خوشامد کا فن 

خوشامد کا فن 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خوشامد بھی فیشن ڈیزائننگ ، کو کنگ اور دیگر فنوں کی طرح با قاعدہ فن ہے ۔اگرچہ اس فن کی کو ئی با قاعدہ تر بیت گاہ نہیں ، با قاعدہ نصاب نہیں تا ہم یہ فن سینہ بہ سینہ منتقل ہو کر قدیم زمانے کے شاعروں اور مسخروں سے آج کل کے پیشہ ور خوشا مدیوں تک پہنچا ہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں اس فن کی آبیاری اور پذیرائی ہو رہی ہے اور یہ فن پھل پھول رہا ہے ۔گزشتہ روز ایک خبرنے ہمیں چونکا دیا اور ایسا چو نکا دیا کہ مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا زمانہ یادآ یا ۔فلم مغل اعظم میں بیربل اور ملانصیر الدین کے مکا لمے یاد آئے ۔خبر میں بتایا گیا ہے کہ مشہور ترین خواتین کا سروے ہوا۔ سروے میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو 83 فیصد نمبروں سے اول نمبر قرار دیا گیا ۔دیگر 34 مشہور خواتین میں ریحام خان ، ایان علی ، میرا ، مشی خان وغیرہ شامل تھیں ۔سروے کے نتا ئج کے مطابق ما ڈل گرل ایان علی کو دوسرے نمبر پر لا یا گیا ہے جس کو 79 فیصد پوائنٹس ملے۔جبکہ ریحام خان کا تیسرا نمبر ہے۔جنہوں نے بمشکل 71 فیصد نمبر حاصل کئے۔میرا، مشی خان اور دیگر کو 20 فیصدسے بھی کم نمبر ملے۔ شکرہے وینا ملک نے شادی کے بعد با پردہ خاتون کی حیثیت اختیار کر کے خود کو اس سے باہر کیا ۔ورنہ وہ بھی اس مقابلے میں مار کھاجاتی اور 13 یا 14 فیصد نمبر لیکر ایان علی سے بہت پیچھے بلکہ کو سوں دور رہ جاتی ۔قدیم بادشاہ ہوں کے دربار میں خوشامدی رنگا رنگ باتیں کیا کرتے تھے ۔

ایک شاعر نے بادشاہ کی تعریف کر کے کہا تھا کہ عالیجا ہ کے گھوڑے کی سُم نے زمین پر اپنا نشان چھوڑا تو اسکی نقل کرتے ہوئے چودھویں کے چاند کو نعل کی طرح باریک بننے میں 14 دن کا عرصہ لگا ۔ایک اور شاعر نے الپ ارسلان کی تعریف میں خوشامدی قصیدہ کہتے ہو ئے یوں بیان کیا کہ بادشاہ سلامت کا مقام کتنا بلند ہے عقل کو اس کا اندازہ نہیں کیو نکہ 9 آسمانوں کے اوپر جا کر سیڑھی لگاتی ہے ۔سیڑھی پر چڑھ کر ہاتھ اوپر اُٹھاتی ہے ۔ توعقل کے ہاتھ الپ ارسلان کے رکاب (پاؤں)کو چھوتے ہیں ۔بادشاہ کا بیٹا پیدا ہوا تو خوشامدی نے شعر کہا جس کا مفہوم یہ ہے کہ شہزادے کی پیدائش کی خوشی میں آندھی رقص کر تی ہے اور درختوں کے پتے تالی بجاتے ہیں ۔بادشاہ کی بیوی مرگئی تو خوشامدی شاعر نے دوسرا شعر کہا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ملکہ کی جدائی کے غم میں آندھی سرپیٹتی ہے اور درختوں کے پتے ہاتھ مل مل کر افسوس کرتے ہیں ۔ہمارے دور میں شاعروں کا کام خبر نگاروں نے سنبھال لیا ہے ۔سروے کرنے والے این جی اوز نے اس میں حصہ ڈال دیا ہے ۔چناچہ فن کے ما ہرین نے نئے نئے انداز میں گل کھلانا شروع کر دئے ہیں ۔سروے میں شیری رحمان ، فریال تالپور ،مہر تاج روغانی ، حنا ربانی کھر، بشریٰ رحمن، بختاور بھٹو زرداری ، ماروی میمن اور بلقیس ایدھی کو بھی شامل کیا جا سکتا تھا ۔اس میں نقص یہ تھا کہ وزیر اعظم کی صاحبزادی کو اول نمبر آنے میں مشکلات پیش آسکتی تھیں ۔اگر عبدالستار ایدھی وزیراعظم ہوتے تو پہلا نمبر یقیناًبلقیس ایدھی کو ملتا ۔83 فیصد پو ائنٹس اُس کی حصے میں آتے ۔اگر زرداری صدر ہوتے تو پہلا نمبر اس کی بہن فریال تالپور یا اس کی بیٹی بختاور زرداری کا ہوتا ۔اب یہ وقت و قت کی بات ہے ۔خوش قسمتی سے مشہور خواتین کا سروے اُس قت ہوا جب میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم ہیں ۔چنانچہ ظاہر ہے پہلا نمبر مریم نواز ہی کو ملنا چاہیے تھا ۔البتہ دونمبر میں دونمبری ہوئی ۔ماڈل گرل ایان علی کا موازنہ کس حساب سے مریم نواز کے ساتھ کیا گیا ۔دونوں میں شہرت کا کیسا مقابلہ ہوا؟کس شعبے میں مریم نواز نے ایان علی کو مات دیدی یہ باتیں قابل غورہیں ۔

ہمارے حساب سے سروے میں ریحام خان کے ساتھ با قاعدہ اور باضابطہ زیادتی ہو ئی ہے۔ سروے اُس وقت کیوں نہیں ہوا ۔جب ریحام خان بنی گالہ کی ملکہ ہوا کرتی تھیں ۔فن خوشامد کے ما ہرین پر مشتمل کمیٹی نے ریحام خان کو خیبر پختونخوا میں سٹریٹ چلڈرن کی فلاح وبہبود کے لئے صوبائی حکومت کی طرف سے سفیر کا درجہ دیا تھا ۔اخبارات میں ’’ملکہ عالیہ ‘‘کے نام کا ڈنکا بجتا تھا ۔اُس وقت سروے ہوتا تو ریحام خان کے پوائنٹس مریم نواز کے نمبروں سے یقیناًزیادہ ہو تے ۔مگر سروے کرنے والوں نے ڈنڈی ماری ۔ دراصل خوشامد کے ما ہرین شخصیت کو نہیں دیکھتے ہیں ۔ اسکی جیب یا پوٹلی کو دیکھتے ہیں۔ بنی گالہ سے ایک دمڑی یا آنہ پائی ملنے کی امید نہیں تھی ۔ رائے ونڈ فارم جاتی عمرہ میں خوشامد کرنے والوں کو سونے چاندی کے ساتھ تولا جا تا ہے ۔خوشامد کرنے والے کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ۔اُس کا بینک اکاؤنٹ بھی بھر جاتا ہے ۔

جب اے ٹی ایم نہیں آیا تھا ۔اُس وقت ڈاکٹر محمد یو نس بٹ نے میاں محمد نواز شریف کا خاکہ لکھا تھا ۔اُس میں ذکر ہے کہ میاں صاحب کو کتابوں سے محبت ہے ۔چیک بک ان کی پسندیدہ کتاب ہے ۔یہی وہ کتاب ہے جو خوشامد کے فن کو پھلنے پھو لنے کا مو قع دیتی ہے ۔ملک بھر سے مریم نواز کو مبارک سلامت کے پیغامات آرہے ہیں۔ مبارک باد دینے والوں نے شاید اس پر غور نہیں کیا کہ ماڈل گرل ایان علی کو دوسرے نمبر پر لاکر مریم نواز کی عزت افزائی کی گئی ہے یا اُن کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا ہے ۔خوشامد میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ۔فارسی میں مقولہ ہے : ’’پیران نمی پرند، مریدان می پرانند‘‘

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔