کریمی کو مبارکباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حادثہ یک دم نہیں ہوتا!

کریمی کو مبارکباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حادثہ یک دم نہیں ہوتا!

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد الکوہستانی

بالاخر وہی ہوا ، جس کاڈر تھا ، شکل وصورت سے انتہائی شریف دکھنے والا ضلع غذر کے معروف لکھاری اور ہمارے بے تکلف دوست ” عبد الکریم کریمی نے لگے ہاتھوں دوسری واردات کرڈالی ، یک نہ شد دو شد ، لیکن یہ واردات قلبی اور قلمی بالکل نہیں ، بلکہ ”ابادی میں اضافہ ” اور جی بی کو آئینی حقوق کے بدلہ ملنے والی ” گندم کے خلاف ایک اور سازش” کی صورت میں ہے ! آخری اطلاعات تک موصوف ایک ” نورںظر” کے بھی والد بن گئے ، ادب ، شعر شناس اور واعظ تو تھے ہی ، اب خیر سے وہ دو دو بچوں کے باپ بھی بن گئے ، اس لیئے سب سے پہلے تو موصوف کو ڈھیر ساری مبارک باد اور نیک تمنائیں ، اور یہ بے محل سا شعر بھی
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
” حادثہ ” یک دم نہیں ہوتا!
کریمی کو جب سے ” عمر قید ” ( رشتہ ازدواج ) کی سزا ہوئی ہے ، تو میرے سمیت کئی دوستوں اور نامی گرامی لوگوں نے ان کو مبارکبادیں دی تھیں ، لیکن ان میں سے جو ” شادی زدہ ” تھے ، وہ مبارکباد دیتے ہوئے زیر لب مسکرا بھی رہے تھے ، اور ساتھ ہی ساتھ کھوار زبان میں کہ رہے تھے ” بردو کفنو سوم خوشان ، گورو عذابوسار کیہ خبر” ( یعنی عذاب قبر سے غافل مردہ نیا کفن دیکھ کر خوشی سے پھو لے نہیں سماتا ، ) پھر اس کے بعد سے موصوف نے اپنی ” شبانہ و روز کاوشیں ” جاری رکھیں اور آج ماشاء اللہ وہ بڑے فخریہ انداز میں سینہ پھیلا کر کہ سکتے ہیں ” : ہم بھی ”صاحب اولاد ” ہوگئے ہیں ، گوکہ ابھی ابتدا ئے عشق ہے ان کو اتنا محسوس نہیں ہو گا۔ لیکن اللہ پاک ان کے بچوں کو لمبی زندگی دے تو بہت جلد ان اپنی ”غلطیوں ” کا احساس ہوجائے گا، خاص کرجب اشکومن کی ٹھنڈی ہوائیں اپنے جوبن پہ ہوں ، دسمبر ، جنوری کی سرد اور برفانی راتوں میں ، کریمی یاک کے خالص اون کی بنی ہوئی رضائی اوڑھے سورہے ہوں ، ابھی عالم خواب میں پہنچے ہی ہوں کہ گلستان کریمی کی دونوں بلبلیں اچانک چہچہانا شروع کردیں ، اور بیک آوز ہوکر کچھ مانگنے یا ” احتجاج” کرنے لگ جائیں ، اور ساتھ میں یہ بھی ضد کریں کہ ” بابا” کے ہاتھ سے لین گے ، اس وقت کریمی بڑبڑاتا ہوا اٹھے ، اور ٹھٹھرتے ہوئے لحاف سے باہر نکل جائیں ، اوپر سے لوڈ شیڈنگ ہو ، اور اندھیرے میں بیڈ سے ان کا گھٹنہ ٹکرائے ، ادھر وہ درد سے سی سی کر رہے ہوں اور ادھر بچے چپ ہونے ہونے کا نام ہی نہ لیں ، یا مہینہ کا اخر چل رہاہو ، اور جیب شاں شاں ” کر رہی ہو ، لیکن ” بے بی پاوڈر، پمپرز ” کی فرمائش بلکہ ” آڈر” ہوجائے خ کریمی گھبرا کر ایک نظر اپنی خالی جیب اور دوسری ” فرمائشی لسٹ پر ڈالے ، اور سرکھجانے لگ جائے ، تو لطف ہی دوبالا ہوجائےگا ،اور رہ رہ کر یہ چترالی کہاوت کریمی کے کانوں میں گونجے گی ” تان کاردو و ویز نیکی ( یعنی اپنے کئے کا علاج نہیں ) بہر حال طنز ومذاح سے ہٹ کر کریمی کو بار دیگر فرزند ارجمند کا تولد مبارک ہو ، ایک طرف حکومت پاکستان نے جی بی میں ٹیکس نافذ کردیا ، اور ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصہ پر گندم پر سے سبسڈی بھی ختم کردے ، اور دوسری طرف کریمی کی یہ حرکتیں ، آیئے اس خوشی کے موقع پر ضمیر جعفری کے چند الفاظ گنگناتے ہیں :
شوق سے لخت جگر ، نور نظر پیدا کرو!
ظالمو!تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو
میں بتاتا ہوں زوالِ ا ہلِ یورپ کا پلان
اہلِ یورپ کو مسلمانوں کے گھر پیدا کرو
حضرتِ اقبال کا شاہیں تو ہم سے اُڑ چکا
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔