ہنزہ کہاں ہے؟

ہنزہ کہاں ہے؟

33 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غلط معلومات کی فراہمی وقتی طور پر شاید کوئی نقصان نہ دے مگر اس وقت انسانوں کے ذہنوں کو سخت تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے جب ان پر حقیقت کھل جاتی ہے۔ بچپن میں ہمیں اپنی بہت ساری روایات سے جھوٹ کے ذریعے متعارف کرایا جاتا ہے، بہت ساری تاریخی، مذہبی اور دیگر باتیں سمجھاتے وقت جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، یہی سبب ہے کہ جب ہم خود کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور سچ جھوٹ کا پتہ چلتا ہے تو ہم ان روایات سے باغی ہو جاتے ہیں کیونکہ جھوٹ سے نفرت انسانی فطرت کا حصہ ہے یہاں تک کہ جھوٹ کے عادی لوگ بھی دوسروں کا جھوٹ برداشت نہیں کرتے۔ ان تمہیدی کلمات کو چھوڑ کر آپ کو کہیں اور لئے چلتے ہیں۔

چند سال قبل سکردو سے گلگت کی طرف سفر کرتے ہوئے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک بچے سے کچھ بات چیت ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک نوٹ بک تھی جس پر انگریزی حروف میں ہنزہ لکھا ہوا تھا، میں نے ایسے ہی وقت گزاری کیلئے اس سے پوچھا۔ ’’ہنزہ کہاں ہے؟‘‘ پہلے تو بچے نے حیرت سے میری طرف دیکھا پھر بولا’’ہنزہ…..ہنزہ میں ہی ہے۔‘‘ میں نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے وضاحت کے ساتھ سوال کیا۔ ’’بھئی جس طرح نگر گلگت بلتستان میں ہے کیا ایسے ہی ہنزہ گلگت بلتستان میں نہیں ہے؟‘‘ بچے نے معصومانہ انداز میں صرف ہاں میں سر ہلایا۔مجھے لگا کہ بچہ اس حوالے سے کنفیوژ ہے۔ اگلا سوال کیا ’’آپ کہاں سے ہو؟‘‘ اس بار بچہ فٹ سے بول پڑا۔ ’’ہنزہ سے‘‘۔ اب حیران ہونے کی باری میری تھی۔ ’’ارے کمال کرتے ہو، تم ہنزہ سے ہو اور یہ نہیں معلوم کہ ہنزہ کہاں ہے۔‘‘ بچے کا باپ ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہا تھا ، کہنے لگا’’دراصل اس کی پیدائش یہی سکردو میں ہوئی ہے، اب ہنزہ میں ہمارا کچھ بھی نہیں ہے ، ہم 20سال سے ادھر ہی رہ رہے ہیں مگر ہنزہ سے ایک تعلق ہے جو ٹوٹتا ہی نہیں، جس کی بنیاد پر کبھی کبھی ہنزہ جاتے رہتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد اسی موضوع پر ان حضرت سے میری کافی گفتگو ہوئی۔

 اس واقعہ کو گزرے کئی سال بیت گئے تھے اور میرے ذہن سے محو ہو گیا تھا، ویسے بھی اس میں یاد رکھنے والی کوئی خاص بات نہیں تھی مگر آج وہ بچہ رہ رہ کر مجھے یاد آرہا ہے۔

میرے ہاتھ میں سرکاری سکولوں میں پڑھائی جانے والی ایک کتاب ہے۔ جس کا نام انگلش فور (English 4)ہے ، اس کا صفحہ نمبر 2مجھے حیران کن معلومات فراہم کر رہا ہے۔ لکھا ہے

“There are high mountains in North of Paksitan. K-2, the second highest mountain peak in the world is also in this area. Tourists from all over the world come to explore this peak. In province of Khyber Pakhtunkhwa there are many lush green valleys like Chitral, Dir, Hunza, Kaghan and Swat.

ان لائنوں کے ذریعے مجھے پتہ چلا کہ ہنزہ خیبر پختونخواہ نامی صوبہ میں ہے جہاں چترال ، دیر، کاغان اور سوات وغیرہ بھی موجود ہیں۔میں نے اپنے آپ سے کہا ’’ حیرت ہے میں نے خود کئی دفعہ جا کر دیکھا ہے کہ ہنزہ گلگت بلتستان میں ہے مگر یہ کیا …..میں جھوٹا ہوں یا یہ کتاب…؟ایک تو جھوٹ بول رہا ہے۔‘‘
مصنیفہ سوبیہ کیانی اور زائرہ نجیب نے یہ کتاب اپیل ایجوکیشنل پریس لاہور کیلئے تیار کی ہے جو نہ صرف صوبہ پنچاب کے تمام سکولوں میں بلکہ پورے گلگت بلتستان میں بھی رائج ہے۔کتاب کے ٹائٹل پرواضح الفاظ میں لکھا گیا ہے

“This Book has been selected and distributed by Government of Punjab for Academic year 2014-2015 as sole textbook for all Government Schools in Punjab.

12248482_924019407667040_1594820815_oکتاب میں بچوں کو سرکاری سطح پر جھوٹ بولنا سکھایا جارہا ہے۔ ایک بچہ جو ہنزہ میں رہتا ہے اس کو یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ ہنزہ کے پی کے میں ہے۔ مجھے نہیں معلوم ہنزہ کے اساتذہ اپنے بچوں کو یہ بات کیسے سمجھا رہے ہیں اور یہ بھی نہیں معلوم کہ بچے امتحان میں اس سوال کا کیا جواب دینگے کہ ہنزہ کہاں واقع ہے؟ اگر کے پی کے لکھے تو اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہوگا ، اگر گلگت بلتستان لکھے تو نمبر نہیں ملے گا۔

حیرت اس بات پر بھی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر پڑھائے جانے والی اس کتاب میں ایسی واضح غلطی کیسے رہ گئی؟ سوچتا ہوں اتنی بڑی غلطی کوئی نہیں کر سکتا، کیا یہ غلطی جان بوجھ کر کی گئی ہے؟ اگر ہاں تو اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ اس چھوٹے سے معاملہ پر جتنا سوچے اتنا ہی ذہن الجھتا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مصنفین کو گلگت بلتستان سے خدا واسطے کا بیر ہے کیونکہ دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کا ذکر کرتے ہوئے ان کے قلم نے گلگت بلتستان لکھنا گوارا نہیں کیا اور شمالی علاقہ جات لکھ دیا۔اس کتاب کو پڑھ کر پنجاب کے بیشتر علاقوں کے بچے اگر یہ سمجھیں کہ گلگت بلتستان صوبہ خیبر پختونخواہ کے ایک شہر کا نام ہے تو ان کی کوئی غلطی نہ ہو گی۔ کوئی صاحب فہم ہمیں یہ سمجھا دیں کہ اسی کتاب کے صفحہ نمبر 4 پر موجود ان سوالات کے جوابات کیا ہونگے؟
2. In which province is K-2, the second highest mountain peak in the world, located?
3. In wich province are valleys like Chitral, Dir, Hunza and Kaghan located?
4. What are Northern Areas famous for?
کتاب میں کے ٹو کا ذکر کرتے ہوئے کسی صوبہ کی واضح نشاندہی کی بجائے شمالی علاقہ جات لکھ دیا گیا ہے چنانچہ سوال نمبر 2 کا جواب دیتے ہوئے بچے صوبہ (Province)کے حوالے سے قدرے پریشان ہو سکتے ہیں تاہم اس سوال کے جواب کیلئے ان کا واسطہ کتاب کے جس پیرا گراف سے پڑے گا وہاں غیر محسوس انداز میں کے پی کے کا حوالہ موجود ہے۔ سوال نمبر 3 کا جواب اسی پیرا گراف میں واضح طور پر دیا گیا ہے۔ سوال نمبر 4بظاہر ہمارے بحث سے تعلق نہیں رکھتا مگر غور کریں تو پتہ چلے گا کہ یہاں بھی غیر محسوس انداز میں بچوں سے یہ کہلاوانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کے ٹو کیلئے شمالی علاقہ جات کا حوالہ دیں نا کہ گلگت بلتستان کا۔
گلگت بلتستان کے عوام اس بات کو تو مانتے ہیں کہ ہمارا صوبہ ایسا صوبہ ہے جو گنتی میں نہیں آتا۔ مثلا کسی بھی سطح کے امتحان میں اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ پاکستان کے کتنے صوبے ہیں تو جواب 4ہی ہوگا اس کے باوجود گلگت بلتستان بھی صوبہ ہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ عمومی طور پر کہا جاتا ہے گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی آزادی خود حاصل کی اور پاکستان کے ساتھ شامل ہوئے اس کے باوجود تاحال گلگت بلتستان آئینی اعتبار سے پاکستان کا حصہ نہیں مگر یہ کیا کہ اسی غیر آئینی پاکستانی خطے کا ایک علاقہ ہنزہ کو پاکستان میں شامل کر دیا گیا ہے۔
ہمیں حیرت گلگت بلتستان کے محکمہ تعلیم پر بھی ہوتی ہے کہ پچھلے 8ماہ سے اس کتاب کو پورے صوبے میں پڑھایا جارہا ہے مگر مجال ہے جو اس صفحہ کی تصحیح کی کوشش کی گئی ہو۔ بلتستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی کے ایک استاد امتیاز صادقی کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے اس سال کے شروع میں ہی محکمہ تعلیم کو اس کتاب کے حوالے سے آگاہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے چیف سکریٹری اور سکریٹری ایجوکیشن سمیت دیگر اہم سرکاری آفیسران کو بھی باقاعدہ خطوط لکھے مگر 8ماہ گزرنے کے باوجود کسی کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر امتیاز صادقی جس قدر تعریف کے مستحق ہیں اتنے ہی اعلیٰ حکام اور دیگر ہزاروں اساتذہ تنقید کے۔ کم از کم اساتذہ کو تو یہ کتاب پڑھانے سے صاف انکار کر دینا چاہئے مگر نہیں ….ان کو صرف اپنی تنخواہوں کی فکر ہے قوم جائے باڑ میں ان کا کیا بگڑتا ہے۔ مگر بعض اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کا خوب احساس بھی ہے، امتیاز صادقی کے مطابق ایک اور کتاب میں بھی اسی طرح کی گمراہ کن معلومات شامل کی گئی ہیں بعض وجوہات کی بنا پر وہ اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ نہیں کر سکے۔
معلوم نہیں ہنزہ والے کیا سوچ رہے ہیں ، شاید وہ اس بات پر خوش ہوں کہ ان کو ایک آئینی صوبے میں شامل کیا گیا ہے مگر سکردو والے اس بات سے سخت نالاں ہیں اور وہ ایک سماجی تنظیم کے ذریعے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ امید ہے بہت جلد اس نادیدہ سازش کا پردہ چاک ہو جائیگا۔
بات چلی تھی سچ جھوٹ سے …یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر شخص کے پاس سچ جھوٹ کا معیار الگ ہے مگر کچھ باتیں متفقہ طور پر سچ ہیں جیسا کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اس لئے کہ جہاں سے سورج نکلتا ہے اس طرف کا نام ہم نے مشترکہ طور پر مشرق رکھ دیا ہے اگر ہم متفقہ طور پر اس سمت کا نام شمال رکھتے تو آج کا سچ یہ ہوتا کہ سورج شمال سے نکلتا ہے۔ آج اگر ہم جنوبی سمت کو مشرق کہنا شروع کریں تو کیا سورج وہاں سے نکلنا شروع کریگا؟ چنانچہ ہنزہ کو کے پی کے کا حصہ بنانے کیلئے ہم سب کو متفقہ طور پر یہ مان لینا چاہئے کہ ہنزہ کے پی کے میں واقع ہے چاہے علم جغرافیہ کچھ بھی کہتا رہے۔ اپیل ایجوکیشنل پریس کی کتاب کو درست ماننے کا صرف یہی ایک طریقہ رہ گیا ہے……!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

ذیشان مہدی

ذیشان مہدی گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے والا ایک معروف نوجوان شاعر، لکھاری اور سماجی رہنما ہے۔