اصلاح یا مصلحت

اصلاح یا مصلحت

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: محمدجان رحمت جان

ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے اہم مورخوں میں سے ایک ہے وہ اپنی کتاب’یورپ کے عروج‘ میں لکھتا ہے کہ’’ہر معاشرہ تبدیلی میں سے گزرتا ہے۔ اس لئے مذہب کے لئے یہ تبدیلی ہمیشہ چیلنج لے کر آتی ہے کہ وہ خود کو تبدیل کریں یا تبدیلی کے عمل کو قبول کرے۔ اس مرحلہ پر مذہب کے کئی رد عمل ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مذہب سے دوری اختیار کی جائے اور یہ سمجھ لی جائے اس دنیا میں برائیاں اور خرابیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ ان کی اصلاح ناممکن ہوگئی ہے۔اس لئے فرد کو نجات کے لئے دنیا سے دور رہ کر اپنے مذہب اور عقیدہ کو بچانا چاہئے۔ اس نقطہ نظر کا مظہر رہبانیت اور ترک دنیا میں ہوتا ہے۔ عیسائیت میں یہ رجحان خانقاہوں کی شکل میں تشکیل ہواکہ جب راہب شہروں کو چھوڑکر آبادیوں سے دور پہاڑوں‘ صحراؤں‘ اور جنگلوں میں چلے گئے تاکہ وہاں کے ماحول میں سادہ اور پاکیزہ زندگی بسر کر سکیں۔ ان کے نزدیک شہروں میں لوگ اسی طرح سے مقابلہ اور جنگ وجدل میں مصروف تھے جیسے کہ بھیڑیے اور گدھ ہوں۔ تاجرلوگوں کو دھوکہ دے کر منافع کمانے میں مصروف تھے تو امراء عیاشیوں میں مبتلا گناہوں میں جھگڑے ہوئے تھے۔ اس صورت حال میں راہبانیت واحد راستہ تھا جو شہری زندگی کی نام نہاد نمود نمائش اور لالچ سے دور لے جاکر گناہوں اور دنیاوی آلودگی سے راہبوں کو پاک رکھے گا۔ دوسرا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ فرار کی راہ اختیار کرنے کی بجائے مذہب اور معاشرہ کی اصلاح کی جائے تاکہ اس کی برائیاں دور ہوسکیں اور دنیا میں حق وسچائی کی حکومت ہو‘‘(یورپ کا عروج ازڈاکٹر مبارک علی‘ ۲۰۰۵ء)۔

اس اقتباس سے کئی ایک سوالات ابھرتے ہیں کہ صدیوں سے معاشرہ قائم ہے اور اس کے وجود سے تاحال سینکڑوں تبدیلیاں وقوع پزیر ہوچکی ہیں۔ معاشرے کا جوہر وہی ہے جو کبھی تھا یعنی انسان کی عادات واطوار ‘رہن سہن‘ زبان‘ ثقافت اور مذہب سے وابستگی۔ یہ وہی چیزیں ہیں جن کی مادی شکل میں تبدیلیاں آتی رہتی ہے لیکن ان کے جوہر کی ساکھ وہی قائم ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر تبدیلی کا خوف لوگوں کے ذہن میں چھایا کیوں ہے؟ یہ دو طریقے کم وبیش ہر مذہب اور قوم کے پیروکاروں میں موجود ہیں۔ اس لئے ہمارے ہاں بھی کہیں ایک مصلح ومجتہدین ہوگزرے ہیں۔ جنہوں نے مذہب اور معاشرے کو بڑی حد تک ہمعصر قائم کرنے کی سعی کی ہے۔ مذہب کے پیچیدہ معاملے سے ہٹ کر جب خالص معاشرے کی بات آتی ہے تو معاشرہ بھی نظریات وعقائد سے بہت متاثر ہوتا رہا ہے۔ معاشرے کی ایک اور بڑی ستون ریاست اور اس سے وابستگی ہے۔ بادشاہت‘ سلطانیت‘ جاگیرداری اورقومی حکومتوں کے قیام نے معاشرے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر تبدیلی کی وجوہات کی گنجائش رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت محدود بھی کر رکھا ہے۔ اس باریک نکتے کی موجودگی میں چند لوگ کسی ایک رگ کو پکڑ کر معاشرے کو بدلنے میں کوشاں رہتے ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہونے کے لئے ہر حربہ اپناتے ہیں۔ مثال کے طورپر مذہبی لوگ مذہب سے اپنی گہری وابستگی دیکھاکر اپنے مثبت اور نفی عزائم پورا کرنے کی سعی میں رہتے ہیں۔ اس طرح کہیں دانشمند جغرافیہ‘ ملک‘ قوم‘ زبان‘ رنگ و نسل کی بنیاد پر لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش میں معاشرے کو قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔تاریخ میں مارٹن لوتھر‘ کیلون‘ سونگی‘ ٹامس منزر اور دیگر لوگوں نے بائبل‘ مذہب‘ اخلاق‘ نیکی‘ اقدار اور چرچ کے نام سے اصلاح کی کوشش کی اور بعد میں خود بھی طاقت کی نظر ہوگئے۔ کسی نے کسانوں کو کچل دیا کسی نے نئی ریاست بنا ڈالی اور کسی نے معاشرے کی نئی تشکیل کی۔ مذہبی انتہا پسندی سے بغاوت بھی کی اور پھر اپنے مذہبی جنون کا مظاہرہ بھی کیا۔ سخت مذہبی اور اخلاقی قوانین بھی بنائیں اور خود ہی ان کو تھوڑ ڈالا۔ ہر ایک نے خوب جستجو کی لیکن وقت نے کچھ اور ہی کیاجس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ مذہبی ٹیکس‘ خیرات اور نذرانوں کی مخالفت بھی کی گئی اور ان ہی سے اپنے نظریے کو دوام بھی بخشاگیا۔ لوتھر نے اپنی مذہبی اصلاح ہی سے قومی ریاستوں کی راہ ہموار کی۔ کیلون نے سرمایہ داروں کو پنپنے میں مدد کی۔ان ہی لوگوں نے عورتوں کو بھی نشانہ بنایا اور ان کو کچلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ہر برائی کی جڑ عورت کو قرار دیا محض اس لئے کہ وہ ماضی کی کہانیاں اور ثقافت اپنی نئی نسل میں منتقل کردیتی تھیں۔ مذہبی اور روایتی اتھاریٹی کو چلنج کرنے کی رواج نے ہرقسم کی طاقت کی اصلاح میں مدد دی۔ ان اصلاحی تحریکوں کے نتیجے میں تشدد‘ سختی‘ جبر‘ سنسر شب‘ قتل وغارت اور جاسوسی جیسے روایات نے جنم لیا۔ شک وشبہ میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ اپنے اور غیر کی شناخت کے پیمانے مقرر ہوئے۔بحرحال ان فارمولوں میں سے ایک نہ ایک کی تکمیل سے نئی معاشرے کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور وہ بھرپور طریقے سے معاشرتی تبدیلی کا سامان نکال لیتا ہے۔ مثال کے طور پر گلگت بلتستان کی تاریخ میں آذادی سے قبل تمام طریقے زبان‘ رنگ‘ نسل‘ علاقائی شناخت کے ذریعے ممکن ہوئی تھی۔ راجاؤں اور مہتروں اور میرو نے لوگوں کو انہی تصورات پر پرویا تھا اور صدیوں تک لوگوں کی شناخت ہی یہی چیزیں قائم رہی۔ مذہب کے نام پر حکومتوں کے قیام کے ساتھ دنیا میں لوگوں کو ایک جگہ متحد رکھنے کا پھر ایک سلسلہ چلا اور بہت ساری جگہوں پر کامیابی سے ہمکنار بھی ہوا۔ اس کامیابی کے ثمرات ابھی ان کے عوام تک پہنچنے والے تھے کہ مذہبی فرقوں کی شناخت نے سر اٹھایا اور ان تصورات کی جنم سے دینی وحدت کو ثبوتاژکرنے کی مہم جاری ہے۔ گروہ بندی اور مسلک پسندی کے رجحان نے پچھلے قائم دینی وحدت کے تصور کو کمروز کرنا شروع کردیا ہے۔ ان نظریات کی تکمیل میں جاری جستجو کسی دن دنیا کے کہیں حصوں میں معاشرے کی نئی جغرافیائی تشکیل دے سکتی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کے چناؤ کی ضد متاثر ہوگی۔ یہ ’’ضد‘‘ بڑی قوموں کو مداخلت کا مواقع فراہم کریگی اور پھر ان کے سہاراے سے قائم ہونے والے معاشرے اندونی طور پر انہی کے غلام بن کر ابھریں گے۔سامراجی قوت سے نجات کے نام سے چلنے والے تحریکیں خود بھی کسی نہ کسی سامراجی طاقت کے سہارے سے ہی پنپتی رہی ہیں۔ کامیابی کے بعد ’’وہ‘‘ انہیں کے آئین پر عمل پیرا ہوتے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آزادی کی تحریکیں کسی نہ کسی قوت کے سہارے ابھرتی ہیں اور ہر دور میں زیر بحث چیزیں طاقت ور بنتی رہی ہیں۔ مثلاََ زبان کے نام پر دنیا میں کہیں حکومتیں وجود میں آئی تو کہیں نسل کی نبیاد پر‘ یہاں تک کی رنگ کی بنیاد پر افریقہ ودیگر علاقوں میں انسانوں کا قتل عام کیا گیا۔ یہ سب پیمانے کسی بھی متحدہ وحدت کو کسی بھی وقت نقصان یا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

آج کل گلگت بلتستان بھی ان ہی میں سے چند ایک نظریات اور قوتوں کی شدید ذد میں ہے۔ ہر قوت کے لوگ انپی بساط کے مطابق بھرپور کوشش میں ہے۔ عوام الناس کے لئے اپنی حق کا چناء مشکل نظر آہا ہے کہ کس گروہ کی پیروی کی جائے۔ دین و مسلک‘ تاریخی جغرافیہ‘قوم یا معیشت! دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ مصلحتوں میں جائے بغیر کسی ایک نظرے کی وحدت میں ہمارے معاشرے کی بقا ہوگی۔ بصورت دیگر معاشرے کے یہ ستون کمزور ہونے کی صورت میں ہماری قائم شناخت بھی نقصان میں رہے گی۔ نئی شناخت کی تشکیل میں صدیاں لگ جائیں گی اورقوم کی نئی نسل کے لئے شناخت کی چناؤ مشکل ہوجائے گی۔اس سماجی وسیاسی کھیل میں امراء اور کاروباری لوگ ہوا کے رخ پر چلنے کی تاریخ دہرائیں گے کیونکہ تاریخ میں یہ دو طاقتیں کبھی بھی اپنے مفاد کو نقصان نہیں پہنچاچکے ہیں۔ رہے عوام الناس۔۔۔ راہ فرار یا معاشرے کی بقا کی تشکیل میں کس کے ساتھ دیتے ہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔ ابن الوقت لوگ ہی اپنے مفاد میں کامیاب ہونگے۔ اس لئے کہ سیاسی و معاشی وابستگی والے لوگ عوام الناس کو اپنے جادو سے کسی ایک رخ پر ڈال کر خود مراعات کے مزے لے رہے ہونگے۔ ماضی میں انہی لوگوں نے اپنی مفاد کو ہر موقع پر قائم رکھا ہے چاہے وہ کتنی ہی بڑی انقلاب کیوں نہ ہو۔ہمارا معاشرہ بھی اسی صورت حال سے دوچار ہے’’ ہم خیال‘‘ کالونیاں اور الگ الگ ’’تعلیمی ادارے ‘‘ ہماری صفوں کو سدھارنے کی بجائے دوریاں پیدا کردیں گے جو صدیوں بعد بھی وحدت کی راہ میں رکاوٹ بن کر ابھریں گے۔ ان تصورات کو سمجھنے کے لئے ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب’یورپ کا عروج‘ کا مطالعہ تمام سیاسی و سماجی اور مذہبی لیڈران کے لئے مفید ہوسکتا ہے۔

خلاصتاََ مذہب کی طرح معاشرے کی اصلاح کا تقاضا یہ کہ سب ملکرایک مستقبل کے حصول میں متحد ہونا چاہئے تاکہ ہماری کمرزوی سے کوئی بڑی قوم فائدہ اٹھا نہ سکیں۔ اس مشکل گھڑی میں چھوٹی چھوٹی مقاصد کو ترک کر دینا چاہئے تاکہ اس اصلاح کی کوشش میں ہمارا شیرازہ بکھر نہ جائے۔ اس بحث کا بین السطور پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی ’’ضدوں‘‘ پر قائم رہے یا راہ فرار اختیار کی تو آنے والی نسل کو خسارا ہوگا کیونکہ ہم ہی نے اس قوم کو متحد رکھنا ہے اور ہم انہی میں سے ہیں۔ قرون وسطیٰ کے نئی نئی شناختوں کی وابستگیاں ہمارے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہیں !! اس لئے تکثیریت اور گوناگونی کو حقیقت سمجھ کر’ لکم دینکم ولی الدین‘ ہی سے وحدت قائم ہوسکتی ہے۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج دریا میں ہے بیرون دریا کچھ نہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔