تعلیمی خود انحصاری۔۔۔۔۔وقت کی ضرورت

تعلیمی خود انحصاری۔۔۔۔۔وقت کی ضرورت

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر اے ۔زیڈ شگری

ضلع شگر ترقی کے میدان میں ہر لحاظ سے بلتستان کے دیگر تمام اضلاع اور علاقوں سے بہت پیچھے ہے۔ جس کی بنیادی وجہ عوامی نمائندوں کی عدم توجہی کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی گنجان آبادی اور وسیع تر جغرافیائی رقبہ بھی مانا جاتا ہے کہ محدود بجٹ میں اتنی بڑی آبادی کو جو کافی وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہو، مناسب سہولیات سے آراستہ کرنا بہرحال ایک مشکل کام ضرور ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی شگر کا نمبر بلتستان میں سب سے آخر میں آتا ہے۔ ضلع کھرمنگ کی ۴۵ ہزار کی آبادی میں اسکولوں کی تعداد ۸۰ ہزار کی آبادی والے ضلع شگر کے اسکولوں کی کل تعداد کا تقریباً دو گنا ہے۔ ہائی اور مڈل اسکولوں کے تعداد میں تناسب اس سے بھی برا ہے۔ جس سے ہم کہ سکتے ہیں کہ وادی شگر میں تعلیمی شعبے میں کام نہایت محدود پیمانے پر ہوا ہے۔ اگر اساتذہ کی تعداد کے حوالے سے بات کریں تو بھی شگر اس تناسب میں بھی بہت پیچھے ہے۔ تعلیم میں اگر معیار کی بات کریں تو بھی کچھ حوصلہ افزا بات دیکھنے کو نہیں ملتی۔بورڈ آف ایلیمنٹری ایجوکیشن بلتستان کے زیر اہتمام منعقدہ 2105 کے سالانہ امتحانات میں جماعت پنجم اور ہشتم دونوں کے Top Ten میں شگر سے تعلق رکھنے والے صرف ایک ایک بچے کو جگہ ملی ہے۔ اس سے ہم شگر کی تعلیمی معیار کا بھی اندازہ کر سکتے ہیں۔

اگر ہم شگر کی تعلیمی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کریں تو مندرجہ ذیل مسائل سرِ فہرست نظر آ تے ہیں۔

1۔ اسکولوں کی کمی 2۔ اساتذہ کی کمی 3۔ انفراسٹرکچر کی کمی 4۔ غیر معیاری تعلیم 5۔ اساتذہ میں پیشہ ورانہ مہارت کا فقدان 6۔ سکول اور کمیونٹی میں عدم تعاون

7۔ بچوں اور اساتذہ کی کم شرح حاضری 8۔ اساتذہ کی دوران ملازمت تربیت یا ریفریشر کورسزکی کمی 9۔ ابتدائی کلاسز پر توجہ نہ دینا 10۔ اساتذہ کو تربیت کے مساوی مواقع کا نہ ملنا

ہم ان مسائل کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، دو بنیادی قسم کے مسائل ہمیں درپیش ہیں۔ ایک وہ جن کے حل کرنے کی ذمہ داری عوامی نمائندوں پر ہے اور دوسری قسم کے مسائل کا تعلق مینیجمنٹ اور کمیونٹی سے ہے۔

پہلی قسم: وہ حصہ جن کا تعلق عوامی نمائندوں سے ہے جس میں اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی کمی، انفراسٹرکچر کی کمی وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان مسائل کا حل براہ راست عوامی نمائندوں کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ علاقے میں جہاں جہاں ضرورت ہو، اسکول قائم کیا جائے۔ اسکولوں کے پی سی فور کی منظوری کے لیے تگ و دو کیا جائے اور اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جائے۔ یہاں ایک مسئلہ قانون کا بھی آتا ہے کہ GBکے اندر دیہی علاقوں میں پرائمری سکول کے لیے صرف دو اساتذہ کی گنجائش موجود ہے۔ ایک طرف تو کتابوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب اردو کی بجائے انگریزی زبان میں تدریس کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف پرائمری سکول میں سات کلاسوں کے کل 37مضامین کی تدریس کی ذمہ داری صرف دو اساتذہ پر ڈال دی جائے۔ بھلا دو اساتذہ 37کتابوں کی تدریس کیسے کر سکتے ہیں۔ لہٰذا عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ اس پوائنٹ کو اسمبلی میں اٹھائیں اور ایک پرائمری اسکول کے لیے اساتذہ کی کم از کم تعداد کو 2سے بڑھا کر 7کیا جائے یا کم از کم پانچ اساتذہ ایک پرائمری سکول میں ہوں اور مضامین کی کل تعداد کو 37سے کم کر کے 27کیا جائے یا کورس کی غیر ضروری پھیلاؤ کو کم کیا جائے اور صرف ضروری مضامین کو پڑھایا جائے جن پر بچوں کی تعلیمی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ انفراسٹرکچر ضروریات کو پوری کرنا بھی عوامی نمائندوں کی ذمہمہ داری ہے کیونکہ علاقے کا فنڈ انہی کے پاس آتا ہے۔ ہمارے ہاں عموماً ایک پرائمری سکول میں دو کلاس روم ہوتے ہیں اور نرسری تا پنجم کل سات کلاسیں ہوتی ہیں۔ بھلا دو کلاس روم میں سات کلاسز کو کیسے بٹھایا جائے۔ کیا ایسے ماحول میں بچے کچھ سیکھ بھی سکتے ہیں۔ کوئی جینئیس بچہ ہی ہوگا جو ان سکولوں میں بھی سیکھ پائے لیکن پرائمری سکول سے فارغ ہوتے ہوتے اس بچے کی صلاحیتوں کو زنگ لگ چکی ہوگی اور آگے جا کر وہ زیادہ قابل ذکر کارنامہ انجام دینے کے قابل نہ رہے گا، جس کے لیے قدرت اس کونے تخلیق کیا تھا۔لہٰذا ایک پرائمری سکول میں کم از کم ہر کلاس کے لیے انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق ایک کلاس روم موجود اور اور ابتدائی کلاسز کے لیے حال نما نیم مربع شکل کے کمرے ہوں ۔ یعنی 14×22کے پانچ کلاس روم اور کم از کم 18×24کے دو کلاس روم ابتدائی کلاسز کے لیے۔ ان کے علاوہ ایڈمن بلاک اگر نہیں تو کم از کم ایک کشادہ آفس یا سٹاف روم ضرور ہو جہاں اساتذہ مل بیٹھ کر اپنے تعلیمی مسائل آپس میں شئیر کرکے ایک دوسرے سے مستفیذ ہو سکیں۔

اسی ہزار کی آبادی والے علاقے میں یاس قسم کے مسائل کم و بیش ہر جگہ موجود ہے۔ لڑکیوں کے اسکولوں کی تعداد نہایت محدود ہے۔ ایکگر عوامی نمائندہ چاہے بھی تو ان تمام مسائل کو اگلے بیس سالوں میں بھی حل نہیں کر سکتے بے شک وہ اپنے 100فیصد بجٹ کو تعلیم پر ہی کیوں نہ لگا دیں کیانکہ ان کو ضلع کی سالانہ بجٹ کی مد میں امریکہ اور برطانیہ کے کسی ہائی سکول کے سالانہ بجٹ سے بھی کم رقم ملتی ہے۔ مگر ہم نے عوامی نمائندوں سے بہت زیادہ توقعات لگا رکھے ہیں کہ اگر وہ کچھ کرتے ہیں تو ٹھیک ورنہ ہم ذمہ دار نہیں، ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم واقعاً کچھ نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے؟؟؟؟؟ یہ سوال میں قارئین کے سامنے رکھتا ہوں۔ یہی سوال اپنے آپ سے بار بار کریں اور ایمانداری کے ساتھ جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

دوسری قسم کے مسائل وہ ہیں جن کا تعلق محکمہ تعلیم/ مینیجمنٹ اور کمیونٹی سے ہے۔ لیکن زیادہ کردار بہر حال محکمہ تعلیم کا ہے۔ یہاں محکمہ تعلیم سے مراد صرف افسران نہیں ہیں، بلکہ اساتذہ اور ماتحت عملہ بھی اس میں شامل ہیں۔ اس قسم کے مسائل میں اوپر دیے گئے مسائل 4تا 10شامل ہیں اور تمام مسائل ایک دوسرے سے اس قدر مربوط ہیں کہ ہر حصے کو الگ سے درست کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی تمام مسائل بہ یک وقت حل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن بتدریج حل کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً محکمہ کے وسائل محدود ہیں اور مسائل بے تحاشا۔ محکمہ تعلیم تنہا ان مسائل سے نہیں نمٹ سکتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے اور ضلع شگر میں نظام تعلیم کی بہتری کے لیے کمیونٹی کو مؤثر انداز میں استعمال میں لایا جائے اور کمیونٹی کے کردا رکو بڑھایا جائے۔ کمیونٹی میں والدین کے علاوہ سرکردگان، سول سوسائیٹی، Social Activists ، علماء ، ملازمین اور کاروباری شخصیات سب شامل ہیں۔ اگر کمیونٹی کو بہتر انداز میں استعمال میں لایا گیا اور کمیونٹی سے مل کر نظام تعلیم میں بہتری کی کوشش کی گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم شگر میں تعلیمی انقلاب نہ لا سکیں اور اوپر نشاندہی کیے گئے تما م مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اب تک ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں کمیونٹی کا کردار نہ ہونے کہ برابر ہے۔ کمیونٹی کو فیصلوں میں عا م طور پر شامل نہیں کیا جاتا اور تعلیمی مسائل کے حوالے سے کمیونٹی کی رائے نہیں لی جاتی۔تعلیمی اداروں کو محکمہ تعلیم کی ملکیت سمجھا جاتا ہے اور بعض اوقات محکمہ تعلیم کے بعض افسران اور اساتذہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اسکولوں کا تعلق براہِ راست عوام کے ساتھ ہیں اور اسکولوں کو محکمہ کے ملازمین کی بجائے بچوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ محکمہ کے جتنے بھی ملازمین اور افسران ہیں، سب کے سب انہی بچوں اور عوام کی خدمت پر مأمور ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم کو بھر پور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی ادارو ں کو لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور محکمہ تعلیم کی طرف سے کمیونٹی موبلائزیشن کے لیے بھر پور مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ تعلیم اور عوام مل کر نظام تعلیم کی بہتری کے لیے کوشش کریں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کے بچے کی تعلیم حکومتی ترجیح ہرگز نہیں ہے جس کا ہمیں گزشتہ کئی دہائیوں سے تجربہ ہے ۔ حکمرانوں کو آپ کے بچیوں سے زیادہ آپ کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کی فکر ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا بچہ پڑھتا بھی ہے یا نہیں؟ اس کے تعلیم کے لیے کتنی سہولیات درکار ہیں اور کتنا بجٹ ایک علاقے کے بچوں کو بہتر تعلیم دینے کے لیے درکار ہیں۔ آپ کے نظام تعلیم کے بننے اور بگڑنے سے حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ قوم ان پڑھ ہی رہے۔ اسی لیے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بر عکس آپ کے بچے کی تعلیم کے لیے تیسری زبان کو لازمی قرار دیا گیاہے۔ اردو پاکستان میں اکثر شہریوں کی دوسری زبان ہے اگرچہ یہ ہماری قومی زبان ہے۔ ہر علاقے کی اپنی مقامی بولی ہوتی ہے اور اردو بھی 90فیصد سے زیادہ پاکستانی بچوں کو سکھانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ ہماری مادری زبان نہیں ہے۔ اور ہمارے ہاں تو 100فیصد بچوں کو اردو سکھانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اردو کو ہمارے ہاں دوسری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اکثر والدین نا خواندہ ہیں اور گھروں میں اردو بولی اور سمجھی نہیں جاتی۔ اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنا بھی ہمارے بچوں کے لیے مشکل کام ہے۔ اور تعلم کے عمل میں ہمارے بچوں کی زیادہ توانائی زبان دانی میں خرچ ہو جاتی ہے اور تعلیم تک پہنچنے سے پہلے ہی بچہ مار کھا جاتا ہے۔ ایسے میں اردو کی بجائے انگریزی زبان میں تعلیم دینا کہاں کی عقلمندی ہے سوائے اس کے کہ قوم کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازش کے۔

اگر ہم پڑوسی ملک چائنہ اور ایران کی طرف دیکھیں جنہوں نے مختصر عرصے میں ترقی کی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ اگر انگریزی زبان سے ترقی آنی ہوتی تو آج پاکستان کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں چین اور ایران سے بہت آگے ہونا چاہیے تھا کیونکہ پاکستانی ایرنیوں اور چینیوں سے بہت بہتر انگریزی بول سکتے ہیں۔ چائینہ میں اس وقت بھی میٹرک لیول کے بچے انگریزی میں بنیادی بول چال کے جملے کیا، ہندسے یاچیزوں کی قیمتیں بھی نہیں بول سکتے۔ لیکن ترقی میں وہ ہم سے بہت آگے ہیں۔ کیونکہ ان کو میٹرک تک کی تعلیم ان کی اپنی صوبائی زبان میں دی جاتی ہے۔ میٹرک کے بعد کی پوری تعلیم چائینیز میں دی جاتی ہے۔ اس مقصد لے کیے ان کو شروع سے چینی زبان سکھانے لیے ایک مضمون لازمی ہے جیسے ہمارے ہاں کلاس نرسری سے ہی اردو اور انگریزی لازمی ہے، اور بچہ میڑک تک قومی زبان کو سیکھ لیتا ہے اور اعلیٰ تعلیم چینی زبان میں سیکھنا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو انگریزی سیکھنے کی ضرورت پیش آئے تو کہیں سے بھی چھ ما ہ کا ڈپلومہ یا ایک سال کا سر.ٹیفیکیٹ کورس کر لیتے ہیں اور بہترین انگریزی بھی بول لیتے ہیں، پڑھ لیتے ہیں اور لکھ لیتے ہیں۔ ایران میں شروع سے آخر تک کی تعلیم فارسی زبان میں دی جاتی ہے۔ انگریزی کو وہ صرف زبان کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے اور حال ہی میں شروع کیا ہے۔ لیکن تعلیم فارسی میں ہی دی جاتی ہے۔

اسی طرح ہم دنیا کی دیگر ترقی یافتہ قوموں کی تعلیمی زبان کا مطالعہ کریں تو ہمیں کہیں بھی انگریزی زبان بطور تعلیمی زبان نظر نہیں آئے گا سوائے انگریزی ابان بولبے والے ممالک کے۔ انگریزی ضرور سیکھیں گے لیکن مکمل تعلیم اپنی قومی زبان میں حاصل کریں گے۔ میرا مقصد انگریزی زبان کی مخالفت ہے نہ انگریزی زبان کی اہمیت سے انکار بلکہ میرا مقصد حکومت کی عوام دشمن پالیسی پر بات کرنا ہے۔ ہر ذی شعور شخص اپنی جگہ پر سوچ سکتا ہے اور تجزیہ کر سکتا ہے کہ اگر بچے کو اُس زبان میں تعلیم دی جائے جس زبان کو وہ سمجھ ہی نہی سکتا تو وہ سیکھے گاکیسے؟ وہ کیسے امتحان پاس کرے گا؟امتحان پاس کرنے کے لیے ہم نے شارٹ کٹ نکالا ہے کہ بچوں سے پوری کتاب رٹوایا جائے۔ تعلیم سیکھنے کا نام ہے۔ علم سمجھنے کی چیز ہے، یاد کرنے یا رٹا لگانے کی نہیں۔ لیکن بچے اور اساتذہ اس سلسلے میں بے بس ہیں۔ ایجوکیشن پالیسی بنانے والے ہمارے آقا حضرات اُدھر بیٹھے ہیں، جن کے اپنے بچے پاکستانی نظام تعلیم والے کسی سکول میں نہیں پڑھتے۔ ان کے اپنے بچے یا تو باہر پڑھ رہے ہیں یا پاکستان کے اندر کسی امریکن سکول میں جہاں پاکستانی نظام تعلیم کی آلودہ ہوا بھی ان کے بچوں کو چھو نہیں سکتی۔ بھلا یہ لوگ آپ کے بچے کا کیوں سوچیں گے۔ وہ کیوں چاہیں گے کہ آپ کے بچے پڑھیں بلکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ قوم کے بچے زبان اور تعلیم کے درمیان پھنس جائیں۔ اور آزاد ملک میں بھی غلام کے غلام ہی رہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم قرار دیا اور رہی سہی کسر ہمارے مقامی وفاداروں نے پوری کردی۔ بھلا یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ بلتی ، شینا، بروشسکی اور وخی بولنے والے بچوں کو انگریزی زبان میں تعلیم دی جائے۔

ہمارے نظام تعلیم کو اکبر اٰلہ آبادہی نے درسِ کلرکی کہا تھا اور واقعاً درسِ کلرکی ہی ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کا اصل مقصد حکومتی امور چلانے کے لیے کلرکوں کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ اور اس مقصد میں ہمارانظام نہایت کامیاب بھی ہے۔ کلرکوں کی فوج تیار ہو رہی ہے۔ بقولِ اقبال شاہین بچوں کو خاک بازی کا درس دے رہے ہیں۔ ابال نے تو تعلیم کے مقاصد کو یوں بیان کیا تھا۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا

کیا ہمارا نظامِ تعلیم ہمیں صداقت، شجاعت اور عدالت کا درس دے رہی ہے؟ کیا ہمارا نظام تعلیم آنے والی نسل کے اندر قیادت و سیادت کی صلاحیتیں پیدا کر رہی ہے؟ یقیناًآپ کا جواب نفی میں ہوگا۔

مگر ہمارے پاس کوئی راستہ ہی نہیں۔ ہمارے پاس کوئی امریکن سکول سسٹم نہیں کہ جہاں ہم اپنے بچوں کو پڑھا سکیں نہ ہم ایسے مہنگے سکولوں کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ہماری مجبوری ہے کہ ہم آقاؤں کے مسلط کردہ نظام تعلیم ہی پر کاربند رہتے ہوئے اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ ہمارے آقاؤں کا حکم ہے کہ آپ نے پیپر ہر حال میں انگریزی میں ہی لکھنی ہے بصورت دیگر آپ کو فیل تصور کیا جائے گا اور سرٹیفیکیٹ نہیں ملے گی۔ اب ہم نے ان مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے۔ اسی سازشانہ پالیسی سے ہم نے اپنے لیے راستہ نکالنا ہے۔ اس مقصد کے لیے بہت زیادہ محنت اور وسائل درکار ہوں گے۔ تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری صرف کاغذات کی حد تک ہے اور وہ کبھی بھی آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ لہٰذا وسائل بھی نہایت محدود اور ناکافی مہیا کیے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وسائل مقامی طور پر مہیا کریں ۔ زیادہ سے زیادہ اپنے وسائل پر بھروسہ کریں اور حکومت کی طرف سے بہتری کی امید ضرور رکھیں، لیکن بھروسہ نہ کیا جائے۔

یہ وہ حقائق ہیں جن کا ادراک مقامی محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ عوام، عوامی نمائندوں، سول سوسائیٹی کے ارکان، سماجی کارکنوں اور معاشرے کے ہر فرد کو ہونا چاہیے۔ جب لوگوں کو ان حقائق کا ادراک ہو جائے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر قربانی دینے کے لیے میدان میں نہ آئیں۔ محکمہ تعلیم کو بھی لکیر کے فقیر بننے کی بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنے قومی مسائل کے حل کے لیے ، اپنے قوم کے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے اپنے عوام پر بھروسہ کریں ، عوام سے مدد مانگیں، اپنے لوگوں سے بھیک مانگیں تو انشاء اللہ تعلیمی انقلاب ضرور آئے گا۔ اس کی مثال ہمارے سامنے ہمارے اسماعیلی برادری ہیں کہ جنہوں نے حکومتی امداد کا انتظار نہیں کیا اور اپنے لوگوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے۔ اگر حکومتی تعلیمی پالیسی اور تعلیمی بورڈ قابل بھروسہ ہوتے تو ہمارے اسماعیلی برادری کو آغا خان ایجوکیشنل بورڈ کے قیام کی ضرورت نہ پڑتی۔ ہم سب کو ضرورت ہے اپنے اسماعیلی بھائیوں کی طرح اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اور خاص کر تعلیمی شعبے میں ترقی کے لئے کمر بستہ ہوں اور اپنے عوام کو ساتھ لیکر چلیں۔ انشاء اللہ ہمارے تمام تعلیمی مسائل حل ہو جائیں گے یہاں تک کہ انفراسٹرکچر اور اساتذہ کی کمی کے مسائل بھی۔

پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔