شمشال کی تعمیروترقی میں نوموس کا کردار

شمشال کی تعمیروترقی میں نوموس کا کردار

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: شجاعت علی
خود غرضی انسانی فطرت کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ دولت اکٹھا کرنے کی خواہش مرتے دم تک انسان کے ساتھ رہتی ہے مادیت پرستی اور نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں لوگ خود غرضی کی وجہ سے انفرادی ترقی کے سوچ میں مگن ہے وہاں پاکستان میں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جہاں انفرادی اور اجتماعی ترقی ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ جہاں صاحب حیثیت لوگ فی سبیل اللہ دل کھول کر ترقیاتی کاموں کے لئے امداد دیتے ہیں تو پورا گاؤں اُن صاحب توفیق افراد کی پکار پر لبیک کہہ کر رضاکارانہ خدمات کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ جہاںآج سرکاری اور غیر سرکاری ادارے عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر دیہی ترقی کے لئے نِت نئے ماڈل متعارف کرارہے ہے وہاں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جسکا اپنا دیہی ترقی کا ایک انوکھا اور کامیاب ماڈل کئی سو سالوں سے قائم ہے اور اس ماڈل کا نام ہے نوموس۔ نوموس بنیادی طور پر وخی ذبان کا لفظ ہے جو قربانی، فیاضی، خدمت اور خود انحصاری کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ وخی پاکستان، افغانستان، تاجکستان، اور چائنہ میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں وخی بولنے والے لوگ ضلع ہنزہ کی تحصیل گوجال، اور ضلع غذر کی تحصیل اشکومن اور گوپس میں رہتے ہیں۔ اُردو میں ناموس کا لفظ عربی ذبان سے اخذکیا گیا ہے۔ جس کے لغوی معنی عزت، نیک نامی، شرم، رواج ، دستور، اور لاج کے ہے۔ ناموس رسالت اس کی ایک مثال ہے۔ وخی ذبان میں استعمال ہونے والا لفظ نوموس (Nomus)تلفظ کے لحاظ سے قدرے مختلف ہیں تاہم معانی کے لحاظ سے دونوں میں کافی مماثلت پایا جاتا ہے۔

نوموس گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں واقع وادی شمشال کا قدیم زمانے سے جاری سماجی و معاشی ترقی اور رضاکارانہ خدمات کا ایک انوکھا نظام ہے اس نظام کے تحت گاؤں کے صاحب حیثیت لوگ رضا الہی( اللہ کی خوشنودی) حاصل کرنے کے لئے فی سبیل اللہ اپنے گھر کے کسی فرد یا افراد کے نام سے کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی نشاندہی اور اس پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ لگانے کے بعد مالی قربانی کا عطیہ دیتے ہیں مالی قربانی میں منصوبے کے لئے درکار وسائل شامل ہے ۔ منصوبے کی نشاندہی میں گاؤں کے لوگوں کی مشکلات، مسائل اور عوامی ترجیحات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے منصوبے کا آغاذ مخیر حضرات کی گھریلوفرصت مثلاً مالی وسائل کا بندوبست اور اعلان کے بعد ہوتا ہے۔ نوموس کے لئے مختص کی جانے والی مالی وسائل کو گاؤں کے ایک مرکزی مقام میں لا کر دعائے خیر کی جاتی ہے جس میں پورا گاؤں شریک ہوتا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کی دستیابی یا موجودگی، وقت اور موسمی حالات جیسے امور کا جائزہ لینے کے بعد گاؤں کے لوگ منصوبے پر کام کے آغاز کا فیصلہ کرتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ اس کار خیر میں شامل ہونے اور ثواب حاصل کرنے کے لئے رضاکارانہ خدمات فری لیبر اور وقت کی صورت میں دیتے ہیں۔ہر گھر اس کار خیر میں شرکت کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہے اس لئے کم از کم ایک فرد کی شرکت کو یقینی بنانا سربراہِ خانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مخیر حضرات جس شخص یا اشخاص کے نام سے منصوبہ مکمل کرنے کے لئے مالی معاونت فراہم کرتے ہیں وہ ایک تو اپنے عزیز( چاہے وہ ذندہ ہو یا وفات پا گیا ہو) کی یاد کو ہمیشہ کے لیے ذندہ رکھنا چاہتے ہیں اور دوسر ا مقصد ثواب کمانا، ذہنی سکون اور اطمینانِ قلب کا حصول ہے۔ جن کے نام سے ترقیاتی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے اُس منصوبے کو اس شخص یا اشخاص کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور گاؤں کے لوگ اس منصوبے کو اُسی نام سے ہمیشہ کے لئے یاد رکھتے ہیں کبھی کبھاراگر انسان کی مالی حالت ساتھ نہ دے تو قریبی عزیز کے وفات کے بعد اُس کی وصیت کے عین مطابق کسی بھی وقت نوموس کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے جس طرح حج بیت اللہ کی سعادت صاحب استطاعت لوگ ہی کر سکتے ہیں بلکل اسی طرح نوموس بھی ہر کسی پہ لاذم نہیں بلکہ جس کسی کو خدا نے اس قابل بنایا ہے اور وہ خود سمجھتا ہے کہ اس کی مالی حالت اتنی ہے کہ وہ گاؤں کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ کر سکتا ہے وہی لوگ مالی قربانی کا نذرانہ دے کر اس کار خیر میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ پس امداد کرنے والااپنا فیصلہ کرنے میں بلکل آذاد ہے۔ اس نظام کے بہت سارے فوائد ہیں مثال کہ طور پر گاؤں میں نوموس کے ذریعے کمیو نٹی موبلائزیشن اور رضاکارانہ خدمات ایک مثبت روایت بن چکی ہے ایک دیرنہ مسئلہ حل ہونے سے گاؤں کے لوگوں کے مشکلات میں کمی آتی ہے بیرونی امداد کے انتظار میں رہنے کی بجائے گاؤں کے لوگ اپنے ہی دستیاب وسائل سے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ نکال لیتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا عقیدہ ہے کہ فلاحی اور خیراتی کاموں میں شرکت نیکی اور ثواب کا کام ہے۔ اس نظام کے تحت اب تک کئی ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ان میں شمشال روڈ کی تعمیر، عبادت گاہوں، سکولوں، ہسپتالوں، مسافر خانوں اور عوامی عمارات کی تعمیر، پلوں اور راستوں کی تعمیرومرمت، نئے نہروں کی کھدائی اور بنجر ذمینوں کی آبادکاری سر فرست ہیں۔ یہ بات عیاں ہے کہ حکومت وقت عوام کے لئے سب کچھ نہیں کر سکتی۔ اپنی مدد آپ ایک بہترین حکمت عملی ہے جو پسماندہ علاقوں کی تقدیر بدلنے میں ممدو معاون ثابت ہو رہی ہے۔

ماضی قریب میں اس ماڈل سے متاثر ہو کر سوئٹزلینڈ سے تعلق رکھنے والے مخیر حضرات نے “نوموس برائے تعلیم و صحت” کے نام سے گوجال ہنزہ کے لوگوں کے لئے ایک پروگرام شروع کیا ہے اس پروگرام کے تحت مستحق اور نادار طلباء کو تعلیمی وظائف دیے جا رہے ہیں مستحق مریضوں کے علاج معالجے کا خرچہ ادا کیا جا رہا ہے اور ہسپتالوں میں طبعی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

شمشال سطح سمندر سے تین ہزار ایک سو میٹر کی بلندی پر واقع پاکستان چائنہ سرحد پر واقع ہے۔ ثمینہ بیگ اور رجب شاہ سمیت کئی نامی گرامی کوہ پیماؤں کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے اسے کوہ پیماؤں کی سرزمین کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ نے اسے شمشال بے مثال کہہ دیا تو سیاحوں نے بام دنیا ۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ شمشال کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات (جسے آجکل گلگت بلتستان کے نا م سے جانا جاتا ہے)کا انتہائی دور افتادہ، پسماندہ اور کم ترقی یافتہ گاؤں گردانا جاتا ہے مگر اگر نیت صاف ہو، خلوص شامل سفرہو، اتفاق اور بھائی چارگی ساتھ ہو تو جذبے ضرور اپنا رنگ دکھاتے ہیں۔ آج شمشال کے لوگ ذندگی کے کسی شعبے میں دوسروں سے پیچھے نہیں۔ 1985 میں شمشال روڈ کی تعمیر شروع ہوئی اور اٹھارہ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد 2003 میں شمشال روڈ کی تعمیر مکمل ہوئی۔ایک کام جو بظاہر حکومت وقت کے لئے ناممکن لگتا تھا اسے شمشال والوں نے اپنی انتھک محنت، جذبے اور قربا نیوں سے ا ٹھارہ سال میں ممکن کر دکھایا۔بے شک حکومت، اے کے آر ایس پی اور عوام جب اکٹھے ہوئے توسب کی جیت ہوئی۔ 2003سے قبل یہاں گاڈی کا راستہ نہیں تھا لوگ سودا سلف اور دیگر آسائش ذندگی پیٹھ پہ اُٹھا کے تنگ و تاریک پہاڑوں کے درمیان کئی بار دریا عبور کر کے یخ بستہ راتوں کو گھر پہنچتے تھے ۔ پھسو گوجال سے گاؤں تک پہنچنے میں کم از کم تین دن لگتا تھا۔ یہاں آج بھی بجلی اور ٹیلیفون جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہے۔ ذندگی کی بنیادی سہولتوں سے محرومیت اور حکومت وقت کی عدم توجہی مگر خود انحصاری کے اُصول پر کاربند رہنے سے اس گاؤں کے لوگوں کی ذندگی بدل گئی۔یہاں کے لوگوں کو بہت جلدی احساس ہو گیاتھا کہ ۔ خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔ نہ ہو جن کو خیال خود آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔ خوش قسمتی کی بات ہے کہ شمشال میں آج بھی اپنی مدد آپ کا نظام زندہ و تابندہ ہے وقت اور حالات کو مدنظر رکھ کر نوموس کے اُصول کو جدید خطوط پہ اُستوار کیا جا رہا ہے۔ خود کفیل نظام ذندگی کا حصول ہر گھر کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا گُر خوب آتا ہے۔ شمشال کی ماضی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے یہاں کی تاریخ قربانیوں، فلاحی کاموں اور عظیم کامیابیوں سے بھری پڑی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نوموس شمشال کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا چلا آرہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوموس کے نظام کو گلگت بلتستان کے دوسرے حصوں میں بھی اپنایا جائے کیونکہ یہ عوام ہی ہے جو اپنی مدد آپ کے اُصول کے تحت اپنے ہی دستیاب وسائل کو بہتر اندا ز میں استعمال میں لا کر اپنی تقدیر بدل سکتی ہے اور بلاشبہ وادی شمشال اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔