سردیوں کی آمد ۔۔۔۔درختوں کی بے دریغ کٹائی

سردیوں کی آمد ۔۔۔۔درختوں کی بے دریغ کٹائی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی  یہاں کے باسیوں کے لئے سب سے بڑا مسلہ  اپنے آپ کو سردی سے بچانے کا  ہوتا ہے۔پانی اور گلیشئرز کی دھرتی ہونے کے باوجود بجلی جیسی  نعمت   ابھی  تک صحیح معنوں میں  یہاں کے باسیوں کو میئسر نہیں ۔ایل پی جی    کی سہولت سے ہر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور عموما سردیاں شروع ہوتے ہی ایل پی جی  کی قلت  شروع ہو جاتی ہے  اس پہ طرہ یہ کہ  گیس کمپنیاں  گیس کو مہنگی فروخت کرنے کے لئے سو بہانے تراشتے ہیں ۔۔اور جب سڑک بلاک ہوجائے تو ان گیس  والوں کی موجیں ہوتی ہیں ایک  سلنڈر دوگنی اور تگنی قیمت میں  صارفین کو مہیا کیا جاتا ہے۔۔۔ایندھن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں ۔۔تشویش کی بات یہ ہے کہ جس بے دردی سے درخت کاٹے جا رہے ہیں  اس کے مقابلے میں  پودے لگانے کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے۔اس سلسلے میں محکمہ جنگلات کی کارکردگی بھی زیرو ہے۔جنگلات قوانین کے تحت  یہ قانون ہے کہ  سوکھے ہوئے درخت کو کاٹنے کے بعد اسی جگہ  نیا درخت لگانا ضروری ہے اور قانون کے مطابق کسی بھی سرسبز درخت کو کاٹا نہیں جا سکتا ۔لیکن  گلگت بلتستان میں  نرالا ہی نظام ہے  یہاں تو پورے کے پورے جنگلات کا صفایا ہو چکا ہے اور نئے درخت تو کجا  ان جنگلوں کی طرف کسی نے مُڑ کے بھی نہیں دیکھا ہے۔ سوختنی لکڑی کے لئے سرسبز درخت آج کل آرا مشینوں کی زد میں ہیں ۔اس پر ستم  یہ کہ دفتروں کے ملازمین کے لئے   حکومت  ہیٹنگ کے لئے گیس یا دوسرے ذرئع کا بندوبست  کرتی وہ  دفتروں میں  لکڑی کا ایندھن  استعمال  میں لاتی ہے  اور اس کے لئے باقائدہ ٹینڈر کئے جاتے ہیں ۔۔۔اور یہ ٹھکیدار مختلف گائوں میں   لکڑی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں ۔۔اور غریب زمینداروں سے  درختوں کا سودا طے ہوتا ہے اور سوکھے درختوں  کے بجائے تازہ اور ہرے درختوں کا صفایا کیا جاتا ہے۔۔۔آپ  کے ذہن میں یہ سوال بھی آیا ہوگا کہ لوگ فروخت کرتے ہیں اور ٹھکیدار خرید لیتے ہیں  اس میں حکومت  کیا کرے۔۔جناب  اگر حکومت  گلگت بلتستان میں دفتروں میں لکڑی  کا ایندھن کے بجائے گیس یا  کوئلہ کا استعمال کرنا شروع کر دے تو   درختوں کی بے دریغ کٹائی اور علاقے کی  قدرتی  خوبصورتی کوماند ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔۔اس سلسلے میں ہمسائہ ملک چین سے کوئلہ درآمد  کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ہنزہ اور گوجال میں  یہی کوئلہ بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کم خرچ بھی ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔