میری گوجال دھرتی

میری گوجال دھرتی

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر زمان داریلی

بڑا دلدوز ہے قصہ میری گوجال دھرتی
جدا کردی میری گوجال کوبے رحم موجوں نے.

اُگاتی ہر طرف سونا میری گوجال دھرتی.
مگر اب روٹھ گئ مجھ سے میری گوجال دھرتی

خدا یا حکم دے اب ان چٹا نوں کو کہ
تھم جائیں چٹانیں راہ لے دریا یہاں کا.

کہاں میں ڈھونڈ پاوُں پانیوں میں گوجال دھرتی
میں آوُں ڈھونڈلوں نظرین میری ہے پانیوں میں.

لٹا دے پھر سے وہ خوشیاں میرے گوجال کو یا رب.
مٹا دے غم لٹا دے پھر سے وہ خوشیاں میرے گوجال کو یارب

میں دوں آواز جب میں کھیلنا چاھوں وہی دھرتی.
پلٹ کر موج دریا دل ہلاتی ہے مٹا دی تیری دھرتی.

 آہ مٹا دی موج دریا تو نے ہی تو میری دھرتی
اُٹھا کر پھینک دوں دریا تجھے میں آسمانوں میں.

سنو اے موج دریا کیوں اُجاڑی میری دھرتی.
بسائینگے تیرے سینے پہ ہم ایک اور بستی.

 سنو اے موج دریا لوٹ جائیں تیری موجیں.
وگرنا موڑلینگے توڑ دینگے تجھے اب میرے بیٹے

نہیں چاہیے نہیں چاہیے ہمیں یہ بھیک اور یہ طفل تسلی.
ہمیں تو اپنی دھرتی اپنی عزت پھر وہی گوجال چاہیے.

۔ ہمیں ہے آرزو پھر سے تمنا ہے زمانے کی
ملے واپس خوشی پھر سے میرے گوجال کو یارب

 دوستو یہ چند لائنیں میں نے عطا آباد جھیل میں ڈوبتی خوبصورت دھرتی کی یاد میں اور اس جھیل سے بے گھر ہونے والے اپنے بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور اظہار یکجہتی کے طور پر لکھی تھیں،۔ یہ چند سطور ہو سکتا ہے شعر وشاعری کے لوازمات پورا نہ کرتیں ھوں مگر یہ میری دل کی آواز تھی۔

میں عطاآباد جھیل بننے کے بعد گوجال جا چُکا ھوں۔ وہ سرسبز وشاداب کھیت کھلیان گھر بار خوبصورت باغات گہرے پانیوں میں ڈوب کر ماضی کے قصے بن چکے ہیں۔ نہیں معلوم اس خوبصورت وادی کے وہ مکین میرے بہن بھائی اب کس حال میں ہونگے۔ میری دعا ہے کہ اللہ ان کی اپنی قدرت سے مدد کرے آمین.

ان بے گھر افراد کے حق میں احتجاج کرنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور اس احتجاج پر گولیاں چلا کر دو افراد باپ بیٹے کو شہید کرنے والے سرکاری اہلکداروں کو اگلے عہدوں پر ترقی دے کر نوازا گیا .

اسی طرح سرکاری املاک گلگت دیامر اور استور میں بھی جلائے گیے تھے پر ان کو اتنی سخت سزائیں نہیں دی گئیں۔ صرف عطا آباد کے حق میں احتجاج کرنے والوں کو اتنی سخت سزائیں دینا میری سمجھ سے بالا تر ہے.

میں یہ چند اشعار جو میں نے 2014 میں لکھے تھے، آج دوبارہ عطاآباد کے متاثرین اور کامریڈبابا جان اور ان کے ساتھیوں کی نذرکرتا ھوں.اللہّ ہم سب کا حامی وناصر ھو۔ آمین

(چلو گے تو کٹ جائےگا سفر آہستہ آہستہ)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔