چترال، لیڈی ہیلتھ ورکرز اورسپر وائزرانتہائی مجبوری اور فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ایل ایچ ڈبلیو کاپریس کانفرنس

چترال، لیڈی ہیلتھ ورکرز اورسپر وائزرانتہائی مجبوری اور فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ایل ایچ ڈبلیو کاپریس کانفرنس

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( بشیر حسین آزاد) چترال کے سینکڑوں لیڈی ہیلتھ ورکرز اورسپر وائزر نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ ،صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ اعلی حکام سے اپیل کی ہے ۔ کہ وہ انتہائی مجبوری اور فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ اس لئے اُن کی حالت پر رحم کرتے ہوئے اُن کو چترال کے مخصوص حالات کے پیش نظر مستقل ملازم کی تنخواہ اور مراعات دیے جائیں ۔ تاکہ وہ اپنے بچوں کو مفلسی سے بچا سکیں ۔ بدھ کے روز لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صدر آسیہ بی بی نائب صدر سعدیہ منصور ، سیکرٹری شاہینہ محمود فنانس سیکرٹری زاہدہ مظفر نے ا پنے دیگر درجنوں ممبران کے ہمراہ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ وہ 1996سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے طور پر تقرر ہوئی ہیں ۔ اور ماں اور بچے سے متعلق حساس نوعیت کی خدمات دن رات اور سخت موسموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انجام دینے کے باوجود آٹھ ہزار روپے کی قلیل تنخواہ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اور یہ واحد ادارہ ہے ۔ جہاں ڈرائیور اور دیگر ملازمین کی تنخواہ میں کوئی فرق نہیں پا یا جاتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 2012میں عدالت نے انہیں مستقل کرکے تنخواہ اور مراعات کی فراہمی کا حکم دیا ہے ۔ لیکن ابھی تک اُس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا ۔ اس وجہ سے اُن کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ۔اور وہ خود کُشی کرنے مجبور ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں آٹھ ہزار روپے پر گھر کے اخراجات ، بچوں کی فیس اور غمی خوشی کے کام انجام دینا کیسے ممکن ہے ۔ اور ایل ایچ ڈبلیوز میں ایسے خواتین بھی ہیں ۔ جو اپنے گھروں کی واحد کفیل ہیں ۔ آسیہ بی بی نے کہا ۔ کہ امسال سیلاب اور اب زلزلے کی وجہ سے اُن پر آفات کا سمندر ٹوٹ پڑا ہے ۔ اور اُن کو بُری طرح معاشی اور دیگر گھریلو مسائل کا سامنا ہے ۔ جس کو برداشت کرنا حکومتی مدد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔ اور ہم وزیر اعظم سے خصوصی طور پر اپیل کرتے ہیں ۔ کہ ہم پر رحم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم نے کبھی بھی اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی نہیں کی ۔ جس کا ثبوت یہ ہے ۔ کہ چترال کئی سالوں سے پولیو فری ضلع ہے ۔ اس کے علاوہ بھی صحت کی مختلف سرگرمیوں میں اُن کا بہت اہم کردار ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں 475ملازمین اس شعبے سے وابستہ ہیں ۔ جو کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور حکومت سے رحم وکرم کے طلبگار ہیں ۔ درین اثنا انسانی حقوق فاونڈیشن چترال کے چیرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے ایل ایچ ڈبلیوز کے ساتھ مرکزی اور صوبائی حکومت کے رویے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چترال کے مخصوص حالات کے پیش نظر اسپیشل کیس کے طور پر ان کو مراعات دیے جائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں ایک خاتون کیلئے گھر سے باہر کام کرنا بہت مشکل ہے ۔ لیکن تنگ معاشی حالات کی بناپر یہ خواتین گھر سے باہر جانے پر مجبور ہیں ۔ اس لئے ان کے مطالبات فوری حل کئے جائیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔