چلاس: پلاسٹک پائپ کنکشن کے استعمال پر دفعہ 144نافذ

چلاس: پلاسٹک پائپ کنکشن کے استعمال پر دفعہ 144نافذ

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان) پلاسٹک پائپ کنکشن کے استعمال پر دفعہ 144نافذ، محکمہ واٹر سپلائی کی پلاسٹک پائپ کے خلاف مہم، ہزاروں فٹ پائپ ضبط کر کے نذر آتش کر دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر چلاس خرم پرویز کے احکامات کی روشنی میں چلاس شہر میں پلاسٹک پائپ کے استعمال کے خلاف مہم کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے پہلے ہی روز ہزاروں فٹ پائپ قبضے میں لیکر نذر آتش کر دیا گیا۔ اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر چلاس خرم پرویز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پلاسٹک پائپ متعدد لاعلاج بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ بیماریوں کے علاوہ پائپ سے بڑی مقدار میں پانی ضائع ہو رہا ہے اور عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پانی لیکیج سے شہر کی تمام سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں۔محکمہ واٹر سپلائی پانی سٹوریج ٹینکیوں کی صفائی یقینی بنائے۔مہم کو کامیاب بنانے کے لئے محکمہ واٹر سپلائی کی ٹیم کے ہمراہ پولیس اور لیویز اہلکار بھی موجود ہونگےجو تمام پلاسٹک پائپ اکھاڑ کر ضبط کرینگےاور بعد ازاں اس ضبط شدہ پائپ کو نذر آتش کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے صارفین جن کے پلاسٹک پائپ لگے ہوئے ہیں فوری طور پر اٹھالیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں چھے ماہ کے لئے جیل بھیج دیا جائے گا۔عوام اپنی صحت کے تحفظ کے لئے تعاون کریں اور پانی کے ضیاع کو روکنے اور سڑکوں کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں ہوٹلوں کی صفائی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔عوام کی صحت کے تحفظ کے لئے انتظامیہ بھر پور اقدامات اٹھائے گی۔شہر میں مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے چھاپہ مار کاروائی بھی جاری رہے گی۔ اس موقع پر سب انجینئیر مبشر حسین نے کہا کہ پلاسٹک پائپ کے استعمال پر پابندی پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔محکمہ واٹر سپلائی کی ٹیم تمام پلاسٹک کنکشنز کو منقطع کرے گی۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔