میری آواز سنو

میری آواز سنو

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شکو ر علی زاہدی

گلگت بلتستان کا علاقہ تاریخی اعتبار سے مختلف معاملات میں نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ خطے کی قدیم تاریخ ثقافت ، کلچر تہذیب ، زبان و ادب سیاست ، طرز حکومت اور معاشرتی عوامل کے اعتبار سے تاریخ کے ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ اس خطے سے تعلق رکھنے والے ہونہار ، قابل اور با شعور فرزندوں نے پاکستان اور عالمی سطح پر گلگت بلتستان کا نام روشن کرنے میں ہمیشہ اہم کر دار ادا کیا ہے۔ ایک طرف تو علی شیر خان انچن جیسے بہادر حکمران گزرے ہیں دوسری جانب ملکہ جواہر خاتون جیسی عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے والی حکمرانوں نے یہاں اپنا راج کیا ہے۔ جنگ آزادی گلگت بلتستان کے بانی و ہیرو کرنل حسن خان سے لے کر لالک جان شہید نشان حیدر تک علاقے کے سپوتوں نے مملکت خداداد پاکستان کو ایک عظیم طاقت و قوت سے ہمکنار کیا ہے اور خطے سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ نے دنیا کی پہلی بلند ترین چوٹی مونٹ ایورسٹ کو سر کر کے نہ صرف گلگت بلتستان کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ پاکستان کا پرچم لہرا کر وطن عزیز سے انتہائی خلوص و محبت اور وفاداری کا ثبوت دیا۔ مقصد یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں پایا جانے والا ٹیلنٹ کا مقام ملک کے دیگر علاقوں سے کہیں کم نہیں ہے اگر ہماری قوم اس جانب تھوڑی بھی توجہ دے گی تو یہاں کی سر زمین بڑی زرخیز ہے لیکن بد قسمتی سے ایک بنیادی خامی یہ ہے کہ خطہ ہمیشہ اپنے ٹیلنٹ کی قدر کرنے کے بجائے دوسروں کو ترجیح دیتا ہے۔

کسی بھی قوم خطہ اور معاشرے کی ترقی اور عروج کے منازل تک پہنچانے کے لیے اس خطے کا میڈیا اور صحافت کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام صحافت اور میڈیا سے نا واقف تھے آہستہ آہستہ عوام کا ملکی سطح پر شائع ہونے والے اخبارات اور مختلف نیوز چینلوں سے واسطہ پڑا اور یہی سے جی بی میں صحافت اور میڈیا کا آغاز ہوا ۔ روز نامہ جنگ ، روزنامہ ایکسپریس ، ڈان ، اور نیوزاور دیگر اہم اخبارات کو خصوصی طور پر گلگت بلتستان میں لایا کرتے تھے زمانے کی تبدیلی اور ترقی کے باعث قومی اخبارات کی جگہ مقامی اخبارات کے لیا ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت گلگت بلتستان میں روزنامہ ، ہفتہ روزہ ، اور ماہانہ سطح پر چھپنے والی اخبارات اور جرائد کی تعداد تقریباً 28کے قریب ہے۔ اس وقت جنگ ، ایکسپریس نیوز ، اور ڈان اخبار گلگت میں نایا ب ہیں۔ مقامی عوام لوکل اخبارات او ر جرائد کو پڑھنے میں ترجیح دیتے ہیں۔

کیونکہ میڈیا اور صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے اس لیے اس کی ترقی بھی نا گزیر ہے۔ مقامی صحافت اور اخبارات کے مالکان فخر سے یہ کہتے ہیں کہ ہم صحافت کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کرتے ہیں یہ بات بالکل درست ہے خبروں کی حد تک تو ہر اخبار میں مقامی خبریں چھپتی ہیں جس سے عوام مستفید ضرور ہوتے ہیں لیکن کوئی بھی اخبار صرف خبروں کی حد تک نہیں ہوتا ہے اس میں خبروں کے علاوہ بھی دیگر اہم ٹاپک اور ایشوز پر تذکرہ کیا جاتا ہے ۔اخبار کے اس اہم حصے کو اداریہ کہا جاتا ہے۔ اداریہ اور خبروں کے پیج کے درمیان بہت فرق پایا جاتا ہے۔ خبروں کا حصہ رپورٹرز کے لیے خصوصی ہوتا ہے۔ مختلف نیوز رپورٹر 24گھنٹے کے اندر علاقے میں ہونے والی رونما حالات اور حادثات کے متعلق اپنی رائے سے اخبار کو آگاہ کر لیتے ہیں ۔ اخبار میں خبر چھپنے کے بعد اس کا معیار صرف 24گھنٹے تک ہی ہوتا ہے اس مدت کے بعد وہ خبر پرانی ہو کر اس کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے جبکہ اس کے بر عکس اداریہ کا صفحہ میں ایڈیٹر اور ایڈوٹیریل انچارج اپنا تجزیہ اور جائزہ لیتا ہے اور اس صفحہ میں مختلف کالم نگار اس اخبار کے خبروں کو موضوع بنا کر آرٹیکل پیش کرتے ہیں ۔ اخبار کی بہترین معیار کے لیے خبر اور ایڈیٹروریل صفحہ موضوعات کا ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اخبار کی 50%سے زیادہ سرکولیشن بہترین ایڈیٹوریل سے ہی ہوتی ہے ۔ دوسرا یہ کہ خبر کے مقابلے میں ایک کالم سے طویل عرصے تک استفادہ کیا جا سکتا ہے اخباری آرٹیکل اور اخباری رپورٹ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک اخباری آرٹیکل کسی واقعہ یا کہانی کے متعلق حقائق بیان کرتا ہے اس میں ٹائم لائین کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے اس میں لوگوں کی دلچسپی اور سر گرمیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اس میں کالم نگار اپنی رائے بھی دے سکتا ہے یہ عموماً معاشرے کے مختلف مسائل و وسائل ، تعلیم ، معاشرتی اور ملکی امور اور سیاست کے متعلق لکھا جاتا ہے اس کے برعکس اخباری رپورٹ یا خبر میں کسی صورتحال ، واقعہ یا حادثہ کے بارے میں معلومات شامل ہوتے ہیں اس میں ٹائم لائین اور ڈیٹا کا خیال رکھا جاتا ہے اس میں رپورٹر اپنی رائے نہیں دے سکتا ہے اس طرح اخبار کے دیگر صفحات اور ایڈیٹوریل پیج میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ایڈیٹوریل صفحہ میں خطہ اور ملکی حالات کے متعلق معلومات کا ذخیرہ ہوتا ہے ۔ اور کالم نگار ایک کالم لکھنے کے لیے بہت تحقیق اور وسیع مطالعے کے بعد لکھ سکتا ہے۔ مقامی اخبارات میں عموماً ایڈیٹوریل صفحہ اور اخبار کے خبر یا رپورٹ اور خطے کے حالات کے متعلق بہت کم دیکھنے میں آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبار کے ذمہ دار افراد اپنی آسانی کے لیے نیٹ سے مختلف اخبارات کے کالموں کو پیسٹ کر کے اپنے اخبار میں پیوست کرتے ہیں جو کہ نہ صرف غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ ان کالم نویسوں کو یہ علم تک نہیں ہوتا ہے کہ ان کے آرٹیکل کہیں لوکل اخبارات میں بھی بغیر اجازت کے چھپتے ہیں ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مقامی اخبارات کے ذمہ داران کو یہ دعویٰ کرنا بھی غلط ہے کہ وہ اپنے اخبار کے ذریعے علاقے کی خدمت کرتے ہیں کیونکہ اس عمل کے ذریعے گلگت بلتستان کے کالم نگاروں کی مسلسل حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ اخبار نکالنے والے حضرات لوکل کالموں کو ترجیح نہیں دیتے ہیں اور نہ ہی ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں مقامی حالات اور خطے کے متعلق اخباروں میں آرٹیکل نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو FPSC، NTS، CSS اور دیگر ملکی سطح پر ہونے والی انٹری ٹیسٹ /انٹرویو میں ان کو گلگت بلتستان کے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مسائل سے دو چار ہوتے ہیں ۔ اگر مقامی اخبارات میں لوکل کالم نگاروں کو ترجیح دیں گے تو اس کے ذریعے ہر قسم کے طلبہ کو معلومات محیا ہو سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں لکھنے کا ٹیلنٹ موجود ہے لیکن ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے ۔ راقم نے کلاس 8thسے اب تک 1600سے اوپر آرٹیکلز تحریر کیے ہیں لیکن آج تک کسی ایک اخبار کی جانب سے 500روپے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی ہے جبکہ ایک آرٹیکل لکھنے اور دینے کے لیے روزانہ تقریباً300 روپے اپنا خرچہ کرنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ خطے میں صلاحیت اور قابلیت ہونے کے باوجود اہل قلم حضرات سامنے نہیں آتے ہیں جبکہ ہمارے معاشرے میں اشتیاق احمد یاد ، فیض اللہ فراق ، سید مجاہد علی شاہ ، واعظ فرمان علی ، قاسم نسیم اور حشمت کمال الحامی جیسے درجنوں تعلیم یافتہ اسکالرز موجود ہیں جو ملکی سطح پر آرٹیکل لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ تعاون اور حوصلہ افزائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی صلاحیت کو سامنے نہیں لاتے ہیں اس کے بر عکس پاکستان کے دیگر شہروں اور صوبائی سطح پر نکالنے والے اخبارات کے کالم نگاروں کو ان کی خدمت کے عوض ماہانہ لاکھوں حساب سے تنخواہ دی جاتی ہے یہی خدمت لوکل اخباروں کے مالکان کو بھی کرنی چاہیے ۔ جب وہ اپنے اخبار سے لاکھوں روپے کما سکتے ہیں تو ایک لوکل کالم نگار کی حوصلہ افزائی کے کم از کم ایک کالم کے پیچھے 500روپے کا عطیہ بھی دیا کریں۔ تاکہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے اہل قلم اسکالرز قوم کے لیے اپنی خدمات نچھاور کر سکیں ۔ گلگت بلتستان میں صحافت کو ترقی دینے کے لیے درجہ ذیل اہم امور پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ اول یہ کہ ہر اخبار کا چیف ایڈیٹر ، ایڈیٹر ، چیف رپورٹر اور دیگر نیوز رپورٹروں کو گلگت بلتستان کے زمینی حقائق کو سمجھ کر اپنی اخبارات کی پالیسی مرتب کرے ۔ دوسرا یہ کہ بعض اخبارات کے ایڈیٹوریل انچارج کا تعلق گلگت بلتستان سے نہ ہونے کی وجہ سے خطے کے متعلق بہت کم معلومات رکھتے ہیں ان کو جی بی کے متعلق وسیع مطالعہ کے مواقع فراہم کر کے ہی اس عہدے پر فائز کیا جائے۔
تیسرا یہ کہ لوکل اخبارات نذیر ناجی ، جاوید چوہدر ی ، ریاض احمد چودھری ، محمد طاہر ، ڈاکٹر صفدر نذیر عالم ، ڈاکٹر محمد عبید اللہ محمد سرور اور دوسرے اہم کالم نگاروں کے بجائے گلگت بلتستان کے لوکل رائٹرز کو ترجیح دی جائے ۔ تاکہ علاقے کی بہتر حالات اور مسائل سے آگاہی ہو سکے۔ چوتھا یہ کہ مقامی اخبارات کم ازکم اپنی اخبار کے لیے ایک لوکل کالم نگار پیدا کرکے ان کی مکمل حوصلہ افزائی کرے ۔ پانچواں یہ کہ مقامی اخبارات میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے صحافت میں خواتین کو بھی مساوی نمائندگی دی جائے۔ چھٹا یہ کہ لوکل اخبارات میں ملکی سطح پر مسائل اجاگر کر نے کی بجائے مقامی مسائل پر خصوصی توجہ دیا کریں۔ ساتواں یہ کہ جو اخبارات بہت جلد قومی سطح پر آنا چاہتے ہیں پہلے وہ لوکل عوام کا دل جیتنے میں کردار ادا کریں۔ آٹھواں یہ کہ انٹرنیٹ سے زیادہ اپنی محنت پر اخبار نکالنے پر عملی اقدامات کریں۔ نواں یہ کہ جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کے اخبارات کی بہترین مارکیٹنگ ہو تو اس کو انٹر نیٹ میں نہ لایا جائے۔ دسواں یہ کہ تمام اخبارات اور رسائل یونین بنا کر مقامی یا ملکی سطح پر ایک پالیسی وضع کرے۔ گیارہواں یہ کہ کسی کی بھی حمایت یا مخالفت کے بجائے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔
بارہواں یہ کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سپیکر ، ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ اور وزیر اطلاعات جناب ابراہیم ثنائی سے یہ درخواست ہے کہ وہ خطے کے تمام مقامی اخبارات کو جائزہ لے کر صحافت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لیے درجہ بالا مسائل اور نکات کو سامنے رکھتے ہوئے سر کاری سطح پر قوانین وضع کرے تاکہ گلگت بلتستان میں ریاست کا چوتھا ستون صحافت ترقی کے منازل طے کر سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔