ایک کھلا خط ۔۔۔۔۔۔۔ میرے مظلوم کشمیری بھائیو!!

ایک کھلا خط ۔۔۔۔۔۔۔ میرے مظلوم کشمیری بھائیو!!

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر محمد زمان داریلی

میرے مظلوم کشمیری بھائیو!

السلام علیکم. امید ھے کہ آپ لوگ مزے میں ھونگے۔

آپ لوگ بھی عجیب ھیں، ہم پر آپ کی وراثت کا دعویٰ تو ھے، پر نہ خود کفالت کرتے ھو نہ پاکستان کو کرنے دیتے ھو، اور نہ ہمیں خود اپنے پاوُں پر کھڑے ھونے دیتے ھو.

68 سال سے آپ نےعجیب تماشا لگایاھوا ھے۔ بلکہ، ھمیں تو اب لگنے لگا ھے کہ ہمیں آپ نے بندر تماشہ بنایا ھوا ھے.

جب بھی ہمیں حقوق دینے کی بات شروع ھوتی ھے عین اسی وقت آپ کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اور آپ ایک روایتی رٹا رٹایا جملہ دہراتے ہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ھے جب تک کشمیر کا مسلہ حل نہیں ھوتا تب تک گلگت بلتستان کو کچھ بھی نہیں بنایا سکتا۔

واہ! کیا منطق ھے آپ کی!

کشمیر کی آذادی کی  تحریک جس انداز سے چل رھی ھے اس سے تو لگتا ھے اسرافیلؑ کے صور پھونکنے تک کشمیر کی آذادی مجھے دور دور تک نظر نہیں آرہی ھے، کیونکہ آپ کشمیر کی آزادی اخباری بیانات کے ذریعے سے مانگتے ھو، یا پھر امریکہ کی لونڈی اقوام متحدہ سے مانگتے ھو۔

وہ تو اپنے جھمیلوں میں مگن کہاں فرصت ان کو!  

چلو آپ کی بات تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ھیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ھے، تو کوئئ بتائے گا کہ کشمیر کے حکمرانوں نے کتنی بار بطور صدر اور وزیر اعظم نے گلگت بلتستان کا سرکاری دورہ کیا ھے؟ کتنے گلگت بلتستان والوں کو کشمیر میں ملازمتیں دی ہیں؟ کتنے گلگت بلتستان والو کو چاھتے ھوے بھی سٹیٹ سبجیکٹ رول کا بہانہ بنا کے زمین خریدنے نہیں دی گئ؟

یکم نومبر، جو کہ گلگت بلتستان کی یوم آذادی ہے، کشمیر میں کتنی بار سرکاری طور پر منایا گئی ہے؟ اور کتنی بار یوم آذادی گلگت بلتستان پر کشمیر میں سرکاری چھٹی کی گئی ہے؟ یا کوئئ سرکاری یاعوامی طور پر سیمینار یا تقریب منعقد کی گئی ہے؟

اس کے بر عکس گلگت بلتستان والے کشمیر سے متعلق ہر سال جیسا کہ اب 5 فروری آنے والا ھے کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ھیں۔ سکول کے ننھے بچے تک یہ نعرے لگاتے ھیں کہ کشمیر کی آزادی تک جنگ رھے گی۔ جنگ کے فلک شگاف نعرے مار مار کے اپنے آپ کو ہلکان کر دیتے ھیں .

کتنی بار گلگت بلتستان میں قدرتی آفات زلزلے سیلابوں بارشوں نے تباہی مچا دی لیکن کشمیر کی حکومتوں اور عوام کی طرف سے کوئی ایک آنے کا امداد تک نہیں دی گئ۔ پھر یہ کیسےآپ کا حصہ ہے؟

چلیں، آپ کی بات مان لیتے ہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ھے۔ آپ کی آبادی زیادہ ھے۔ گلگت بلتستان کا رقبہ اسمبلی کی سیٹوںں کو برابر تقسیم کرتے ہیں، صدر ایک جگھے کا وزیر آعظم دوسری جگہے کا۔ چھ ماہ دارالحکوت گرمیوں میں گلگت چھہ ماہ دارالحکومت مظفر آباد!

یہ بھی آپ کو منظور نہیں تو آو سب مل کے آذادی کشمیر کی آذادی کے لیے جانی مالی قربانی کا ایک اور کراچی معاہدہ کرتے ہیں تم بھاگے تو کشمیر ہمارا ہم بھاگے تو گلگت بلتستان تمہارا۔

صرف دعوؤں اور اخباری بیانات سے دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی کو آذادی نہیں ملی ہے۔ 

کشمیری بھائیو بس کرو ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دو۔ ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ کرے آپ کو آذادی مل جائے۔

اپنی غلامی کو ہماری آزادی کے ساتھ جوڑ کر ہمارے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈالو۔

آپ کا یہ اخباری بیانات کے ذریعے کئے جانے والا وراثت کا دعوی گلگت بلتستان میں نفرتوں کے بیج بو رھا ھے جس سے کشمیر کی آذادی کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ھوگا۔

اللہ نہ کرے ایسا ھو .خدا را حوش کے ناخن لو ہمیں بھی جینے کا حق دو۔

وسلام
عوام سرزمین بے آئین
گلگت بلتستان

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔