نوزائیدہ ضلع شگر کے مسائل اور ہماری ذمہ داریاں 

نوزائیدہ ضلع شگر کے مسائل اور ہماری ذمہ داریاں 

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:اکٹرفرمان علی سعیدی

ہر قوم اور ملک کی معاشی ترقی اورسماجی فلا و بہبود کے لئے دو بنیادی چیزوں کا ہونا ضروری تصور کیا جاتا ہے ۔

1۔ قدرتی وسایل ، قدرتی وسایل سے مراد ، زرخیز زمین ، آبی ذخایر ، معدنیات ، وغیرہ ۔۔۔ ہے ۔ ۔ افرادی قوت ، افرادی قوت سے مراد ، مختلف شعبوں فیلڈزمیں مہارت رکہنے والے تجربہ کار ماہرین ہیں ۔ اگر کسی قوم اور ملک کے پاس یہ دونوں وسایل موجود ہو تو ان کو بروے کارلاتے ہوے ، ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے ۔ شگر کا علاقہ قدرتی وسایل ” زرخیز زمین ، آبی ذخایر ، گرم چشمے ، معدنیات ، آثار قدیمہ ، سیاحتی اور اسٹراٹیجک مقامات سے ” مالا مال ہے ۔ افرادی قوت کے حوالہ سے دیکھا جائے تو آج ہمارے نوجوان ملک بھر ، اور دنیا کے مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں ، ہمیں اپنی قدرتی وسایل سے صحیح طریقے سے بہرمند ہونے کے لئے ان جوانوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ، اور ان نوجوانوں کو چاہیے ایسے فیلڈ کو انتخاب کریں جو علاقے کے وسایل کو استعمال کرنے میں کام آئے ۔

الحمد للہ ہمارا شگر ضلع بن چکا ہے اب حکومت اور منتخب نمایندہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دیے ہوئے تمام وعدوں کو عملی جامہ پھنائے دوسری سیاسی پارٹیاں بھی علاقے کے وسیع تر مفادات کی خاطر عوامی منتخب نمایندہ کے ساتہ تعاون کریں ۔ اس وقت شگرکا علاقہ اپنی ثقافتی ،تاریخی، جغرافیایی اور سیاسی خصوصیت کی وجہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ اس وقت منتخب نمایندہ کو شگر کی ایک لاکہ عوام کی نمایندگی کرتے ہوئے مندرجہ ذیل شعبوں میں کام کرنے کی انتہای ضرورت ہے۔

1۔ تعلیم

جن گاوں میں پرائمری سکول نہیں ، پرائمری سکولوں کا قیام ، ہر بڑے گاوں میں مڈل سکولز کا قیام ، ہر یونین کونسلز میں ہائی سکولز کا قیام ، شگر میں کالجز کا قیام ، ملک کے دیگر صوبوں کے کالجز اور یونیورسٹیز میں سٹوڈنس کے لیے کوٹہ اور اسکالر شپ فراہم کرنا ، علاقہ میں لائبریریز اور ریسرچ سنٹرز کا قیام ۔

2۔ معیشت

الف ۔ زراعت کے شعبہ کو زیادہ بہتربنانے کی ضرورت ہے جس کے لئے تمام بنجر زمنینوں کو آباد کیا جاسکے ۔ نئے بند ،ڈیم ، نہر اور پشتوں کی تعمیر۔ بہتر کاشت کاری اور زمینوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے محکمہ زراعت اور جنگلات و ۔۔۔۔۔ سے رابط کرنا ۔

علاقہ میں زرعی بنک کا قیام ، کے لئے کوشش کرنا۔ ب ۔ سیاحت اور معاشی انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے سکردو ٹو اسکولی ، سکردو ٹو ارندو ، سکردو ٹو بیسل سڑکوں پکا اور بہتر بنایا چاے۔ تاکہ سیاحت اور معاشی نظام میں تیزی آسکے۔ تاریخی راستہ مشتق لہ پاس جو کہ شگر کو چین کے علاقہ سنکیانگ سے ملاتا ہے از سر نو سے تعمیر کیاجاے۔ معدنیات نکالنے والے افراد کے لیے جدید وسایل فراہم کرنا ، علاقہ میں جیمز سٹون اور شگر کے قیمتی پتھروں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لئے تجارتی مرکز کا قیام ،

3۔ سماجی اور ثقافتی

شگر میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان اخوت ، برادری اور اتحاد بین المسلمین کو فروع دیا جائے تاکہ علاقہ کے مسائل اور تنازعات کو صلح اور صفائی کے ساتہہ نمٹایا جاسکے۔ اس سلسلے میں تمام مکاتب فکر کے علما اور دانشمندوں سے مشورت کی جائے۔ تمام فلاح و بہبود کے ادروں اور طلبہ تنظیموں سے رابط اور تعاون کرنا۔ نوجوانوں کے لئے ورزش ، مطالعہ اور کتاب خوانی کے مختلف پروگرامز کا انعقاد ، خواتین حضرات کی بیروزگاری کو کم کرنے کے لئے مختلف گہریلوں صنعت کو فروغ دیا جاے۔

4۔ سیاسی

تمام پولٹیکل پارٹیز سے با ہمی تعاون اور رابطہ میں رہنا ، تمام سیاسی ، ذاتی ، اقربا پروری اور مذہبی وابستگیوں سے مافوق ہو کر شگر کے دیندار اور ملک دوست عوام کی خدمت کو سر لوح زندگی قرار دینا ۔

5۔ کمیونیکیشن

علاقہ میں موجود تمام کیبلز آپریٹرز کی فیڈریشن کا قیام عمل مین لایا جائے ، تا کہ اسکے ذریعہ مختلف پروگرامز ” مذھبی ، خبری ، تفریحی ” نشر اور انکی نظارت کے ساتہ ساتہ علاقہ کے تاریخی ، سیاحتی مقامات کی مناسب پبلک سٹی ہوسکے ۔

6۔ صحت

تمام گاں میں ڈسپنسریز اور ہر یونین کونسل میں دس بیڈ کا ہسپٹال کا قیام ، حفظان صحت اور لوگوں میں صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف پروگرامز کا انعقاد۔ آخر یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ کہ حکومت کی طر ف سے شگر کیلئے مختص سالانہ بجٹ سے یہ سارے مسائل اور مشکلات حل نہیں ہوسکتے لیکن پانچ سال میں بہت سے پروجیکٹ کامل کیے جاسکتے ہیں اورشگر کے خوبصورت علاقے کو آئیڈیل علاقہ بنایا جا سکتا ہے ۔ ہماری درخواست ہیں کہ علاقہ کے بزرگ ، جوان اور عوام اپنے بنیادی حقوق کو حاصل کرنے کے لئے متحد ہو جائیں۔ (Fundamental rights)کیونکہ حکومت پاکستان جو فنڈز ہمارے لئے دیتی ہے وہ ہمارا حق ہے کسی سیاسی پارٹی کی پدری ارث یا ذاتی جائیداد نہیں ۔ اگر کوئی پارٹی یا شخص عوام اور علاقے کی وسیع مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی بازی یا ایک دوسرے سے سیاسی انتقام جوی میں لگے رہے رہیں تو نہ خدا ان کو معاف کریگا اور نہ ہی قوم ۔آخر میں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کواتفاق و اتحاد سے رہہنے اور قوم و ملت کی خدمت کرنے کی تو فیق عنایت کریں ۔

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔