چیف انجینئر اور دیگر افسران اور نمائندے دریائی کٹاو کی وجہ سے شگر میں تباہ شدہ پل کی سائیٹ پر پہنچ گئے

چیف انجینئر اور دیگر افسران اور نمائندے دریائی کٹاو کی وجہ سے شگر میں تباہ شدہ پل کی سائیٹ پر پہنچ گئے

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)چیف انجینئر ورکس وزیر تاجور بلتستان ڈپٹی کمشنر شگر ، ممبر اسمبلی اور پی ڈبلیو ڈی حکام کو لیکر تسر تاحیدر آباد دریائی کٹاؤ سے تباہ روڈ اور پل کی سائیٹ پر پہنچ گئے۔ان کیساتھ ممبر اسمبلی عمران ندیم،ڈی سی شگر رحمن شاہ،اے سی شگر امیر خان،مسلم لیگ (ن) شگر کے صدر طاہر شگری،محکمہ بی اینڈ آر اور پی ایچ ای کے ایکیسئین ،تحریک انصاف کے عامل اشرف اور پی ایم ایل (ن) سٹی صدر شیر علی موجود تھے۔انہوں نے اس سال گرمیوں میں سیلاب کی وجہ سے دریائے برالدو کی رخ تبدیل ہونے کی وجہ سے تسر اور گلاب پور کی جانب تباہ ہونے والے ایریاز کا معائنہ کیا۔اور سڑک کو بحال کرنے کیساتھ ساتھ مستقبل میں دریائی کٹاؤ سے ممکنہ بچاؤ پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر وہاں موجود تمام آفیسراں سے رائے طلب کی گئی۔جبکہ انہوں نے متعلقہ محکموں کے ایس ڈی اوز اور انجینئرز سے سروے اوراخراجات کے بارے میں تفصیلات معلوم کئے۔انہوں نے فوری طور مشینری کے ذریعے دریا کو اصل رخ پر موڑنے اور حفاظتی بند اور پشتوں کی تعمیر کیساتھ ساتھ سڑک اور پل کی بھی مرمت اور تعمیر کیلئے فوری طور کام کرنے کیلئے ایس ڈی اوز اور متعلقہ کنٹریکٹر کو حکم دیا کہ فوری طور متعلقہ سائیڈ پر کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائیں ۔اس دورے میں ڈی سی شگر اور چیف انجینئر نے گلاب پور میں دریائی کٹاؤ سے تباہ ہونے والی دیگر جگوں کا بھی دورہ کیا۔جبکہ ژھوقگو کے مقام پر کئی سالوں سے زیر التواء پل کا بھی معائنہ کیا۔اور متعلقہ حکام سے تفصیلات معلوم کیا۔ اس موقع پر چیف انجینئر نے ایس ڈی اوز بی اینڈ آر کو فوری طور پل کی شڑنگ کرکے گرمیوں کی سیزن شروع ہوتے ہی کنکریٹ کرنے کا حکم دیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔