تبلیغی جماعت 

تبلیغی جماعت 

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر محمد زمان داریلی 

مولانا محمد الیاس صاحب نے 1926میں تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی تھی۔ ایک فرد کی شروع کی گئی تحریک اب کروڑوں افراد کا ایک قافلہ بن چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 15کروڑ افراد اس جماعت کے نظریاتی ممبر(تبلیغی زبان میں ساتھی) بن چکے ھیں اور دنیا کے کم و بیش 196 ملکوں میں تبلیغ کا کام باقائدگی سے چل رہا ھے.

اس جماعت کے چھ بنیادی اصول ہیں.۔۔۔۔۔
1)۔۔۔کلمہ

2)۔۔۔۔۔۔نماز

3)۔۔۔۔۔۔۔ علم وذکر

4)۔۔۔۔۔۔۔۔اکرام مسلم

5)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اخلاص نیت

6)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعوت وتبلیغ

ان چھ اصولوں کو ایک کتابی شکل دی گئ ھے جس کو فضائل اعمال یا تبلیغی نصاب کہا جاتا ھے اس میں قرآن اور حدیث کی باتیں ہیں۔  گویا کہ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تبلیغی جماعت کا سلیبس ھے.

اس جماعت کو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت چلاتے ھیں یہ جماعت کسی سے چندے اور ہدیے نہیں لیتی ھے۔ 

اس کی کوئی باقائدہ ممبر شپ نہیں ھوتی ھے.

اس جماعت کی ابتدا بر صغیر پاک وہند سے ھوا تقسیم کے بعد پاکستان میں 1947 میں کام شروع ھوا تھا اب دنیا میں سب سے بڑا اجتماع بنگلہ دیش کے بعد پاکستان پھر انڈیا میں ھوتا ھے.

تبلیغی بیرون ملک جماعتوں کا سلسلہ 1946 میں شروع ھوا تھا جس کی پہلی جماعت سعودی عرب اور برطانیہ کے لیے نکلی تھیں .

اس جماعت کا تبلیغ کا طریقہ کار یہ ھے کہ پہلے 3دن، پھر ایک چلہ تین چلہ(چلہ 40دن کا ھوتا ھے).

پھر ایک سال کی جماعت اس طرح ہر سال ایک چلہ تبلیغ سے واپسی پر روزانہ مسجد میں انھی چھ نمبروں پر مشتمل تعلیم روزانہ گھر میں تعلیم تاکہ گھر میں بھی دینی ماحول پیدا ھو گھر کی خواتین بھی دینی ماحول میں جڑ سکے 

اپنے محلے میں ھفتہ وار ایک گشت اور ایک گشت دوسرے محلے میں ان کا پیغام، “مسلمانو! مسلمان بنو”

یہ اسلام کے بنیادی فرائض سنتوں واجبات مستحبات کو سکھاتے ہیں .

دنیا کے بے شمار جگہوں میں نام کے مسلمان تو تھے پر کسی کے وفات پانے پر جنازے کے بغیر دفنایے جاتے تھے پر تبلیغ والوں کی محنت جہاں جہاں پہنچی ھے وہاں لوگ اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقف ھو چکے ھیں .

تبلیغ والوں کی سب سے اچھی بات یہ ھے کہ ان کی تعلیمات میں تفرقہ بازی نہیں 

دوسرا یہ مزہبی اور سیاسی بحث مباحثہ نہیں کرتے ہیں۔  کوئی بحث کرنا بھی چاہے تو ایک خوبصورت جملہ کہتے ہیں کہ بحث  ہم نہیں کرتے یہ فتوے دینا علما کا کام ھے جس سے ان کے لیے ہر مذھبی فرقے میں ان کے لیےنرم گوشہ ھے.

تیسری بات یہ اپنی تقاریر میں سیاسی باتیں نہیں کرتے یہ شخصیات پر کبھی بات نہیں کرتے حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ 

حکومتی معملات کو زیر بحث نہیں لاتے جس پر ان پر تنقید بھی کی جاتی ھے لیکن وہ کہتے ھیں ہمارا مقصد نظام حکومت بدلنا نہیں بلکہ نظام زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھلنا ھے جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ھوے ھیں .

باچا خان یونورسٹی واقعہ کے بعد میاں برادران نے سکولوں اور کالجوں میں تبلیغی جماعتوں پر پابندی لگادی۔ حادثہ کے پی کے میں ھوتا ھے تبلیغی جماعتوں پر پنجاب میں پابندی لگتی ھے۔ 

میاں برادران کی بھی عجب منطق ھے۔ خود میاں نوازشریف کئ مرتبہ تبلیغ میں جاچکے ھیں ان کے اپنے سگھے بھائ مرحوم عباس شریف ساری زندگی تبلیغ میں رہے۔ 

میاں صاحبان کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باہر سے تو جماعتوں پر تو پابندی لگا دو گے، پر ان اداروں کے اندر جو طلبا ہزاروں کی تعداد میں اس کام میں جڑے ہیں ان کا کیا کرو گے.

اپنی کوتاہیوں کا الزام دینی کام کرنے والوں پر لگا کے آپ اپنی زمہ داریوں سے بری الزمہ نہیں ھو سکتے.

تبلیغی جماعت والے ہی تو ہیں جنھوں نے گلگت میں فرقہ واریت کے کشیدہ ماحول میں امید کی کرن پیدا کی ھے.

آپ امن کے داعیوں کو کام کرنے دیں۔ اس پابندی کو فوراً ختم کرو ورنہ اللہ کا نظام تو چلتا رھے گا۔ فرعون لاکھ چاھتے ھوے بھی موسیٰؑ کی پیدائش نہیں روک سکے تھے اور فرعون کے گھر میں موسیؑ کی پرورش اللہ نے کروائ اور وہی موسیؑ بعد میں فرعون کی تباہی وبربادی کا سبب بنا تھا (ومکرو ومکراللہِ واللہُ خیرالماکرین)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔