اطالوی حکومت کی جانب سے عطیہ میں دیا جانے والا لاکھوں روپے کا موبائل ایکسرے پلانٹ ڈی ایچ او کے دفتر میں کھلے آسمان تلے بغیر کسی استعمال کے پڑا ہے

اطالوی حکومت کی جانب سے عطیہ میں دیا جانے والا لاکھوں روپے کا موبائل ایکسرے پلانٹ ڈی ایچ او کے دفتر میں کھلے آسمان تلے بغیر کسی استعمال کے پڑا ہے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال جیسے پسماندہ ضلع کو عوام کی سہولت کے پیش نظر اٹلی کی حکومت نے خیبر پحتون خواہ محکمہ صحت کو سال 1994 میں ایک موبائل ایکسرے پلانٹ عطیہ میں دیا تھا جو کہ ابھی تک ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے دفتر میں بغیر کسی استعمال کے پڑا ہے۔ اس سلسلے میں جب ڈی ایچ او ڈاکٹر اسراراللہ سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ یہ موبائل ایکسرے پلانٹ میرے آنے سے بہت پہلے یہاں آچکا تھا۔ سال
1994 میں یہ پلانٹ اٹلی کی حکومت نے اس وقت کے صوبہ سرحد کے محکمہ صحت کو عطیہ میں دیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ یہ موبائل ایکسرے پلانٹ چترال کے دور دراز اور ایسے پسماندہ علاقوں میں جاکر مریضوں کی ایکسرے کرنے میں استعمال ہوگا جہاں یا تو قریب میں کوئی ہسپتال نہیں ہے یا ہسپتال میں ایکسرے مشین نہیں ہے۔
مگر بدقسمتی سے یہ ایک دن بھی استعمال نہیں ہوا اور اس وقت سے لیکر آج تک DHO کے دفتر میں پڑا ہے جو بادوباراں اور حراب موسمی حالات کی وجہ سے یہ قیمتی پلانٹ برباد ہورہا ہے مگر کسی بھی خدا ترس ایماندار افسر نے ابھی تک اس قیمتی پلانٹ کو بچانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

چترال کے ایک شہری نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ صحت کے دفتر میں پہلے بھی ایک ایمبولنس خریدا گیا تھا جس کی کاغذوں میں قیمت زیادہ بتائی گئی تھی مگر وہ ایمبولنس دراصل اس کوالٹی کا نہیں تھا جو کاغذی کاروائی میں دکھایا گیا تھا۔ انہوں  نے مزید بتایا کہ یہ تقریباً ایک کروڑ روپے کا پلانٹ ہے جو ایک فور
ویل گاڑی میں نصب کیا گیا ہے اس میں ڈیزل جنریٹر بھی لگایا گیا تھا تاکہ جہاں بجلی نہ ہو وہاں جنریٹر چلاکر ایکسرے مشین کو استعمال کیا جائے مگر یہ مشین ویسے کھڑے کھڑے حراب ہورہا ہے۔

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکرنے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے ارباب احتیار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قیمتی پلانٹ کواستعمال میں لایا جائے اور اسے بغیر کسی استعمال کے ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ اور اگر یہاں اس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فروخت کرکے اس کی قیمت پر دوسری ایسی مشینری چترال کو بھجایا جائے جس کہ اس غریب ضلع میں بے بس عوام کو ضرورت ہو۔

 واضح رہے کہ اس قیمتی موبائل ایکسرے پلانٹ پر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کسی افسر نے اس کا نوٹس نہیں لیا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔