کشمیر کے رہنما اور گلگت بلتستان

کشمیر کے رہنما اور گلگت بلتستان

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر محمد زمان داریلی

 میں اپنے سہولت کار کے ساتھ آسمان کوچھوتی ہوئی بلڈنگ کی 30ویں منزل پہ پہنچا تو میرے سہولت کار نے کمرے کے دروازے پر ایک دھیما دستک دیا، اسی وقت مجھے اندازہ ہوا تھا کہ جس سے ملنے میں چلا آیا ہوں وہ شخصیت میرے اندازوں اور مشاہدات کے بر عکس ہے۔ جب کافی دیر انتظار کے بعد دروازہ کھلا تو کیا دیکھتا ھوں کہ کمرہ سگریٹ کے دُھویں سے بھرا ہوا تھا۔ اسی دھویں کے بادلوں میں چھپا ایک دبلا پتلا چھوٹی چھوٹی داڑھی، ایک انکھ میں تھوڑا بھینگا پن رکھنے والا شخص، جن کے چہرے پر کشمیر کی خوبصورتی اور مسکراہٹ کاشاید کبھی گزر ہوا ہو، بڑی بےرخی سے ایک ہاتھ میری طرف بڑھا دیتا ہے۔

میرے سارے تجزیے اور مشاہدات چکنا چور ہو گیے۔ میں اپنی شکایات کا ان کے تجربات سے تبادلہ کرنا چاہتا تھا، لیکن موصوف میری شکایات سُن کر سیخ پا ہوگیا۔ کہنے لگا تم گلگت بلتستان والوں کو صرف الزامات لگانا آتا ہے۔ قربانیاں آج ہم دے رہے ہیں اور کل مفادات تم لو گے۔

 خیر بات میں سے تم اور تم سے تو ہونے لگی اور بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک آ گئی۔

لڑنے والے دو، چھڑانے والا ایک۔ سہولت کار مشکل سے مجھے کمرے سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے’ کے مصداق میں وہاں سے چلا آیا۔’

اس آدمی میں کشمیر کی نہ کوئی خوبصورتی تھی، نہ روایات، اور نہ ہی گلگت بلتستان کی کشمیر کی خاطر دی گئ قربانیوں کا کوئی احساس۔ اس کی بے رخی کا میں نے اپنے کشمیری دوستوں سے ذکر کیا تواکثریت نے ان کے رویے کی شکایت کی۔ وہ شخص تھے کشمیر لبریشن فراڈ کے موجودہ خود ساختہ چیر مین یاسین ملک، جو گلگت بلتستان کے علاقے استور سے تعلق رکھنے والے آمان اللہ خان کو چیرمینی سے ہٹوا کر خود چئرمین بن گیا ہے، اور آمان اللہ کو براےُ نام رہبر بنا کر معاملے پر مٹی ڈالی دی ہے۔

اسی یاسین ملک نے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھ کر گلگت بلتستان کو حقوق دینے کی مخالفت کی ہے۔

میرے مشاہدے کے مطابق کشمیری عوام گلگت بلتستان کو حقوق دیے جانے کے مخا لف ہرگز نہیں لیکن وہ بیچارے بھی مجبورہیں۔ گلگت بلتستان کو حقوق نہ ملنے کے زمہ دار کشمیری عوام نہیں بلکہ ان کے حکمران اور ہم خود ہیں۔

وہ تو کہتے ہیں تم کو چاہ نہیں، ہم کو پرواہ نہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔