جدیدیت کہاں لے جاتی ہے

جدیدیت کہاں لے جاتی ہے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اگر تعلیم یک جہتی کی علامت ہونے کی بجائے 4 یا 5 میں تقسیم ہو جائے ۔ اور اس کی چار یا پانچ قسمیں بن جائیں ۔ اگر مذہب جو یک جہتی کی واحد علامت ہے اللہ کی کتاب میں اس کو ’’رسی‘‘سے تشبہہ دی گئی ۔ اللہ کے نبیؐ نے امت کو ایک جسم کہا۔ وہ فرقوں ملکوں اور نظریوں میں بٹ جائے ۔ تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔ لوگوں کے ذہنوں ، دماغوں اور سوچوں میں الگ الگ دنیائیں بسی ہوتی ہیں ۔ ’’میں جانتا ہوں کوئی اور نہیں جانتا‘‘کا نعرہ بلند ہوتا ہے ۔ کوسٹر کی ایک سیٹ پر ایک مسافر دبکے بیٹھا ہے۔ سفر دو گھنٹے کاہے ۔ مسافر کے پہلو میں تین جوان مرد بیٹھے ہیں ۔ ایک کی گود میں لیپ ٹاپ ہے ۔ باقی دو پمپ ٹاپ یعنی بڑی بڑی مو بائل سیٹو ں سے کھیل رہے ہیں ۔ ان کا آپس میں تعارف ہوتا ہے ۔ ان میں سے ایک غیر سرکاری ادارے میں کام کرتا ہے ایک ابھی ابھی ASI بنا تھا ۔ ایک تازہ تازہ وکیل تھا ۔۔۔ان کی گفتگو تعلیم سے شروع ہوتی ہے ۔ سر کاری سکول موضوغ ہوتے ہیں ۔ اساتذہ ہدف تنقید ہوتے ہیں ۔ وہ کھوار + اردو + انگریزی کو ملا کر عجیب زبان میں گفتگو کرتے ہیں ۔ ساری سواری خواتین وحضرات مرغوب و مغلوب ہیں ۔ اساتذہ ’’وہ جاتاہے ‘‘ کو انگریزی میں بنا سکتے ۔ تنخواہ ہزاروں میں ۔انگر یزی نہیں آئی اردو نہیں آئی پڑھاتے کچھ نہیں ۔۔۔پھر صاف قیمتی کپڑے بھی نہیں پہنتے ۔عجیب ہیں ۔۔۔پھر سیاست کی بات چھڑی جاتی ۔۔۔ مذہب کو سیاست سے کیا تعلق ۔۔۔۔پگڑی داڑھی ۔۔۔۔پھر پو لیسینگ (Policing) اور وکالت کی تعریف ہوتی ہے ۔ مغرب کے گن گائے جائے ہیں اپنی سیٹ پہ دبکے مسافر بالکل خاموش ہے۔ اس کو نوجوانوں کی پر کئی اردو ، ٹوٹی پھوٹی انگریزی اور عجیب لہجے کی کھوار سن کر متلی آتی ہے ۔NGO کا جوان کہتاہے ۔ کہ یورپ میں لوگ اپنے کتوں اور جانورں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ۔ یہاں پر انسانوں سے نفرت کی جاتی ہے ۔۔۔مسافر کے دل میں کئی سوال اٹھتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ ۔۔۔۔

اے جواناں رعنا ! ۔۔۔تم بھی اس معاشرے کا حصہ ہو ۔
تم نے اس کو سنوارنے میں اپنا کتناحصہ ڈالا ہے ۔ 

دوسرا سوال : اے جواناں علم ودانش : مغرب میں کتوں سے پیار کیا جاتاہے۔ مگر تم نے کہیں سے پڑھا ہے کہ فخر عالم موجودات ؐ کو پرندوں اور جانوروں سے کتنی محبت تھی ۔تم نے فخر مو جودات ؐ کی حیات پاک کے مطابق کتنا عمل کیا ۔ کب بلی تمہارے دامن میں آکر سوئی اور تونے اس کی نیند خراب کرنے کی بجائے اپنا دامن کا ٹ لیا ۔کب چڑیا کے بچے کو واپس اس کے گھونسلے میں رکھوایا کب اونٹ کے مالک کو نصیحت کی کہ تم لوگ مغرب کا حوالہ دیتے ہیں۔

اے جواناں تعلیم یافتہ ! تو نے جس استاد سے پڑہاہے ۔اس کویقینا’’ ہو جاتاہے ‘‘ کا انگریزی میں ترجمہ نہیںآتا ہوگا ایسا بھی لگتا ہے کہ تم ابھی تک کسی استاد سے ملے نہیں ہو ۔اے جدید یت کے عالمبردارو ! کیا تم دعائے قنوت پڑھ سکتے ہو کیا نماز جنازہ پڑھا سکتے ہو کیا قرآن عظیم لقشان کاترجمہ تہمیںآتاہے اے جوانان خوش لباسان ! تم جن ادارو ں سے پڑھے ہووہاں شاید تمہیںیہ سیکھا یا جاتاہے کہ مغرب اچھا ہے مذہب سانس کا مخالف ہے انگریزی سے بابلد لیکر کافقیر ہے معاشر کے بگاڑ میں اسی کا ہاتھ ہے ۔انگریزی کی موٹی موٹی کتابیں پڑھو کچھ سمجھو کچھ نا سمجھو ان نام نہاد راہ گم کردہ فلا سفروں کے افکار کو سند مانو ۔شکیسپردانتے ،برگسان،اسل میکا ولی کا حوالہ دو ۔استاد پر تنقید کرو ماں باپ کی تضحیک کرو۔بڑوں کی تکریم کواپنی ہتک سمجھو چھوٹوں پر شفقت کو اپنے مرتبے کے خلاف سمجھو ۔انگریزی پر فخر کرومغرب کوایڈیل بناؤ ۔ دھوکے میں ہوکہ تم تعلیم یافتہ ہو۔جدیدیت نے تمہیں عجیب مخمصے میں ڈالا ہے یہ پینٹ شرٹ ۔ یہ ٹائی لاکٹ ، یہ پریشان بال ، یہ نیم عریان لباس جس کو ہم نے خوش لباسی کانام دیا ہے ۔یہ لا ابالیاں ، یہ لاپرواہان یہ احترام کی حدور کا مسمار کرنا نے آزادی تسلیم کیا ہے ۔ اے جوانان زندہ دلان ! یہ ایسا نہیں ہے ۔مغرب میں کم از کم اپنی زبان پر فخرہے ۔اپنی تہذیب کی پاسداری ہے ۔اپنے ملک کی قوانین اور اپنے معاشرے کی فکر ہے ۔مگر ہمارے ہاں یہ نہیں ہیں۔اخر ہماری جدید تعلیم ہمیں کیا سکھیاتی ہے ۔ہم دوچار ک لفظ بے شک سیکھ لیتے ہے ۔مگر مناسب تربیت حاصل نہیں کرتے ۔۔ پھر دبے مسافر سوچتا ہے کہ سب باتیں ان سے کی جاتیں تو کیا ہوتا؟ پھر سوچتا ہے کہ تعلیم کو 5 پرتقسیم کی جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے منزلیں الگ ہوتی ہے سوچیں مختلف ہوتی ہیں۔اپنا بھول کر دوسری کی اندھی تقلید ہوتی ہے پھر مسافر کواقبال یاد آیا ہے اور اس کو موتی جیسے الفاط بھی گلہ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے کسی بت کدے میں بیاں کروں تو صنم بھی کہے بر ی بری مسافر کی منزل آتی ہے تو خالص کھوار میں ڈرائیور سے کہتا ہے ۔۔مہ شرین استاد تن گاڑیو ہیا تھیاوے کی )استاد محترم اپنی گاڑی ذرا یہاں پر روکو تمام جوان آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہے ہیں اور وہ جاتے جاتے ۔۔ ’’ وہ جاتاہے ‘‘ کاانگریزی میں ترجمہ بھی انہیں سنا جاتاہے ۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔