انسانی حقوق اور اسلام

انسانی حقوق اور اسلام

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Madniاسلام انسانی حقوق کے اہم محافظ ہیں اور حقوق انسانی کا مفہو م یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں تنہا نہیں رہ سکتا، وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور ہے۔ اپنی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل اور آفات ومصائب کے ازالہ کے سلسلے میں دوسرے انسانوں کے تعاون کا محتاج ہے۔ اس قضیہ کے پیش نظر ہر انسان کا یہ عقلی و طبعی حق بنتا ہے کہ دوسرااس کی مدد کرے اوراس کے حقوق و فرائض کا لحاظ رکھے ۔انسان کے بنیادی اور فطری حقوق کے تحت جن جن امور کو شامل کیاجاتا ہے ان میں حقوق اِنسانی کا جامع ترین تصور، انسانی مساوات کا حق، انسانی عزت وآبرو کی حفاظت، انسانی جان ومال اورجائداد کی حفاظت، مذہبی آزادی کا حق، آزادی ضمیر کا حق، ضروریات زندگی کا انتظام، انسانی حقوق میں فرد ومعاشرے کی رعایت، بچوں کے حقوق کی حفاظت،اسی طرح انسانوں کے معاشی وثقافتی اور تعلیمی حقوق نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔

حقوقِ انسانی کا جامع ترین تصور اسلام نے دیا: مغرب نے حقوقِ انسانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ انتہائی ناقص اور فرسودہ ہے۔ اس کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرسکے۔ اس کے باوجود مغرب حقوق انسانی کی رٹ لگائے تھکتا نہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مربوط نظام، انسانی حقوق کا پیش کیا وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، جن میں احترام انسانیت، بشری نفسیات ورجحانات اور انسان کے معاشرتی، تعلیمی، شہری، ملکی، ملی، ثقافتی، تمدنی اورمعاشی تقاضوں اور ضروریات کا مکمل لحاظ کیاگیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر کسی شخص نے دنیا میں کسی کا حق ادا نہیں کیا تو آخرت میں اس کو ادا کرنا پڑے گا ورنہ سزا بھگتنی پڑے گی، حتیٰ کہ جانوروں کے آپسی ظلم وستم کا انتقام بھی لیا جائے گا۔

اللہ کے رسول نے فرمایا: حق والوں کو ان کے حقوق تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے روز ادا کرنے پڑیں گی، حتیٰ کہ بے سنگھے بکرے کو سینگھ والی بکری سے بدلہ دیا جائے گا۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت انسانی حقوق میں سب سے پہلا اور بنیادی حق ہے اس لیے کہ جان سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اس کے اردگرد زندگی کی سرگرمیاں گھومتی ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہ تھی، سب سے پہلے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وحشی درندوں کو انسانی جان کا احترام سکھایا، اور ایک جان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ قرآن پاک میں بھی اس کی تائید کی گئی چنانچہ ارشاد باری ہے: جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے، یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کا قتل کیا، اور جو اس کی زندگی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اسی طرح ارشاد نبوی ہے: رحم کرنے والوں پر اللہ رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ دوسری حدیث میں ارشاد ہے: اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہ کرے۔ اور مال کے تحفظ کو یوں موکد کیاگیا ہے، ارشاد ربانی: اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، واضح رہے کہ انسانی زندگی کی بقاء کے لیے مال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

جس طرح حق زندگی اور تحفظ مال، انسان کے بنیادی حقوق ہیں، اسی طرح عزت وآبرو کا تحفظ بھی انسان کا بنیادی حق ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کریں، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، ممکن ہے کہ وہ اس سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ، اور ایک دوسرے کو برے نام سے مت پکارو۔

اسلامی معاشرہ میں چونکہ ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں کسی کا کسی پر بے جادباؤ نہیں، ہر ایک آزاد اور خود مختار ہے اس لیے اسلام نے انسان کی شخصی آزادی کی بقاء کے لیے انسان کی نجی اور پرائیویٹ زندگی میں مداخلت سے دوسروں کو روکا ہے اور خواہ مخواہ کی دخل اندازی ،ٹوہ بازی اور بلا اجازت کسی کے گھر میں دخول سے منع کیا ہے۔ ارشاد حق ہے: مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں) کے گھروں میں گھروالوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہواکرو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ (بعض) گمان گناہ ہے اور ایک دوسرے کے حال کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کریے۔

اسی طرح اسلام میں مذہب اور ضمیر واعتقاد کے تحفظ کی گارنٹی یوں دی گئی: دین اسلام میں زبردستی نہیں ہے، ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات سے عاری ہے کہ مسلمانوں نے کبھی اپنی غیرمسلم رعایا کو اسلام قبول کرنے پرمجبور کیا ہو، یا کسی قوم کو مارمار کر کلمہ پڑھوایا ہو۔

دنیا بھر میں 10 دسمبر کوانسانی حقوق کاعالمی دن منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے منشور کی تیاری کے وقت انسانی حقوق کاموضوع مختلف ممالک کے نمائندوں کی توجہ کامرکزتھا۔اسی مشترکہ نظریہ کے پیش نظر جنوری 1947 میں انسانی حقوق کمیشن تشکیل پایاجس کے بعد1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد 10دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن قرار دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اعلامیہ کوجاری ہوئے عرصہ گذرچکا ہے جس کامشترکہ مقصد دنیا کے ہرانسان کیلئے آزادی کی نعمت اورظلم وناانصافی نیزہرطرح کے امتیازی سلوک سے نجات تھا تاہم انسانی حقوق کی فراہمی کا معاملہ اب صرف ایک سیاسی نعرے میں تبدیل ہو چکا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی حقوق کی حمایت ایک گرانقدرکام ہے لیکن ایسے وقت میں نہیں جب انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹیں مغرب کیلئے ایک سیاسی ہتھکنڈے میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت انسانی حقوق کامسئلہ دوسرا رخ اختیارکرچکاہے اوراسی وجہ سے دنیاکے بہت سے ممالک انسانی حقوق کی بعض شقوں میں تبدیلی کے خواہاں اورانھیں بطورہتھکنڈہ استعمال کئے جانے کیخلاف ہیں۔

ماہرین کے مطابق انسانی حقوق کی عالمگیریت کامطلب یہ نہیں ہے کہ ایک گروہ کاطرزفکرتمام قوموں پرمسلط کردیاجائے بلکہ اس کامطلب تمام قوموں اورثقافتوں کے حقوق کی منصفانہ ضمانت دینا ہے جبکہ امریکا اور مغربی ممالک انسانی حقوق کے نام پر اپنا نظریہ اور ثقافت دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی قانونی دستاویزات کا مختلف ثقافتوں بالخصوص ڈیڑہ ارب سے زیادہ انسانوں کے دین اسلام کی ثقافت سے عاری ہونابھی ایک امتیازی رویہ ہے اوراسی وجہ سے آج امریکہ اوربعض مغربی حکومتیں اس سے ناجائزہ فائدہ اٹھارہی ہیں اوراسے اسلام سے دشمنی کیلئے ہتھکنڈہ بنائے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کی دستاویزات، اصول وقوانین اورمیکانیزم میں ان کی دینی تعلیمات کومدنظررکھاجائے اورخاص طور پراقوام متحدہ کایہ فرض بنتاہے کہ وہ انسانی حقوق کی آڑ میں امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے شروع کردہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی حمایت ترک کرکے دنیا بھر کے انسانوں کیلئے انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ جن مغربی ممالک نے منشور حقوقِ انسانی کی داغ بیل ڈالی تھی، آج وہی ممالک حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ چنانچہ آئے دن ان ممالک میں جرائم پیشہ افراد کی شرح میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہی۔ مفکرین و مدبرین نے اس کے بہت سے اسباب متعین کیئے ہیں، لیکن حقوق انسانی پر ڈاکہ زنی کا بنیادی سبب ان انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے کسی داخلی قوتِ نافذہ کا فقدان ہے، علاوہ ازیں مغرب کے حقوق انسانی کا فلسفہ صرف اس کے مفادات کے اردگرد گھومتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقوقِ انسانی ایک نظریہ بن کر رہ گیا، جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن محمد عربی صلی ا علیہ وسلم نے حقوقِ انسانی کے صحیح نفاذ اور ان کو عملی زندگی سے مربوط کرنے کے لیے فکر آخرت سے جوڑدیا جس کے باعث بندوں کے اندر حقوقِ انسانی کی رعایت وحفاظت کی ایسی اسپرٹ پیدا ہوگئی کہ بندہ از خود حقوق انسانی کا محافظ بن جاتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔