سکردو سمیت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں محکمہ تعمیرات عامہ اور واسا کے ملازمین کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی، دفتروں کی تالہ بندی

سکردو سمیت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں محکمہ تعمیرات عامہ اور واسا کے ملازمین کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی، دفتروں کی تالہ بندی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( رضا قصیر ) تنخواہوں کی عدم فراہمی اور عدم مستقلی کے خلاف محکمہ تعمیرات عامہ اور واسا کے ملازمین کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی جمعرات کے روز سکردو شہر کو ملازمین پانی کی سپلائی بند کریں گے اور جمعہ کے روز بجلی بند کرنے کی حکمت عملی پر غور کریں گے ملازمین مستقلی اور تنخواہوں کے بغیر ہرگز واپس گھروں میں جانے کیلئے تیار نہیں ہیں بدھ کے روز کمشنر بلتستان ڈویژن ملک افسر خان اور ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے ہڑتالی ملازمین سے مذاکرات کئے اور ان سے ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی مگر ملازمین نے ہڑتال ختم کرنے سے انکار کر دیا یوں انتظامیہ اور ملازمین کے مابین ہونے الے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے ملازمین نے صاف کہہ دیا کہ وہ اس وقت تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک انہیں مستقلی کے آرڈر ز نہیں دئے جاتے اور انہیں تنخواہیں فراہم نہیں کی جاتیں کمشنر ملک افسر خان نے ملازمین سے کہاہے کہ فی الحال ہڑتال ختم کریں اور اپنے اپنے کام شروع کریں میں گلگت جارہا ہوں گلگت ملازمین کے مسئلے پر اعلیٰ حکام سے بات کریں گے تاہم ملازمین نے یک زبان ہو کر جواب دیا اور کمشنر سے کہا کہ جناب آپ تو اللہ والے ہیں! ہمیں آپ کی نیت پر شک نہیں ہے مگر مسئلہ اوپر سے خراب ہو رہا ہے اوپر والے ہمیں مستقل کرکے تنخواہیں جاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں اس لئے ہڑتال ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ملازمین کے موقف جاننے کے بعد واپس دفتر میں چلے گئے اور انہوں نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ دی اور کہا کہ سکردو ملازمین ہڑتال ختم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔