مکتب سکول اور زیروزبرسکول

مکتب سکول اور زیروزبرسکول

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مکتب سکول الگ ہے اس کی تاریخ 32سال سے اوپر ہے زیروزبرسکول علیحدہ سکول ہے اس کی تاریخ4سال کے لگ بھگ ہے دونوں کا تعلق گورننس کے ساتھ ہے مینجمنٹ کے ساتھ ہے اور دونوں بْنیادی تعلیم کے بْنیادی مسائل ہیں 32سال پہلے یونیورسل پرائمری ایجوکیشن (UPE)کے لئے مکتب سکول کھولے گئے تھے منصوبہ یہ تھاکہ10سال کے اندر مکتب سکولوں کو پرائمری کا درجہ دیاجائے گاپھر حکومت یہ بات بھول گئی مکتب سکول مکتب ہی رہے اور استاد بھی طفیل مکتب ہی رہا زیروزبرسکول کی کہانی دلچسپ ہے سکول کی عمارت جولائی 2010میں سیلاب کی نذر ہوگئی 5سال بیت گئے بچے اور بچیاں خیمے کے اندر تعلیم حاصل کر رہی ہیں 5سالوں میں حکومت کو ایک کمرہ تعمیرکرنے کی توفیق نہیں ہوئی میری عمر 63سال ہے57سال پہلے میں ریاست چترال کے دور افتادہ گاؤں بالیم میں پرائمری سکول کا طالب علم تھا سال میں 4 مرتبہ ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولزگھوڑے پر سواری کر کے 130کلومیٹرکے فاصلے کا سفر کر کے میرے سکول کا معایئنہ کرتا تھامیری کلاس میں آکر کم ازکم تین کتابوں میں امتحان لیتا تھااستاد کے رجسٹر اور ریکارڈکو چیک کرتا تھا57سال کے بعد سڑک ہے موٹر ہے موٹر سائیکل ہے ٹیلیفوں ہے بجلی ہے انٹر نیٹ ہے لیکن ڈسٹرکٹ کے ذمہ دار افیسر کو یہ معلوم نہیں کہ مکتب سکول میں کتنے طالب علم ہیں اور کتنے استاتذہ ہیں کتنے کمرے ہیں تین موٹی باتیں ضلع کے حاکم مجاز کو معلوم نہیں ہیں صوبہ کے حاکم کو معلوم نہیں ہیں اے ڈی او اور ڈی ڈی او کو ان کا پتہ نہیں ہے حکومت کی پالیسی میں ماڈل سکول آئے،حکومت کی پالیسی میں ریشنلائزیشن کا منصوبہ آیا مکتب سکول مسجد میں قائم ہے 110 طلبہ کے لئے ایک استاد ہے 130 طلبہ کے لئے بھی ایک استاد ہے کمرہ کوئی نہیں سہولت کوئی نہیں حکومت کی سکیم یہ بھی تھی کہ 10 سال بعد مکتب سکول کو پرائمری کادرجہ دیا جائے گا مگر 30 سال بعد بھی مکتب نے مکتب سے پرائیمری کاسفر طے نہیں کیا اس کا نام مسجد مکتب ہی رہا وجہ یہ ہے کہ کوئی افیسر معائینہ نہیں کرتا کوئی افیسر رپورٹ نہیں لکھتا کوئی افیسر رپورٹ نہیں پڑھتا افیسر رپورٹ کوآگے نہیں بھیجتا جمود طاری ہے قبرستان والی خاموشی ہے گویا ساری بستی مردوں کی بستی ہے خیبر پختونخوا میں مسجد مکتب سکولوں کی اچھی خاصی تعداد ہے اور سارے مکتب سکول حکومت کی بے تو جہی کا شکار ہیں حکومت کو ،آڈیٹر جنرل کواس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ ڈسٹرکٹ افیسر ایلیمنٹری انیڈ سکینڈی ایجوکیشن گاڑی کس نام پر دوڑاتا ہے پی اول اور دیگر اخراجات کس کام پر لگا تا ہے وہ مکتب سکول کا معائینہ کر کے رپورٹ کیوں نہیں دیتا ؟زیر وزَبر سکول ایک نہیں درجن سے زیادہ تو ایک ہی ضلع میں ہیں میرے سامنے چترال کی وادی کالاش کے اندر رمبور کے گاؤں بڑا نگورُو کا سکول ہے جولائی 2010 ؁ء میں سکول کی عمارت سیلاب میں بہہ گئی کالاش اور مسلمان بچے ،بچیاں پڑھتی تھیں ان کو خیمہ دیدیا گیا 5 سال ہوگئے کسی افیسر نے وہ خیمہ نہیں دیکھا کسی ایم پی اے یا ایم این اے کو وہ خیمہ نظر نہیںآیا حالانکہ یہ سارے لوگ سال میں4 بار کالاش تہوار دیکھنے اور رقص سے لطف اندوز ہونے کے لئے رُمبور جاتے ہیں یہ پہلی کا لاش پائیلٹ خاتون لیکشن بی بی کا گاؤں ہے یہ ڈسٹرکٹ کونسل کے سابق ممبر سیف اللہ اور سابق ممبر بشار ا خان کا گاؤں ہے یہ کالاش تاریخ کے عظیم مورخ خوش نواز کاگاؤں ہے 5 سالوں تک سیلاب زدہ سکول کو دوبار ہ تعمیر نہ کر نا بدانتظامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے یہ بھی مکتب سکول کی طرح زیر وزبر نظر آتا ہے کیا محکمہ تعلیم کے کسی افیسر کو ان جیسے سکولوں کے معائنے کی زحمت کا وقت نہیں ملے گا؟ صوبائی وزیرتعلیم عاطف خان اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ تعلیم کے موضوع پر کسی جگہ تقریر کر کے اخبارات میں اپنی تصویر چھپوانے سے پہلے کسی مکتب سکول اور کسی سیلاب زدہ سکول کے اندر جھانک کر دیکھیں کہ اصل صورت حال کیا ہے؟

وما علینا الاّ البلاغ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔