دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اِس بچے کو خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کیا جائے

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اِس بچے کو خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کیا جائے

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:شمس الحق قمرؔ گلگت

آج کی کہانی ایک انڈین فلم سے شروع ہوتی ہے ۔کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ ایکُ اوباش اور آوارہ لڑکا ماں باپ کے سامنے ڈاکٹر بننے کا ڈھونگ رچاتا ہے اور اپنی غنڈہ گردی کے بل بوتے پر ایک میڈیکل کالج میں جعلی ڈاکٹر بننے کی کوشش کرتا ہے ۔ چونکہ جعلی ڈاکٹر نے میڈیکل کے شعبے کے بارے میں کچھ بھی نہیں پڑھا ہوا ہوتا ہے لہذا سائنسی طب کو سمجھنے سے کوسوں دور ہے لیکن خصوصیت یہ ہے کہ لاعلاج مریضوں کو اپنے حسنِ سلوک سے شفا یاب کرتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ ہسپتال کے تمام عملہ کے ساتھ اس جعلی ڈاکٹرکے مراسم انتہائی نرم و ملائم او ر دوستانہ ہوتے ہیں۔ ہسپتال کے مریضوں سے لیکر ، معدود چند کے ، باغ مالی تک اُس ڈاکٹر ( جعلی ڈاکٹر) کی دل سے قدر کرتے ہیں ۔ فلم کی یہ کہانی نظر سے گزری تو میں نے کہانی کے تمام ڈورے میدان دِ رس و تدریس میں Motivation یعنی رغبت یا آمادگی کے ساتھ مربوط کئے ۔ اس ضمن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کسی انسان خاص کر ایک طالب علم میں کسی کام کے لئے آمادگی کیسے پیدا کریں ؟ یہ سوال بہت وزنی اور بہت بھاری سوال ہے ۔ آمادگی اور رغبت دلانے کے حوالے سے لوگوں کے اپنے اپنے طریقہ ہائے کار ہیں۔ عمومی طور پر دو طرح کے طریقے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوے انسان یا کسی بھی جانور کو کسی کام کے لئے آمادہ کیا جاسکتا ہے ۔ ایک طریقہ وہ جسے زدو کوب کہتے ہیں یعنی ظلم ، تشدد اور مار دھاڑ سے کسی جانور سے کام لینا ، اور دوسراطریقہ وہ ہے جسے حوصلہ افزائی کہتے ہیں یعنی پیار محبت اور باہمی افہام و تفہیم سے کسی کو کسی کام کے لئے آمادہ کرنا یا رغبت دلانا۔ اول الذکر طریقہ حیوانوں کو آمادہ کرنے کیلئے خال خال استعمال کیا جاتا ہے لیکن بہت کم کامیاب ہوتا ہے ، انسانوں پر اگر یہ طریقہ آزمایا جائے تو نتیجہ منفی ہوتا ہے البتہ آخر الذکر طریقے کا تعلق بلا واسطہ انسانوں کی آمادگی سے ہے ۔ آمادگی دلاتے ہوئے انفرادی طور پر انسانی نفسیات سمجھنا بہت اہم ہے ۔ انسانی نفسیات پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک دوست سے یوں ہی گپ شپ میں استفسار کیا تو انہوں نے ایک جملے میں پُر مغز جواب دیا اور کہنے لگے ’’ انسان دنیا میں سب سے خطرناک چیز ہے ‘‘ ۔ یہ جملہ تو چھوٹا ہے لیکن بات بڑی معنی خیز ہے اب میرے دوست کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے اگر کام کیا جائے تو انسان کی درست خطوط پر تربیت کرنا ایک محنت طلب کام ہے ۔ اس معاملے میں تھوڑی سی لا پرواہی مستقبل میں ایک بہت بڑے مسئلے کا شاخسانہ بن سکتی ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے اس کُرّے کے اوپر مختلف المزاج لوگ کیوں نظر آتے ہیں ؟ وجہ اس کی یہی ہے کہ اُن کی تربیت مختلف انداز سے ہوئی ہوتی ہے اور ہم جب کسی خاص خول کے اندرمقید ہو کر اپنی شخصیت کو پروان چڑھاتے ہیں تو ہم کندن بن کے نکل آتے ہیں ۔ پھر جو ہم سوچتے ، سمجھتے اور کرتے ہیں وہی ہمیں درست معلوم ہوتا ہے چاہے لوگو ں کو قتل کرنے کی عادت ہی کیوں نہ ہو ۔اس نازک مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم انسانوں کے معاشرے میں کام کرنا شروع کریں تو کئی ایک پیچیدگیوں سے نبر د آزما ہو سکتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک کہانی میں نے تھومس ایڈیسن کے بارے میں پڑھی ۔

تھومس ایڈیسن وہ بڑ ے آدمی ہیں جنہوں نے بلب ایجاد کیا ۔ تھومس کی زندگی کے بارے میں ایک دلچسپ بات جو میں نے سنی وہ آمادگی اور انسانی نفسیات کو سمجھنے سے متعلق ایک اہم نکتہ ہے ۔ ایڈیسن سکول میں داخل ہوئے کوئی ایک سال کا عرصہ ہو چکا تھا کہ اُس کے

سکول کی پرنسپل کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ۔ یہ خط خود ایڈیسن اپنے بستے میں ڈال کے لایا تھا ۔ ایڈیسن خود خط پڑھ نہیں سکتا تھا ۔ ایڈیسن کی والدہ نے خط پڑھا اور زارو قطار رو نے لگی ایڈیسن نے اپنی والدہ سے رونے کی وجہ پوچھی تو والدہ نے جواب دیا کہ ہیڈمسٹریس کی طرف سے جو خط آیا ہے اس میں لکھا ہوا ہے کہ ’’تھومس اٰیڈیسن بہت ہی قابل لڑکا ہے جسے پڑھانے میں ہمیں دِقت ہوتی ہے لہذا اِسے کسی دوسرے بڑے سکول میں داخلہ دیا جائے‘‘ ایڈیسن نے اپنی ماں سے کہا کہ ، بھلا اس میں رونے کی کیا بات ہے ؟ والدہ نے جواب دیا بیٹا یہ غم کے آنسو نہیں ہیں بلکہ فرط مسرت کے آنسو ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ ایڈیسن کی والدہ نے اپنے بچے کو دوسرے سکول میں داخلہ دلواہی دیا ۔ زمانہ گزرتا گیا ، ماں کا سایہ بھی سر سے اُٹھ گیا ۔ ایک دن جب ایڈیسن نے بلب ایجاد کرکے دنیا میں تہلکہ مچا دی تو آپ کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا ۔ ایڈیسن نے سوچا کہ وہ اپنی والدہ کا پرانا صندوق کھول کے اُس صندوق سے اپنی والدہ کی کوئی تصویر ساتھ لے کے جائے گا اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بولے گا کہ یہی وہ شخصیت ہے جس نے مجھے ان بلندیوں تک پہنچا دیا ۔ صندوق کے اندر چیزوں کو کریدتے ہوئے اُسے وہی خط ملا جو آپ کی والدہ کے نام سکول کی ہیڈ مسٹریس کی طرف سے لکھا گیا تھا ۔ نفس مضمون یہ تھا ’’ یہ بات آپ کے علم میں لاتے ہوے ہمیں انتہائی افسوس ہے کہ آپ کا بچہ اپنی جماعت کے باقی بچوں کے ساتھ چلنے سے قاصر ہے ہم اس بچے کے بہتر مفاد میں یہی کہیں گے کہ اسے کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جاکر علاج کیا جائے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اِسے خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کیا جائے ‘‘ یہ پُرانا خط پڑھ کے ایڈیسن آب دیدہ ہوگئے اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بچپن، برآمد شدہ خط سے متعلق اپنی والدہ کی مثبتMotivation اور بچوں کی مثبت آمادگی پر شہرہ آفاق تقریر کی ۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author