں آجا تا ہے جس میں انسانی جان کی قدر و قیمت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔

گزشتہ تقریباً کئی دہائی سے جاری دہشت گردی کے تسلسل کو شام، عراق، یمن، لبنان، افغانستان، پاکستان، الجزائر، صومالیہ وغیرہ کو متعلقہ ممالک کے طرز حکمرانی کے ساتھ ملا کر ان کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو داعش، القاعدہ، جبہۃ النصرہ، انصار اللہ، حزب اللہ، طالبان، بوکوحرام، الشباب وغیرہ جیسی مسلح مسلم تنظیموں کی طفولیت سے بلوغت تک کے مراحل سمجھے جا سکتے ہیں۔

دہشت گردی کی حالیہ لہر سے پوری دنیا متاثر ہو چکی ہے۔ چنانچہ دہشت گردی اور بدامنی اب بلا تفریق پورے عالم کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس تناظر میں ہر باشعور اور انسانی ہمدردی سے سرشار شخص کی یہی دلی خواہش ہے کہ پورا عالم امن کا گہوارا بنے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مکروہ عفریت سے کیسے نمٹا جائے؟ دہشت گردی کے حل کا آغاز بھی وہیں سے ہوگا جہاں سے دہشت گردی کی راہ ہم ہموار ہوئی ہے۔ یعنی اس کا مستقل اور فطری حل بیرونی مداخلت ہر گز نہیں ہے بلکہ داخلی سطح پر متصادم گروہوں کو سیاسی اور غیر عسکری حل پر آمادہ کیا جائے۔ جبکہ امن عالم کا تقاضا ہے کہ ایک طرف جنگ اور دہشت گردی کے مکروہ تسلسل کے پیچھے کارفار چند اہم عناصر(۱) ’’اسلحہ سازی کی منعفت بخش صنعت‘‘ [ جس سے چند ممالک کے مفادات وابستہ ہیں] (۲) کمزور اور جنگ زدہ ممالک میں بڑی طاقتوں کی مداخلت (۳) وسائل پر قبضے کی بے لگام دوڑ (۴) ریاستی اور تجارتی مفادات کے لیے تمام اخلاقی و انسانی اقدار کی پامالی (۵) مذہب خاص طور پر اسلام کے مقدس مذہبی لبادے میں تشدد اور دہشت گردی کے خلاف مسلم قائدین/ممالک کی غیر واضح اور منقسم پالیسی (۶) انسداد دہشت گردی پر مشرق و مغرب، امیر و غریب، مسلم و غیر مسلم کی تفریق کیے بغیر ایک ہمہ جہت اسلوب پر بین الاقوامی سطح پر نتیجہ خیز غور اور خوض کیا جائے، ایسی منصفانہ اور جامع حکمت عملی اپنائی جائے جس میں انسانیت کے لیے امن، خوش حالی اور ترقی کا پیغام ہو نہ کہ انسداد دہشت گردی کے نام پر امیروں کے ہاتھوں غریبوں کے استحصال کی توثیق کا پروانہ۔ امن عالم کے لیے عالمی برادری کے خلوص نیت، مضبوط ارادے، منظم منصوبہ بندی اور ان منصوبوں پر مؤثر عمل در آمد کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ملکوں کے مؤثر اور بہتر طرز حکمرانی، سیاسی اصلاحات، عصری تقاضوں اور ضروریات کے مطابق تعلیمی نصاب و نظام کی تجدید، تحقیق و ترقیاتی اقدامات اور انسانی وسائل کی پرورش پر سرمایہ کار اور سماجی انصاف کی فراہمی جیسے اقدامات ثمر آور ہو سکتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

محمد حسین

محمد حسین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ دینی تعلیم کے علاوہ ایجوکشن میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں ، ایک ماہر نصاب کے طور پر اب تک بارہ کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کیا ہے۔ ایک پروفیشنل ٹرینر کی حیثیت سے پاکستان بھر میں مختلف درسگاہوں اور مراکز میں اب تک ایک ہزار سے زائد اساتذہ، مختلف مسالک و مذاہب سے وابستہ مذہبی قائدین اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں کو فن تدریس، ، قیادت، امن، مکالمہ، حل تنازعات، نصاب سازی ، تعصبات اور مذہبی ہم آہنگی جیسے مختلف موضوعات پر پیشہ ورانہ تربیت دے چکے ہیں۔ ریڈیو ، ٹی وی اور ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔