مسگر ہائیڈل پاور منصوبے کے لئے لایا گیا سامان پچھلے پانچ سالوں سے کھلے آسمان تلے پڑا ہے

مسگر ہائیڈل پاور منصوبے کے لئے لایا گیا سامان پچھلے پانچ سالوں سے کھلے آسمان تلے پڑا ہے

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ(رحیم امان)مسگر ہائیڈل پاور پروجیکٹ فیز ون کے لئے لایا گیا سامان گزشتہ پانچ سالوں سے کُھلے آسمان تلے پڑا ہوا ہے۔ لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے کروڑوں روپے کا سامان موسمی حالات کے باعث خراب ہو رہا ہے اورچوری ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر آٹھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والامسگر ہائیڈل پاور پروجیکٹ 2005 سے اب تک تین حکومتیں تبدیل ہونے کے باوجود نامکمل ہے، جبکہ اس پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ شروع ہونے والے مناپن نگر کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔

  دوسری طرف اس پاور پراجیکٹ کے لئے خریدا گیاسامان کئی سالوں سے علی آباد ہنزہ میں کھلے آسمان تلے پڑا خراب ہو رہا ہے۔ سانحہ عطا آباد کے بعد ٹھیکیداروں اور محکمہ برقیات کے ذمہ داروں نے راستے کی بندش کی بہانہ بنا کر سامان علی آباد میں رکھا تھا۔ ان پانچ سالوں کے درمیان کشتیوں اور رافٹ کے ذریعے چین سے بھاری مشینیں، پلوں اور سرنگوں کی تعمیر کا سامان اور دیگر بھاری آلات مسلسل درآمد ہوتے رہے، لیکن مسگر پاور پراجیکٹ کا سامان اسی طرح علی آباد میں پڑا رہا۔ گزشتہ کئی مہینوں سے پاک چین فرینڈ شپ ٹنلز کے ذریعے گوجال اور مرکزی ہنزہ کا زمینی راستہ بھی بحال ہو چکا ہے، لیکن محکمہ برقیات اور تعمیر عامہ کے افسران اس سامان کی موجودگی سے بے خبر بیٹھے ہوے ہیں۔

 یاد رہے کہ مذکورہ منصوبہ حکومت کی سو دنوں کی ترجیحات میں بھی شامل تھی۔ منصوبے کی تکمیل سے ضلع ہنزہ کی ںصف سے زائد آبادی کو بجلی میسر آسکی ہے۔

وادی ہنزہ اس وقت بجلی کے شدید ترین بحران سے دوچار ہے، لیکن منصوبے کی تکمیل میں مسلسل دیری سے لوگوں کی مشکلات میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔