چہلم سر پر ہے لیکن شگر پولیس کی نفری میں کوئی اضافہ نہ ہوسکا، اربابِ اختیار کے احکامات ہوا ہو گئے

چہلم سر پر ہے لیکن شگر پولیس کی نفری میں کوئی اضافہ نہ ہوسکا، اربابِ اختیار کے احکامات ہوا ہو گئے

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)وزیر اعلی ،آئی جی گلگت بلتستان اور کمشنر بلتستان کے احکامات ہوا میں اُڑادئیے گئے۔ ضلع شگر کیلئے پولیس کی نفری میں اضافہ نہ ہوسکا۔ پولیس اہلکاروں کی کمی سے چہلم کے جلوس میں سکیورٹی خدشات اور سوالات جنم لینے لگے۔

ذرائع کیمطابق وزیر اعلی گلگت بلتستان کی احکامات کی روشنی میں آئی جی پولیس جی بی ظفر اقبال کی جانب سے نوزائیدہ ضلع شگر اور کھرمنگ کیلئے ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے اور ڈومیسائل والے پولیس اہلکاروں کو ان اضلاع میں بھیجنے کیلئے باقاعدہ فہرست مرتب کر بلتستان ڈویژن کے پولیس سربراہ کو بھیجی گئی ہے۔ جس کے مطابق شگر کیلئے چھیانوے اہلکار بھیجنے کی سمری بنائی گئی ہے۔ جو اس وقت سکردو میں ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔لیکن ڈی آئی جی بلتستان کی جانب سے ان احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان اضلاع میں پولیس اہلکاروں کو ابھی نہیں بھیجا گیا ہے۔

اس وقت شگر ضلع میں تقریبا ساٹھ کے قریب پولیس جوان اور آفیسر موجود ہیں۔جس میں ایس پی ،ڈی ایس پی،ایس ایچ اوز شامل ہیں۔ جوکہ شگر کے مختلف علاقوں کے پولیس چوکیوں اور اور تھانوں میں تعینات ہیں جبکہ اہم شخصیات کی سکیورٹی پر مامور اور انٹر چیک پوائنٹ میں تعینات اہلکار بھی اس میں شامل ہیں۔شگر سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی حساس ترین علاقہ ہیں۔اورچہلم امام حسین میں کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ جبکہ کچھ امام بارگاہوں اور خانقاہ معلی میں مجالس کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ایسے میں سکیورٹی کیلئے پولیس اہلکاروں کی کمی سے عوام میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔لوگوں نے آئی جی پی گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور شگر ضلع کیلئے مختص پولیس اہلکاروں کو شگر بھیجا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔