میر غضنفر علی خان صاحب، گورنر گلگت -بلتستان

میر غضنفر علی خان صاحب، گورنر گلگت -بلتستان

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: کریم خان

لو جی!بالاخر مقامی گورنر کا مطالبہ پُورا ہی ہوگیا ! اور جو نعرہ پہلے شہرگلگت کے درو دیوار پر کبھی ہواکرتا تھا کہ مقامی گورنر، مقامی گورنر کا جو زور تھا وہ مطالبہ پاکستان مسلم لیگ کی وفاقی حکومت اورصوبائی حکومت نے آخر کار حل کرکے نہ صرف ایک قانونی تقاضہ ہی پورا کیا، بلکہ یہاں کے عوام کا ایک دیرینہ و جائز جمھوری و شہری حقوق کا تقاضہ بھی پورا کیا، جس کے لئے ہم عوام گلگت -بلتستان عموماًاور عوام ہنزہ ایک بار اس لحاظ سے بھی وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف صاحب کے ممنون و مشکور ہیں کہ پہلے تو وادی ہنزہ کے مخصوس منفرد و مشہور عالمی شہرت اور تاریخی و جغفرافیائی اہمیت کی پاسداری کرتے ہوئے اورمحترم وزیرِ اعظم کی اپنی اور ان کی حکمران جماعت کی دلچسپی کی وجہ سے اور انہی میر صاحب کی ذاتی اور ان کے اہم و مشہور خاندانی پس منظر کو ضرور مدِنظر رکھتے ہوئے نہ صرف دیگر دو نئے پہلے کے اجراء کیساتھ،بلکہ پہلے ہنزہ کو آٹھویں ضِلع کا درجہ دیا، بلکہ وہاں سے ن لیگ کے عوامی نمائندے جنابمیر غضنفر علی خان صاحب کو گلگت -بلتستان کے نئے گورنرکی حیثیت سے اس اہم عہدے پر براجمان ہونے کی حتمی منطوری دے ہی دی ۔اور دیگر عوامی قیاس آرائیوں اور چی میگوئیوں سے آزادی دلادی کی گورنر مقامی ہوگا یا اغیر مقامی۔کیونکہ عبوری عرصے میں وفاقی وزیر اُمورِ کشمیر و گلگت-بلتستان جناب برجیس طاہر صاحب اِس اہم مگر اضافی عہدے پر جب براجمان تھے تو کافی عوامی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی سطح پر اعتراضات کی اُ گلیاں اُٹھ رہی تھیں اور بلکہ سخت قسم کے نعرے بھی نوشتہء دیوار بن گئے تھے۔حالانکہ یہ ایک عبوری حد تک کا معاملہ (Interim setup)تھا، جسے آج کے دِن کی طرح کسی نہ کسی شکل و صُورت میں عملی جامہ پہناناہی تھا۔چلیں دیر آید، درُست آید جو کہا جاتا ہے۔جس کے لئے ہم ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ گورنر وفاق کا نمائندہ ہوا کرتا ہے اور اس کی تعیناتی کو عمل میں لایا جانا اِنتہائی اہم کام ہوا کرتا ہے۔

اِس تعارفی پس منطر کے بعد یہاں پر بے نہ ہوگا کہ اگر ہم میر غضنفر علی خان صاحب کے خاندانی اور سماجی و تاریخی پس منطر کا ایک مختصر و اجمالی خاکہ پیش کریں تو۔قدیم تاریخی پس منظر اگر پوچھا جائے تو بہتر ہوگا کہ میر صاحب اور ان کے شریف و محترم خاندان خود یا بتانے اور جتانے مین با لکل ہی جھجھک بتائیں گے کہ میر صاحب کے خانداں جس کو خاندانِ عیاشو(The Dynasty or House of Ayashkutz)بھی کہا جاتا ہے،جسے قریباً ایک ہزار سال قبل اُس وقت تختِ عہد عتیقِ ہنزہ ملاجب اللّہ پاک و صمد کی ذات کے بعد انسانی مدد و در اصل خدائی تائیدکے طفیل اُس وقت کے خانوادہء چوشاٹنگ یا تُشاٹنگ کے جدِ اعلیٰ جو کہ جب چترال وگلگت-بلتستان کے تقریباً سارے علاقوں اور وادیوں میں با اثر اور بادشاہوں کو بادشاہ بننے میں (The king-maker family of Ronos, Zondray and Harayo) مدد دینے والی اور اُس وقت کے حکمران و جرنیل خاندان نے میر صاحب کے جدِ اعلیٰ کو اس وقت تختِ شاہی پر براجمان ہونے میں مدد دی جب علاقے میں ایک خاتون کی حکومت تھی جس کا سرپرست و اصل عنان حکومت کا اندرونی ذمہ دار و وزیر و عبوری حکمران چوشائگ بوٹو تھا ۔ مگر اس خاتوں، جس کا نام نُورِ بخت تھا، کے حکمران والد یعنی بادشاہِ وقت گِرکِس کو حریف بھا ئی کے وزیر شُشُرو مغل بیگ نے مقام گنش دریا کے کنارے مرغابیوں کے شکار کے بہانے تیر چلا کر قتل کروایا تھا، جس کا بعد میں چُوشائگ بوٹو نے نہا یت کمال سے بدلہ بھی لیا تھا۔ مگر چُونکہ اِس اثناء میں ایک طرف تو ایک خاتون (نُورِ بخت )کی حکمرانی کے تعنے مل رہے تھے ،تو دُوسری طرف سابق حکمران خاندان کا صرف ایک ہی چھوٹے بچے کی شکل میں چشمِ و چراغ وسطِ ایشیاء کے دُوردراز علاقے شغنان و درواز سے اُس بچے کو چوشائگ بوٹو نے لاکر تختِ شاہی پر اعلانیا طور پر اور جشن منار کر بٹھا یا۔ اور یوں، مختصراً میر صاحب موصُو ف کے عظیم خاندانی پس منظر کا جو تقریباً ہزارسال پر محیط سنہرا دور چلا جو ۱۹۷۴ ؁ء میں اُس وقت ختم ہوا جب اُس وقت کے وزیرِ اعظم ذُوالفقارعلی بھٹو نے اپنی اِصلاحات کے نام پر اِس رِیاست کا بھی اختتام کردیا۔ اور یوں ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس میں بہر حال عوام کو تعلیم و روزگا ر کے قدرے بہتر ذرائع میسر ہوئے ،مگر ان کی اُس تاریخی ریاست کا خاتمہ ہوچکا تھا، جس کویہاں تک کہ چین و روس و انگلستان کی بڑیاور خطرناک طاقتیں بھی رشک و حسد کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور یہ ریا ست اِس وجہ سے Great Gameکا حصہ بھی رہی تھی۔جس کو بعض موّرخین (Russo-Anglo rivalry)کے لفظ سے بھی یاد کرتے ہیں۔میر صاحب کے خاندان کی شہرت میں اس وقت کے وزیرخاندان کا بھی بڑا حصہ رہا ہے۔
اِس کی منفرد اہمیت و شہرت یہ رہی ہے کہ وہ وادی ہنزہ پر کم و بیش ہزار سال تک حکمران رہنے کا منفرد اعزاز رکھتا ہے۔اور نہ صرف علاقہ گلگت-بلتستان کے اعلیٰ شاہی و حکمران (مثلاً حریف وہمسایہ وادی نگر کے تاریخیخاندان مغلوٹ جو ان کے ننیال والے ہیں)کے علاوہ بلتستان وغیرہ کے بھی) یا خاندانِ سادات (مثلاً سابق گورنر پیر سیّد کرم علی شاہ صاحب کے بہنوئی ہیں) کے ساتھ رشتے ناطے اور روابط و مراسم ہیں بلکہ ملک کے دیگر اعلیٰ حکمران خاندانوں کے شخصیات کے ساتھ بھی ہیں جن میں نواب آف کالاباغ اور سابق صدر پرویز مشرف کے خاندان کے ساتھ بھی اسی طرح کے رشتے ناطے ہیں۔ملک کے چند موجودہ چند اہم وکلیدی عہدوں پر فائض شخصیات کے ساتھ دوستانہ و ہم جماعت ہونے کے تعلقات بھی ہیں جن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیرمین صاحب وغیرہ شامل ہیں۔اِس کے علاوہ خاص طورپر ان کی لائق و زیرک اہلیہ بیگم رانی عتیقہ صاحبہ کے ناطے بھی ملک کے اور خاص طور پر حکمران خُو پنچاب کی چیدہ چیدہ و ممتاز شخصیات سے بھی بڑے دوستانہ تعلقات و مراسم ہیں۔ ایک اور منفرد و مزید شہرت میں اضافے کا باعث امر یہ بھی ہے کہ محترم وزیر اعظم نواز شریف کے اِمسال۱۴اپریل کے گلگت کے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جس تاریخی اعلان میں تین نئے اضلاع کے اجراء کی بات کی تھی ، اور جس پر بعد میں من عن عمل در آمد بھی اب ہو بھی گیا ہے، اس میں میر صاحب اور رانی عتیقہ صاحبہ کا باقاعدہ نام لے کر پہلے ضلع ہنزہ کا نام لیا گیا تھا۔اِس سے میر صاحب کے سیاسی و سماجی قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہواتھا اور لوگ حیران بھی رہ گئے اور رشک (وممکنہ انسانی خصلت وہم سب کی کمزوری یعنی حسد میں بھی) اضافہ ہوا ۔خود راقم سے میر صاحب کے یونیوسٹی کے پروفیسر ارشد سیّد کریم صاحب، جو کہ خوش قسمتی سے کافی عرصے کے بعدمیرے بھی اُستاد رہے ہیں، گزشتہ اپنے طلباء کی فہرست میں میر صاحب موصوف کا نام بار بار لیا کرتے تھے۔میر صاحب کے بارے میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ وہ سیدھے سادے اور (Straight forward) قسم کے انسان ہیں اور ان کے ایک فون سے افسر شاہی اور دیگر اعلیٰ عملدار ایک دم متوجہ ہو جاتے ہیں۔

اگر چہ بعض عوامی و سیاسی حلقے اورسیاسی پنڈِت اور تجزیہ کار اِ سر اقم کے خیالات سے ممکنہِ اختلاف بھی رکھیں گے ، مگر دیکھا جائے تو وزیر اعظم نواز شریف صاحب کی حا لیہ گلگت آمد ایک بار پھر ایک اور نیک شگون کا باعث بنا کہ مقامی گورنر کی تعیناتی کے دیرینہ مسلئے کو وہ حل کرکے چلے گئے اور کئی دیگر ترقیاتی منصوبوں اور سکیموں کا اعلان یا ان پر عمل دار آمد کے احکامات دے کر چلے گئے اور میر صاحب نے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کو قوم و ملت کے لئے اِستعمال میں لانے کیلئے حلف بھی اٹھایا۔ اور جناب وزیر اعلیٰ صاحب جیسی نڈر شخصیات کو اور ان کی ٹٰیم کاللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو! آمین! ثُم آمین!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔