گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں آئینی صوبہ قرار دیا جائے، مختلف شہروں میں پریس کلبزکے باہر مظاہرین کا مطالبہ

گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں آئینی صوبہ قرار دیا جائے، مختلف شہروں میں پریس کلبزکے باہر مظاہرین کا مطالبہ

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آبا(پ ر) گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے مشترکہ نمائندہ پلیٹ فارم ’’یوتھ آف گلگت بلتستان‘‘ کی جانب سے نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے سرزمین بے آئین گلگت بلتستان کے محروم و محکوم اور محب وطن عوام کے بنیادی انسانی، معاشی، تعلیمی ، معاشرتی اور آئینی حقوق ، پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے میں اہم اسٹیک ہولڈر کے طور پر برابر نمائندگی اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی متفقہ قرارداد پر عمل درآمد کراتے ہوئے فوری طور پر گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں آئینی صوبہ قرار دینے کے مطالبات کیساتھ گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے اہم شہروں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور لاہور میں بھر پور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ مظاہروں میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد کے علاوہ مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی تنظیموں اور سول سوسائیٹی کے نمائندوں نے بھی بھر پور شرکت کی اور ’’یوتھ آف گلگت بلتستان ‘‘ کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

12496183_1042613039115251_2698412583658422901_o

اسلام آباد میں ’’یوتھ آف گلگت بلتستان ‘‘ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ اتوار کی سہ پہر نیشنل پریس کلب کے باہر منعقد کیا گیا۔ جبکہ اسی طرح لاہور، گلگت اور اسکردو میں بھی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’حقوق دو ٹیکس لو‘‘ ’’ ترقی کا بس ایک ہی منصوبہ، پانچواں صوبہ‘‘ ’’ گلگت بلتستان کو اقتصادی راہداری منصوبے میں مکمل نمائندگی دی جائے‘‘ کے نعرے درج تھے۔

احتجاجی مظاہروں سے یوتھ آف گلگت بلتستان کے راہنماوں اور مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور سول سوسائیٹی کی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور ریاست پاکستان سے فی الفور گلگت بلتستان کے عوام کی طویل محرومیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے آئین پاکستان میں ترمیم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں آئینی صوبہ قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے وفاقی حکومت کی جانب سے اقتصادی راہداری منصوبے میں دیگر صوبوں کی طرح اہم اسٹیک ہولڈر گلگت بلتستان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو بھی ان منصوبے میں بھر پور اور متناسب نمائندگی دی جائے تاکہ خطے کے محکوم عوام بھی اسکے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مقررین نے گلگت بلتستان کی قومی اسمبلی، سینیٹ اور این ایف سی میں تاحال نمائندہ نہ ہونے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے بلاجواز ٹیکسز نافذ کرنے کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے مکمل آئینی صوبے تک فوری طور پر گلگت بلتستان میں غیر آئینی ٹیکس کو کالعدم قرار دے۔

اس موقع پر یوتھ آف گلگت بلتستان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ہم اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل تمام مطالبات کے حل کیلئے اپنی تحریک جاری رکھیں گے اور آج کے یہ احتجاجی مظاہرے اس تحریک کی پہلی کڑی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔