تحریک انصاف گلگت بلتستان کی طرف سے ٹیکس عائد کرنے کی حکومتی فیصلے کے خلاف بھر پور احتجاج اور مزاہمت کرنے کا فیصلہ

تحریک انصاف گلگت بلتستان کی طرف سے ٹیکس عائد کرنے کی حکومتی فیصلے کے خلاف بھر پور احتجاج اور مزاہمت کرنے کا فیصلہ

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( خبرنگارخصوصی) تحریک انصاف گلگت بلتستان نے سو فیصد ٹیکس عائد کرنے کی حکومتی فیصلے کے خلاف بھر پور احتجاج اور مزاہمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر تنظیموں سمیت سول سوسائٹی کے ساتھ ملکر جدوجہد کریں گے۔ تحریک انصاف کے صوبائی آرگنائزر راجہ جلال حسین مقپون، ڈپٹی آرگنائزرز فتح اللہ خان، سیکریٹری اطلاعات تقی آخونزادہ اور شاہ ناصر نے مشترکہ بیا ن میں کہا ہے کہ اس ظا لمانہ اور حکومتی عوام دشمنی پر مبنی فصلہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ملی بھگت کا شاخسانہ ہیں۔ جی بی کو نسل جس میں پیپلز پارٹی کی اکثریت تھی نے دو ہزار بارہ میں عوام سے خون چوسنے کا یہ عمل شروع کیا ہے۔ اب جبکہ جی بی کونسل کا وجود ہی نہیں کونسل کی گلگت میں موجود د فتر نے پچاس فیصد کا مزید ٹیکس کا نوید سنایا ہے۔ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے مفاہمت سے ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ پچاس، پچاس فیصد ٹیکس باری،باری گلگت بلتستان کے عوام پر عائد کریں۔

12413888_509259395903654_515148836_o (1)

تحریک انصاف کے رہنماوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا ہے کہ موصوف گلگت بلتستان کو جب آ ئینی حقوق اور پا کستان کا حصہ بنانے کے حوالے پر اقوام متحدہ کی قرار داد کی روح سے گلگت بلتستان کو متنازعہ پیش کرتے ہے اب چپ سادھ لی ہے۔ اگر گلگت بلتستان متنازعہ ہے تو حفظ الرحمن اب کیو ں خواب خرگوش سو رہے ہیں۔ کیا کسی متنازعہ علاقہ وہ بھی بقول حفظ الرحمن پاکستان کا حصہ نہیں پر ٹیکس نافص کر سکتا ہے ؟۔ اسی طرح سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے گلگت بلتستان کے عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ آ یا یہ جو پچاس فیصد مزید ٹیکس نافص کیا ہے کیا یہ جی بی کونسل نے منظوری دی تھی۔ اگر دی ہے تو اب مگرمچھ کی آنسو کیو ں بہارہے ہیں ؟ اگر جی بی کونسل نے منظوری نہیں دی تو مسلم لیگ ن کی حکو مت نے کیسے پچاس فیصد کا مزید ٹیکس عوام کو تحفہ دیا ؟۔

تحریک انصاف گلگت بلتستان نے مزید کہا ہے کہ وفاق کی طرح گلگت بلتستان میں بھی پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی عوام دشمن وہ لوٹ گھسوٹ کی مفاہمت پر مبنی پالیسی جاری ہے جس کی ایک جھلک موجودہ اور سابق وزرائے ا علی کی اندرون خان مفا ہمت ہے جس تحت کرپشن اور لوٹ کھسوٹ پر ایک دوسرے کا ساتھ دینا کا وعدہ ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت ماضی میں پی پی پی کے خلاف وائٹ پیپرشائع کرچکی ہے آج خود ان الزامات اور کرپٹ فعل پر عمل پیرا ہیں جو مسلم لیگ ن کے وائٹ پیپر میں پی پی پی حکومت کے خلاف درج ہیں جس میں محکمہ تعمیرات میں ٹھیکوں کی بندربانڈ ، ناجائز بھرتیوں سمیت حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے اپنے قریبی عزیزوں کو من پسند ٹھیکوں سے نوازا گیا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے مزید کہا ہیں کہ ہم مفاہمت کے خلاف نہیں لیکن پس پردہ لوٹ کھسوٹ اور کرپش کے خلاف مصمم ارادے سے جدوجہد کریں گے۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔