واپڈا نے بونر داس (چلاس) کی ملکیت پانچ ہزار کنال زمین کو صرف سترہ سو کنال لکھا ہے، متاثرین نے دھرنا دے دیا

واپڈا نے بونر داس (چلاس) کی ملکیت پانچ ہزار کنال زمین کو صرف سترہ سو کنال لکھا ہے، متاثرین نے دھرنا دے دیا

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(ڈسٹرکٹ رپورٹر)واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کے ستائے متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم بونر کا بونر داس میں احتجاجی دھرنا ۔ضلعی انتظامیہ فوری ہمارے جائز مسائل کا حل نکالیں ورنہ شاہراہ قراقرم پر طویل دھرنا دینگے۔متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم بونر نے واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف بونرداس میں سینکڑوں افرا ددھرنا دئیے بیٹھے ہیں ۔احتجاجی دھرنے سے اظہار خیال کرتے ہوئے نمبردار عمر خان،لیور خان و دیگر نے کہا کہ بونر کے داس تقریبا پانچ ہزار کنال سے زائد ہے جبکہ واپڈا نے صرف سترہ سو کنال لکھا ہے جبکہ کئی سال قبل عوام بونر نے مشترکہ طور پر واٹر چینل کے انڈر سینکڑوں کنال اراضی کو آباد کیا ہے لیکن واپڈامتاثرین کو صرف ایک لاکھ پچیس ہزار روپے فی کنال ادا کرنا چاہ رہی ہے جو زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ چلاس اور بونر کے حدود میں ایک انچ کا فرق نہیں ہے اور چلاس کے داسسز کا دولاکھ پچاس جبکہ ہمیں صرف ڈیڈھ لاکھ ادا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے متاثرین ڈیم بونر کو یقین دلایا تھا کہ متاثرین کے ساتھ انصاف کیا جائے گا بعدازاں ڈپٹی کمشنر دیامر عثمان احمد خان نے بھی متاثرین کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ڈپٹی کمشنر دیامر نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی انہوں نے بونر کے عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بونر داس کا دوبارہ پیمائش کرے اور زمین کا معاوضہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق دیا جائے انہوں نے کہا کہ اب عوام باشعور ہوچکے ہیں اور کسی صور عوام اپنے حق لئے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں ینگے انہوں نے کہا کہ دو دن کے اندر اندر ہمارے مطالبات کا حل نہیں نکالا گیا تو ہم شاہراہ قراقرم پر طویل دھرنا دینگے جس کی تمام تر زمہ داری حکومت ضلعی انتظامیہ اور واپڈا پر عائد ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔