اے ٹی ایم

اے ٹی ایم

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کل تک ہم نے صرف اے ٹی ایم مشین کا نام سنا تھا اور اس کے ساتھ ہمارا اتنا سا تعلق تھا کہ ہم کارڈ کے زریعے اس سے پیسے نکالتے تھے۔ مگر اب یہ ایک نیا اے ٹی ایم بنا ہے جو کہ گلگت بلتستان کی ٹھکیدار برادری کا اینٹی ٹیکس موومنٹ ہے اور اس کا مخفف اے ٹی ایم بنتا ہے ۔ ٹیکس کا لفظ ہمیشہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو کھٹکتا رہا ہے۔ ماضی میں گلگت بلتستان کی تاجر برادری نے ٹیکس کے خلاف بڑی کامیا ب تحریکیں چلائی ہیں۔ ٹیکس کا ایشو اپوزیشن جماعتوں کا پسندیدہ نعرہ بھی رہا ہے اور وہ بر سر اقتدار جماعت کو پریشان کر نے کے لئے اس کا ا ستعما ل کرتی رہی ہیں۔
یہ بات بلکل درست ہے کہ ٹیکس کے بغیر کسی بھی ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ جتنا ٹیکس کا موثر نظام ہو گا اتنا ہی ملک کا نظام بہتر چلے گا۔ مگر یہ بات اس سے زیادہ اہم ہے کہ ٹیکس کا نفاذ حقوق کی فراہمی سے جڑا ہوا ہے۔ جارج واشنگٹن کی قیادت میں جب امریکہ کی آزادی کی تحریک چلی تھی تو ان کا ایک ہی نعرہ تھا یعنی”No taxation with out representation” یہ نعرہ آج تک مقبول ہے۔ گلگت بلتستان میں جب بھی ٹیکس کا ذکر آیا ہے اس نعرہ کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ یعنی نمائندگی دو اور ٹیکس لو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملکی پاریمنٹ میں ہمیں نمائندگی دو تاکہ ہم فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو سکیں اور ملک پر حکومت کرنے میں ہم بھی حصہ دار بن جائیں۔ وگرنہ ہم دوسرے درجے کے شہری بن کے ٹیکس نہیں دیں گے۔
پرانے زمانے میں بادشاہ رعایا سے زبر دستی خراج (ٹیکس )لیتے تھے اور بدلے میں ان کو حقوق دیں یا نہ دیں وہ ان کی مر ضی ہوتی تھی مگر جمہوریت میں یہ لازم ہے کہ ٹیکس کے بدلے میں عوام کو ان کے تمام بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں ۔ گلگت بلتستان پاکستان کے آئینی دھارے میں شامل نہیں ہے اس لئے یہاں جب بھی ٹیکس کی بات ہوتی ہے وہ حقوق کی فراہمی کی شرط پر ختم ہوجاتی ہے۔
مگر اس کے باوجود گذشتہ پی پی پی کے دور میں صوبائی نما ء سیٹ اپ کے بدلے میں ٹیکس کے نفاذ کا آغاز کر دیا گیا تھا ۔ جس پر با ضابطہ علمدرآمد موجودہ حکومت کرار ہی ہے۔ ابتدائی طور پر تنخواہوں میں سے ٹیکس کا ٹا جارہا تھا اب آہستہ آہستہ دیگر مدوں میں بھی ٹیکس کاٹا جانے لگا ہے۔ دوسری طرف حقوق کا عالم یہ ہے کہ نہ تو پاکستان کے آئین میں گلگت بلتستان کا ذکر ہے، نہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں گلگت بلتستان کی نمائندگی ہے ۔ نہ نیشنل فنانس کمیشن ،کونسل آف کامن انٹرسٹ ، ارسااور اسی طر ح کے دیگر وفاقی و آئینی اداروں میں گلگت بلتستان کی نمائندگی ہے ۔ نہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا دائرہ اختیا ر یہاں تک وسیع ہے ۔نہ تو بجلی پوری ملتی ہے، نہ پینے کا صاف پانی دستیاب ہے، نہ تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات ہیں ، نہ سڑکوں کی حالت بہتر ہے اور نہ ہی سستے ٹرانسپورٹ کی سہولیات میسر ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ سرکاری اداروں کے خون میں کرپشن سرایت کر چکی ہے۔ پیسوں کی حد تک کرپشن کم ہوئی ہوگی مگر کرپشن صرف پیسوں کی مد میں ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ رویے بھی کرپٹ ہو تے ہیں۔جو کہ زیادہ خطر ناک ہوتے ہیں۔ نت نئے آئیڈیاز کی مدد سے عوام کی فلاح وبہبود کو یقینی بنانا تو دور کی بات روٹین کے فرائض منصبی کی ادائیگی میں ہی سرکاری اہلکار کوتا ہی کر رہے ہیں۔ دفتروں سے سے غائب رہنا، سرکاری وسائل کاذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا اور عہدوں و اختیارات کا نا جائز استعمال معمول کی باتیں ہیں۔ ایسے میں ٹیکس دینے کی جب بات آتی ہے تو لوگو ں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ آخر ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ایک حصہ سرکار اٹھا کر لے جائے گی تو اس کا استعمال ہماری بہبود کے لئے ہو گا یا نہیں؟
یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کی وجہ سے عام لوگوں کو ٹیکس کے لفظ سے چڑ ہوگئی ہے۔ وہ سال بھر میں خیراتیں دیتے ہیں، قدرتی آفات کے دوران ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، مذہبی مقاصد کے لئے چندہ دیتے ہیں، شادی بیاہ اور سیر و تفریح میں بھی پیسے اڑاتے ہیں۔ حتی کی منشیات اور دیگر فضولیات میں بھی بڑا پیسہ اڑا یا جاتا ہے مگر ٹیکس کے لفظ سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کے پاس تو قومی دھارے میں شامل نہ ہونے کا جواز بھی ہے مگر ٹیکس کے حوالے سے پاکستان کی عمومی صورتحال مایوس کن ہے ۔ پاکستان دنیا میں بھر میں خیرات دینے والی سب سے بڑی آبادی کا ملک ہے ۔ مگر یہاں لوگ ٹیکس نہیں دیتے ہیں۔ باقی دنیا کے لوگ ٹیکس کو اپنا سب سے اہم فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کی یہاں کے نظام پر لو گوں کو بھروسہ نہیں ہے۔ یہاں حکومت اور اس کے ادارے انصاف اور مساوات قائم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ یہاں نصف صدی سے زائد عر صے میں میرٹ اور قانون کی پاسداری نہیں ہوتی رہی ہے۔ یہاں ہر دور میں حکمران کرپٹ اور بد دیانت ثابت ہوئے ہیں۔ یہاں حقوق کی فراہمی کی بجائے ڈنڈے کی زورپر حکومت کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ یہاں تعلیم سے لوگوں کو دور رکھا گیا ہے اور یہاں حکومتیں اپنے فرائض سے غافل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ نظام سے نالاں ہیں وہ ٹیکس دینے سے کتراتے ہیں۔ وہ پہلے ایک ایسا نظام منانگتے ہیں جو میرٹ اور قانون کی بالا دستی پر مبنی ہو۔ جس پر لوگو ں کو اعتماد ہو کہ ان کے دئیے گئے پیسے ان کی فلاح و بہبود پر خر چ ہو نگے ۔لوگوں کو یقین ہو کہ ٹیکس کے بدلے میں ان کو سارے حقوق اور سہولیات مل رہی ہیں ۔تب ہی وہ ٹیکس دینے کے لئے تیار ہونگے۔
یہ بات وثو ق سے کہی جاسکتی ہے کہ اینٹی ٹیکس موومنٹ گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کی تحریک میں بدل سکتی ہے جس سے حکمرانوں کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو نگی۔ اس موومنٹ نے 14 جنوری 2016 کو گلگت بلتستان سطح پر عام ہڑتال کی کال دی ہے ۔ اس ہڑتال کی کامیابی کے لئے بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی ہے۔ اخبارات میں اشتہارات دینے کے علاوہ پوسٹر اور پمفلیٹس چھپواکر تقسیم کئے گئے ہیں۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ ماضی کی طرح اس دفعہ بھی ہڑتال کامیاب ہوگی ۔ اس کے جواب میں حکومت ٹیکس کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے لوگ سیاسی اتحاد کی طرف جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ماضی میں ایسے اتحاد کو سبوتاژ کرنے کے لئے مختلف طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں ۔ اس دفعہ استور اور بلتستان کو باقی گلگت بلتستان سے الگ کرنے کی افواہ بھی پھیلائی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے بلتستان اور استور کے لوگ باقی گلگت بلتستان سے سخت نالاں نظر آتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اے ٹی ایم کا اتحاد کامیاب ہوتا ہے یا تقسیم کا نیاء فارمولا ؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔