قراقرم یونیورسٹی میں عدم تحفظ کے خاتمے کیلئے رینجرز کی تعیناتی ناگزیر ہے،ڈاکٹر شاہ نواز

قراقرم یونیورسٹی میں عدم تحفظ کے خاتمے کیلئے رینجرز کی تعیناتی ناگزیر ہے،ڈاکٹر شاہ نواز

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)قراقرم یونیورسٹی کے پرووسٹ ایسویسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہنواز جو کہ گزشتہ ماہ طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے کے بعد اسلام آباد میں زیر علاج ہیں،نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا ہے کہ اس واقعہ کے بعد جہاں قراقرم یونیورسٹی کے بند ہو نے سے طلباء کے قیمتی وقت کا ضیاع ہو رہا ہے، وہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ سنیئر اساتذہ سمیت یونیورسٹی کی انتظامیہ عدم تحفظ سے دوچار ہو گئی ہے۔ ماضی میں بھی شر پسند عناصر نے گلگت بلتستان کی واحد جدید تعلیمی ادارے کو اپنے مذموم مقاصد کی آماجگاہ بنانے کی سعی کی تھی اور ہر سال مسلکی تعصبات کی آڑ میں طلبہ کو اپنے مقاصد کیلئے آلہ کار کے طور پراستعمال کر تے ہو ئے آئے ہیں جس میں بد قسمتی سے یونیورسٹی کی بھی چند کالی بھیڑیں شامل تھی۔ڈاکٹر شاہ نواز نے مزید کہا ہے کہ میرے ساتھ جو بہیمانہ تشدد کا مظاہرہ کیا گیا،وہ دراصل گلگت بلتستان کو ایک بار پھر سے فسادات کی آگ میں جھونکنے کی سازش تھی کیونکہ گزشتہ ایک سال سے امن و امان کی فضا قائم ہو نے اور گلگت بلتستان میں مختلف مکاتب فکر میں اخوت و آشتی بڑھنے سے شر پسند عناصر کو اپنی گرفت کمزور ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔پاک فوج کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک پھیلانے اور پاک چین راہداری کی حفاظت براہ راست اپنے ہاتھ میں لینے کی وجہ سے یہی شر پسند عناصر خائف تھے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب میں گلگت میں زیر علاج تھا تومساجد بورڈ سے وابستہ بعض ارکان نے مجھے ملوث طلبہ کو معاف کر نے پر زور دیا حالانکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ اس واقعے کے ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں۔میں نے مساجد بورڈ کے ارکان سمیت سبھی بہی خواہوں پر زور دیا کہ طلبہ کو قانون کے حوالے کر کے اس سازش کا پردہ چاک کرنا ضروری ہے کیونکہ ہم محض چند شر پسندوں کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کے قیمتی وقت کا ضیاع نہیں چاہتے ہیں۔میں نے صوبائی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کو ٹیسٹ کیس بنا کر ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ آئندہ شرپسند طلبہ کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔یونیورسٹی میں مربوط نظم و ضبط کیلئے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے مذہبی و سیاسی عناصر طلبہ کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر نے سے گریز کریں اور یونیورسٹی کو تمام مذہبی و سیاسی سر گرمیوں کا اکھاڑہ بنانے کے بجائے علم وآشتی کا مر کز بنانے میں یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ڈاکٹر شاہ نواز نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے تجاویز کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خطے کی واحد علمی درسگاہ کا تقدس بچانے اور اساتذہ اور طلبہ میں عدم تحفظ اور مایوسی کو دور کر نے کیلئے فوری طور پر یونیورسٹی کی سیکیورٹی کی ذمہ داری رینجرز کے حوالے کی جائیں اور گلگت بلتستان کے تمام سیاسی و مذہبی رہنما طلبہ کو اپنے مقاصد کیلئے استعال کر نے سے گریز کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی بھی مکتب فکر کے نمائندگی نہیں کرتے بلکہ تمام اساتذہ طلبہ کو مستقبل کے ذمہ دار شہری بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔