دیامر بھاشہ ڈیم کی زد میں آنے والے تمام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، تھک نیاٹ یوتھ مومنٹ کا مطالبہ

دیامر بھاشہ ڈیم کی زد میں آنے والے تمام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، تھک نیاٹ یوتھ مومنٹ کا مطالبہ

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(بیورورپورٹ)تھک نیاٹ یوتھ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام چلاس مین بازارمیں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں علماء عمائدین اور عوام لناس نے ہزاروں کی تعداد میں ریلیوں کی شکل میں شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہو ئے تھک نیاٹ یو تھ قومی موومنٹ کے صدر ضیا ء اللہ تھکوی ،نمبردار براق ،نمبر دار زبیر ،عبد المالک ،کا لا خان ،حاجی نو شیر ،تنویر احمد ،محمد تاج ،ثمر خان ،جعفر جمالی ،عبد اللہ شیر ،رحمت شاہ ، دیگر نے کہا کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے تمام متاثرین کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے ۔نام نہاد ڈیم کمیٹی عوام الناس ضلع دیامر و متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کی حقیقی نمائندہ نہیں ،لہذا مذکورہ کمیٹی کے ساتھ طے پائے جانے والے معاہدے ناقابل تسلیم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ واپڈا ماڈل ولیج تھک داس سے کسی اور موزوں متبادل جگہ منتقل کیا جائے ،کیونکہ اگر واپڈا ماڈل ولیج تھک داس میں بناتی ہے تو اس صورت میں پینتیس ہزار عوام الناس تھک نیاٹ بابوسر متاثر ہو ں گے ۔اس صورت میں متاثرین تھک نیاٹ احتجاج پر مجبور ہو جا ئنگے۔

مقررین نے کہا کہ ملکی مفاد کی خاطر دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں ضلع دیامر کے تمام نالہ جات اور قبائل نے بے مثال قربانیاں دی ہیں ۔حکو مت اور واپڈا تمام قبائل اور نالہ جات کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔مالکان تھک نیاٹ بابوسر کی اجتماعی شاملات بنجر ملکیتی ارضیات از حدود جیچن چشمہ بالا ،چشمہ پائین تا حلتشی دار بو نر کے درمیان واقع بنجر داسسز کے اندر 2007سے تا حال انتظامیہ اور واپڈا نے چند بااثر افراد کے ساتھ ساز باز کر کے خسرے جاری کیئے ہیں جو عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ،حکو مت مذکورہ بنجر ارضیات میں جو شخصی خسرے جاری کیئے گئے ہیں ان کسروں کو ختم کر کے بنجر ارضیات کو داسز کیٹگری میں شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تھک نیاٹ بابوسر کے پینتیس ہزار افراد ممکنہ اقتصادی راہداری ،ممکنہ بابوسر ٹنل ،ریلوے ٹریک ،وغیرہ جیسے میگا ریاستی منصوبوں کے سبب بری نرح متاثر ہو نے جا رہے ہیں حکو مت ان متاثرین کی بحالی کے حوالے سے بروقت اور موثر اقدامات کر ے ۔انہوں نے کہا کہ واپڈا کنسلٹیشن گزٹ میں دیامر بھاشہ ڈیم پرا جیکٹ کے 80فیصد متاثرین کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔جو کہ کسی صورت مناسب نہیں ہے ۔دیامر بھاشہ ڈیم کے اثرات سے تمام نالہ جات کی زراعت بری طرح متاثر ہو تی ہے ۔واپڈا اور حکو مت زرعی متاثرین کے نقصانات کے حوالے سے اقدامات کریں ۔ضلع دیامر میں جتنی اراضی دیامر بھاشہ ڈیم کی زد میں آئے گی اتنی ہی اراضی ملک کے دوسرے شہروں میں فراہم کی جائے ۔

مقررین نے متفقہ قراردار منظور کر تے کہا کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے سلسلے میں مزاکرات و معاہدات کی خاطر جو بھی کمیٹی بنائی جائے اس میں تمام نالہ جات اور قبائل کی آبادی کے تناسب سے نمائندگان کا چناؤ کیا جائے تاکہ دیامر ڈیم کی تعمیل و تکمیل کے مراحل میں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاجی سلسلوں اور رکاؤٹوں کا احتمال نہ ہو ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔