ضلع چترال کے دورافتادہ علاقے وادی بروغیل میں خلاف معمول برفباری، خوراک کی شدید قلت ہے،

ضلع چترال کے دورافتادہ علاقے وادی بروغیل میں خلاف معمول برفباری، خوراک کی شدید قلت ہے،

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) پاکستان اور چترال کی آخری سرحد گلیشئرز اور جھیلوں کی سر زمین بروغل کے عمائدین نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے خصوصی اپیل کی ہے ۔ کہ اُن کی زندگیوں کو بچانے کیلئے فوری طور پرراشن اور دیگر ضروریات کا انتظام کیا جائے ۔ بصورت دیگر بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کا خدشہ حقیقت میں بدل سکتا ہے ۔ چترال شہر سے 250کلومیٹر دور بروغل سے تین دن پیدل اور ایک روز گاڑی میں سفر کرکے چترال پہنچنے کے بعد چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے عمائدین ، بروغل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیر مین عمر رفیع ، چیرمین وی سی بروغل امین جان تاجک ، وائس چیرمین الیاس ، (ر) صوبیدار نادر خان اور نیک بخت وغیرہ نے کہا ۔ کہ بروغل میں اس وقت خلاف معمول برفباری ہوئی ہے ۔ اور تین فٹ برف نے پورے علاقے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے ۔ سیلاب کی وجہ سے سرکاری گرین گودام میں ابھی تک راشن نہیں پہنچایا جا سکا ہے ۔جو کہ سالانہ ستمبر کے مہینے میں سٹور کیا جاتا تھا ۔ حالیہ شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے انسانی خوراک کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کو بھی خوراک کا مسئلہ درپیش ہے ۔ اور لوگوں پر قحط کا خوف طاری ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ یہ علاقہ ضلعی ہیڈ کوارٹر سے انتہائی دوری پر ہونے کی وجہ سے تمام تر مراعات اور حکومتی توجہ سے محروم ہے ۔ شدید برفباری کی وجہ سے گلگت کے ساتھ لگنے والے تمام درے بند ہو چکے ہیں ۔ جہاں وہ اپنا مال مویشی لے جا کر فروخت کرکے خوارک اور دیگر اشیاء خریدتے تھے ۔ جبکہ دوری طرف انہیں چترال شہر پہنچنے کیلئے اب چار دن سفر کرنا پڑ رہا ہے ۔ جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔

 پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اے کے ڈی این کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوے کہاکہ ادارے نے بروغیل کے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی ہے، اور لوگ آغا خان ڈویلپنٹ نیٹ ورک کے کام سے بالکل بھی مطمعن نہیں ہیں۔ ا

انہوں نے حالیہ زلزلہ میں بھی اس علاقے کو نظر انداز کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ۔ جبکہ اس علاقے کے کچے مکانات بُری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اگر ہم پاکستانی ہیں ۔ تو ہماری بات سنی جائے ۔ اگر نہیں تو ہمیں راستہ دیکھا یا جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ بروغل کے دو ہزار ایک سو گھرانوں کو پانچ مہینے کا راشن فراہم کیا جائے ۔ تاکہ اُن کی زندگی بچ سکے ۔ واضح رہے ۔ کہ 1975میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بروغل میں اسی قسم کی خلاف معمول برفباری اور قحط سالی پر بذریعہ سی ون تھرٹی جہاز خوراک اور مال مویشیوں کیلئے بھوسہ گرا کر ان لوگوں کی جان بچائی تھی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔